امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید جنگی جہاز اور 5 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، رپورٹ کے مطابق یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے اقدامات کر رہا ہے۔
اخبار کے مطابق 5 ہزار میرینز اور نیوی اہلکاروں کے ساتھ کئی جنگی بحری جہاز تعینات کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے کئی ممالک کیلئے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور اس میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز نومنتخب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ہماری زمینی اور سمندری سرحدیں 15 ممالک کے ساتھ ملتی ہیں اور ہم ہمیشہ ان سب کے ساتھ گرمجوش اور تعمیری تعلقات رکھنے کے خواہاں رہے ہیں۔حالیہ جارحیت میں کچھ فوجی اڈے استعمال کیے گئے جیسا کہ ہم پہلے واضح طور پر خبردار کر چکے تھے اور ہم نے صرف انہی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جو دشمن کے زیر استعمال تھے اورآئندہ بھی ہمیں یہی طریقہ جاری رکھنا پڑے گا۔