میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی

سید سلمان گیلانی ٹی وی چینلز کی اسکرین پر مزاحیہ اشعار سناتے نظر آیا کرتے تھے لیکن دینی حلقوں میں اُنکی پہچان ایک نعت گو شاعر کی تھی۔ وہ جب اپنی نعت شاعرانہ ترنم سے پڑھا کرتے تو جناب مفتی تقی عثمانی صاحب جیسے پرستار داد کیساتھ ساتھ نقد انعام بھی دیا کرتے اور پھر مفتی صاحب کے عقیدتمند نقد انعام والا نوٹ سید سلمان گیلانی سے لیکر اپنے بٹوے میں محفوظ کر لیتے کہ گیلانی صاحب اس بابرکت نوٹ کو غلطی سے کہیں خرچ نہ کر ڈالیں۔ ایک دفعہ تو مفتی تقی عثمانی صاحب نے سید سلمان گیلانی کو خود فرمائش کرکے دارالعلوم کراچی میں بلوایا اور اپنے طلبہ کیساتھ بیٹھ کر اُنکا کلام سنتے رہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی صاحب بھی بڑے اچھے شاعر ہیں لہٰذا اس محفل میں گیلانی صاحب بھی فرمائش کر کے مفتی صاحب سے اُنکی نعتیں اور غزلیں سنتے رہے۔ گیلانی صاحب نے اپنی خود نوشت ’’میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی‘‘ میں اس محفل کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اُنکی یہ خود نوشت کچھ عرصہ قبل علامہ عبدالستار عاصم نے شائع کی تھی۔ اس رمضان المبارک کے آغاز میں سید سلمان گیلانی دنیا سے رخصت ہوئے تو میں نے اُنکی خود نوشت کو دوبارہ پڑھنا شروع کیا اور پرانی یادیں تازہ کرتا رہا۔ سید سلمان گیلانی صاحب کو میں پہلی دفعہ تیس سال قبل ملا تھا ۔

اُن سے ملاقات اکثر کسی کشمیر کانفرنس یا سیمینار میں ہوتی جہاں وہ اپنی نعت پیش کیا کرتے اور کبھی کبھی اپنی خطیبانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کرتے۔ مجھے اُنکے ساتھ اندرون ملک بہت لمبے لمبے سفر کرنے کا بھی موقع ملا۔ کبھی مفتی نظام الدین شامزئی شہید کبھی مولانا عبد المجید ندیم شاہ، کبھی مولانا فضل الرحمان خلیل اور کبھی مولانا فضل الرحمان بھی ہمسفر تھے اور ہر سفر میں وہ ہماری فرمائشوں پر صرف اپنا نہیں بلکہ دوسروں کا کلام بھی سنایا کرتے۔

ایک سفر میں انہوں نے اپنا مزاحیہ کلام سنانا شروع کر دیا۔ مزاحیہ شاعری پر وہ زیادہ توجہ دیتے اور نہ ہی محنت کرتے لیکن اس پر انہیں داد بہت ملتی تھی۔ میں نے یہ مزاحیہ کلام سن کر انہیں کسی عید شو میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اُنکے والد محترم جناب سید امین گیلانی بھی اپنے وقت کے بڑے اچھے شاعر تھے۔ 1982 ء میں سید امین گیلانی نے ایک جلسے میں جنرل ضیاء الحق کیخلاف ایک نظم پڑھی اور فوجی عدالت سے سزا پائی۔ والد کی طرح وہ بھی کئی دفعہ جیل گئے۔

ٹی وی اسکرین پر انکی مزاحیہ شاعری سننے والے کچھ ناظرین کے خیال میں وہ کوئی گمراہ مولوی تھے لیکن وہ نہ تو گمراہ تھے نہ ہی مولوی تھے بلکہ اُنکے اندر ایک مجاہد چھپا ہوا تھا اور انہوں نے کئی مرتبہ ختم نبوت کے محاذ پر بڑا مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ اُنکی سیاسی وابستگی جمعیت علماء اسلام کیساتھ تھی۔ میری اُن سے آخری ملاقات بھی مولانا فضل الرحمان کے ہاں ہوئی جہاں وہ کافی دیر تک اپنا مزاحیہ کلام سنا کر ہمیں ہنساتے رہے۔ ’’میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی‘‘ پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ سید سلمان گیلانی حق گو مجاہد کیساتھ ساتھ ایک صوفی بھی تھے جس نے اپنی خود نوشت میں دراصل اپنی ذات کی نفی کی ہے۔

یہ کتاب اُنکے اپنے بارے میں کم اور کچھ بزرگوں کے بارے میں زیادہ ہے جن کیساتھ اُنکا روحانی تعلق تھا ۔ انکی کتاب میں مولانا عبد اللہ درخواستی اور خواجہ خان محمد صاحب کے بارے میں ایسے واقعات بیان کئے گئے ہیں جو کچھ اہل دانش کے خیال میں مافوق العقل ہو سکتے ہیں لیکن سید سلمان گیلانی کچھ واقعات کے خود عینی شاہد تھے۔ زیادہ تر واقعات مولانا عبد اللہ درخواستی کے بارے میں ہیں جن کیساتھ ختم نبوت تحریک میں انکا بہت وقت گزرا۔ ایک دفعہ سید سلمان گیلانی انکے ہمراہ گلیات کے کسی پہاڑی علاقے میں گئے۔

حضرت درخواستی نے اُنہیں تاکید کی کہ اِدھر اُدھر مت جانا کیونکہ یہ جنات کا علاقہ ہے۔اس زمانے میں سابق ایم این اے جاوید ابراہیم پراچہ ایک نوجوان سٹوڈنٹ لیڈر تھے اور جنات سے نہیں گھبراتے تھے ۔ سید سلمان گیلانی اور پراچہ صاحب پیدل ہی ایوبیہ چیئر لفٹ دیکھنے چل پڑے۔ اس سفر سے واپسی میں ان نوجوانوں کو دیر ہو گئی تو حضرت درخواستی فکر مند ہوئے ۔ انہوں نے اللہ کی کسی مخلوق کو کبھی ایک بوڑھی عورت اور کبھی چڑیا بنا کر ان نوجوانوں کا اتا پتہ معلوم کرنے بھیجا۔ یہ سب واپس آئے تو پوچھنے پر حضرت درخواستی کو بتایا کہ ہم تو یہیں قریب ہی چہل قدمی کر رہے تھے۔ غلط بیانی سن کر حضرت جلال میں آگئے اور بتایا کہ تم تو ایوبیہ گئے تھے اور یہ بھی بتا دیا کہ تم نےچیئر لفٹ کا ٹکٹ کتنے میں خریدا۔جھوٹ پکڑے جانے پر یہ سب معافی مانگ کر اپنے کمرے میں چلے گئے تو اللہ کی وہی مخلوق کبھی چڑیا اور کبھی کمبل پوش انسان بن کر وہاں بھی موجود تھی ۔

پراچہ صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میدانی علاقوں کی چڑیا ان برفانی علاقوں میں نہیں آتی یہ چڑیا نہیں کوئی جن ہے ۔ پھر وہ جن انسان بنکر اُنکے درمیان بیٹھ گیا ۔ جاوید ابراہیم پراچہ نے اُسے اُسکے مرشد حضرت درخواستی کا واسطہ دیکر کہا کہ ہماری جاسوسی بند کر دو ہم آئندہ حضرت کیساتھ کبھی وعدہ خلافی نہیں کریں گے اور اس مخلوق سے جان چھوٹی۔ اس قسم کے کئی واقعات سید سلمان گیلانی کی خود نوشت میں موجود ہیں لیکن انہوں نے جن بزرگوں کیساتھ اپنے روحانی تعلق پر فخر کا اظہار کیا ہے وہ درویش دولت کے پجاری نہیں تھے۔ کالے جادو سے دور تھے۔ مولانا عبداللہ درخواستی وفات سے ایک رات قبل بیماری اور ضعف کے باوجود آخری لمحات میں سید سلمان گیلانی سے حمدیہ اور نعتیہ کلام سنتے رہے ۔ انکی خود نوشت کا ایک اور خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی شاعری میں اکثرنواسہ رسولﷺ حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ اپنی بھر پور محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ دیوبندی علماء کی محفلوں اور جلسوں میں ببانگ دہل ذکر حسین کے ذریعے ظلم کیخلاف مزاحمت کا پیغام دیا کرتے ۔ اُنہوں نے کتاب میں مولانا شاہ احمد نورانی اور قاضی حسین احمد سمیت کئی علما کے ساتھ بھی اپنی محبتوں کا ذکر کیا ہے ۔

مولانا عبدالمجید ندیم شاہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک دفعہ شاہ صاحب اور علامہ احسان الہی ظہیر مدینہ منورہ میں اکٹھے ہو گئے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے مرقد پر کھڑے ہو کر علامہ احسان الٰہی ظہیر نے دعا مانگی کہ یا اللّٰہ مجھے موت کے بعد سیدنا عثمانؓ کے قدموں میں جگہ ملے تو شاہ صاحب نے آمین کہا تھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر لاہور میں ایک بم دھماکے کا نشانہ بنے اور شہادت کے بعد انہیں تدفین جنت البقیع میں سیدنا عثمان ؓکے قرب میں نصیب ہوئی ۔

اُنکی خود نوشت میں ایک راز یہ بھی بے نقاب کیا گیا کہ کس طرح مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا تاج محمود اور آغا شورش کاشمیری نے ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ ملکر 1974 ء میں ختم نبوت کا مسئلہ حل کیا۔ سید سلمان گیلانی نے خود مولانا مفتی محمود کی زبان سے بھٹو کو پھانسی دینے کی مخالفت سنی۔ انہوں نے بھٹو صاحب کے جوڈیشل مرڈر کو شہادت قرار دیا۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ مولانا فضل الرحمان مسئلہ فلسطین پر تقریر کیلئے اقوام متحدہ گئے تو انہیں ایک سرکاری تقریر لکھ کر دی گئی جو طنطنے اور وَلولے سے خالی تھی۔ مولانانے یہ تقریر کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد اُنکا بریف کیس چوری کر لیا گیا لیکن تقریر محفوظ رہی۔ پھر مولانا نے عربی میں تقریر کر کے فلسطین پر عالمی طاقتوں کی منافقت بے نقاب کر کے بے پناہ داد سمیٹی۔ گیلانی صاحب نے اپنی کئی کامیابیوں کو درود شریف کے فیوض و برکات قرار دیا ہے۔ درود ابراہیمی پڑھنے کا یہ وظیفہ انہیں خواجہ خان محمد صاحب نے تجویز کیا تھا تاکہ انہیں زیارتِ حرمین شریفین نصیب ہو۔ پھر انہیں یہ زیارت 36مرتبہ نصیب ہوئی ۔ آپ بھی درود شریف پڑھیں اور سید سلمان گیلانی کی مغفرت کیلئے دعا کریں۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے