پنجاب: آبی بحران سے دیوالیہ پن تک

لاہور میں ایک دوست نے بتایا کہ ان کے محلے میں نیا ٹیوب ویل لگانا پڑا ، پرانا 150 فٹ گہرا تھا، نیا 250 فٹ۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا: "پانی بھاگ رہا ہے۔” مگر یہ مذاق نہیں یہ ایک خاموش ہنگامی صورتحال ہے جو ہر سال، ہر موسم، ہر کھیت میں گہری ہوتی جا رہی ہے۔ نئے کنویں کی ضرورت اس لیے پڑ رہی ہے کیونکہ زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور دستیاب پینے کے پانی تک پہنچنے کے لیے زیادہ گہرائی کی ضرورت ہے۔

چند دہائیاں پہلے پنجاب کے زیادہ تر شہروں میں پانی چند فٹ کی گہرائی پر دستیاب ہوتا تھا۔ آج وہی شہر سینکڑوں فٹ گہرے ٹیوب ویل کے بغیر پانی تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ محض تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک واضح اشارہ ہے کہ پانی کے وسائل کی کھپت اس رفتار سے ہو رہی ہے جس رفتار سے وہ دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتے ہم پانی کے دیوالیہ پن کے کنارے کھڑے ہیں۔

زیرِ زمین پانی کی سنگین صورتحال

2004 سے 2024 تک پنجاب کے 30 اضلاع میں پانی کی سطح گر چکی ہے، جن میں 27 میں کمی شدید رہی۔ لاہور میں پانی کی سطح 31 فٹ سے گھٹ کر 79 فٹ تک پہنچ گئی، پاکپتن میں 44 فٹ اور ملتان میں 32 فٹ گر چکی ہے۔ وسطی پنجاب میں ہر سال 5–9 فٹ کمی ہوتی ہے، اور جنوبی اضلاع میں نمکین پانی نے 60–70 فیصد ذخائر کو ناقابلِ استعمال بنا دیا ہے۔ ڈی جی خان اور راجن پور میں فوسل ایکویفرز ناقابلِ واپسی طور پر خالی ہو رہے ہیں۔

پنجاب ہر سال تقریباً 55–60 ملین ایکڑ فٹ زیرِ زمین پانی نکالتا ہے، جبکہ قدرتی طور پر صرف 3–5 ملین ایکڑ فٹ دوبارہ بھرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں منگلا اور تربیلا میں صرف 13.6 ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے پنجاب کے سالانہ نکاس کا صرف ایک تہائی حصہ۔ اس غیر متوازن صورتحال نے کسانوں کی زندگی مشکل اور شہریوں کے لیے پینے کا پانی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

زرعی پالیسی اور پانی کی شدت

پنجاب میں 1.4 ملین ٹیوب ویل زیرِ زمین پانی نکال رہے ہیں، زیادہ تر گنا اور باسمتی چاول کے لیے، جو انتہائی پانی طلب فصلیں ہیں۔ ایک کلو باسمتی چاول کے لیے 3,500 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے، جبکہ گنے کی پیداوار عالمی معیار سے کم ہے مگر 35 فیصد زیادہ پانی استعمال کرتی ہے۔ نتیجہ: زیرِ زمین ذخائر کی کمی، زمین کی نمکیات میں اضافہ، پیداوار میں کمی، اور کسان کی آمدنی کا 25–40 فیصد زیادہ خرچ۔ مظفر گڑھ میں 60 فیصد بچے آرسینک سے متاثر ہیں، اور تقریباً ایک چوتھائی کنویں زہریلے ہو چکے ہیں۔

فصلوں کا مناسب انتخاب اور زوننگ

شمالی پنجاب: بارش پر انحصار کرنے والی فصلیں باجرا، جو، دالیں، چنے، زیتون۔

وسطی پنجاب: گندم، مکئی، آلو، سرسوں، کینولا؛ چاول اور گنے کی کاشت محدود۔

جنوبی پنجاب: کپاس، سورج مکھی، کھجور، آم، ترشاوہ پھل، دالیں؛ گنے کی کاشت مرحلہ وار کم کی جائے۔

جدید آبپاشی اور پانی کی بچت

ڈرپ اور اسپریںکلر سسٹم پر سبسڈی، فلڈ اریگیشن پر پابندی۔

ٹیوب ویل لائسنسنگ، میٹرنگ، اور سیٹلائٹ/سینسر مانیٹرنگ۔

قانونی اور انتظامی اقدامات

پنجاب واٹر ایکٹ 2019 اور پنجاب آبپاشی، نکاسی اور دریاؤں کا ایکٹ 2023 کے تحت زیرِ زمین پانی ریاستی ملکیت میں۔

غیر قانونی کنویں بند کرنا، سالانہ ریچارج منصوبے، اور ایمرجنسی میں پانی کی ترجیح پینے کے پانی اور کم پانی والی فصلوں کو دینا۔

زرعی اور اقتصادی اصلاحات

کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کے لیے نقد سبسڈی اور سپورٹ پرائس۔

مارکیٹ ڈویلپمنٹ اور پروسیسنگ میں سرمایہ کاری۔

کسانوں کے لیے ٹریننگ اور پائلٹ فارمز تاکہ جدید آبپاشی اور متبادل فصلوں کے فوائد دکھائے جا سکیں۔

انتخاب واضح ہے

پنجاب کا زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے لاہور میں 48 فٹ، پاکپتن میں 44 فٹ، اور ملتان میں 32 فٹ کی کمی واضح کرتی ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خشک کنویں، زہریلا پانی، ضائع فصلیں اور بڑھتی غربت ہمارے سامنے ہوں گی۔ مگر حل موجود ہیں: سیاسی ارادہ، قانونی نفاذ، فصلوں کی اصلاحات، جدید آبپاشی اور عوامی آگاہی کے ذریعے پانی کے دیوالیہ پن کو روکا جا سکتا ہے۔

اب اصلاح کریں یا آنے والی نسلوں کے لیے ناقابلِ واپسی بحران کو قبول کریں۔

مصنف

سردار محسن لغاری ، پاکستان کے تینوں پارلیمانی درجات میں دو دہائیوں سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ سینیٹر، رکن قومی اسمبلی، اور تین مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی رہ چکے ہیں، جن میں پنجاب کے وزیر برائے آبپاشی اور خزانہ کے عہدے بھی شامل ہیں۔ وہ آج کل پاکستان میں اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے نیشنل گورننس پروگرام میں سینئر پالیسی ماہر کے طور پر متعین ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے