الفاظ کا چناؤ

سوچ سمجھ کر کہو ہر بات زمانے میں
لفظ چھوٹ جائیں تو واپس نہیں آتے
(آمنہ درانی)

الفاظ بہت اہمیت رکھتے ہیں یہ زندگیاں بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ یہ ہتھیار نہیں ہوتے لیکن پھر بھی ان کی وجہ سے دل زخمی ہو جاتے ہیں یہ کسی بھی انسان کا وجود تک جھنجھوڑ دیتے ہیں۔

میری رائے کے مطابق تو الفاظ کے درست انتخاب کی بدولت آپ ناصرف کسی کا دل جیت سکتے ہیں بلکہ اس دنیا کو بھی فتح کر سکتے ہیں ان کے غلط استعمال کی وجہ سے لوگ آپ سے دوری اختیار کرتے ہیں حتیٰ کہ نفرت بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

الفاظ کے انتخاب میں بے احتیاطی کی وجہ سے لوگ ناپسندیدہ شخصیت بھی بن جاتے ہیں اور اپنے لیے لامحدود مسائل پیدا کر دیتے ہیں ہمارے الفاظ ہماری تربیت کی صحیح عکاسی کرتے ہیں۔

جب ہم کسی سے مخاطب ہوتے ہیں تو ہمارے الفاظ کا چناؤ بتا دیتا ہے کہ ہم اصل میں کیا ہیں؟ لوگ ہماری گفتگو سے مزاج کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔اس میں کوئی شک کی گنجائش بھی نہیں ہے کہ ہمارا دوسرے سے مخاطب ہونا اور انداز ہماری شخصیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔

بعض اوقات ہم غصے میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں اور اپنی حدیں بھی بھول جاتے ہیں جب غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور احساس ہو جائے تو معذرت کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے الفاظ نے سامنے والے کی روح کو بھی زخمی کر دیا ہوگا لیکن بہت آرام سے معذرت کر دیتے ہیں اور اپنی صفائی میں بہت سی دلیلیں پیش کرنے لگتے ہیں جیسے میرا ضبط ختم ہو گیا تھا، مجھے بہت غصہ تھا میں اپنی زبان پر قابو نہیں رکھ سکا وغیرہ مگر یہ باتیں کسی کے درد کو کم نہیں کر سکتیں ہیں۔

ایسی صورت میں ہماری خواہش ہوتی ہے کہ فوراً معاف کر دیا جائے لیکن جب کوئی ہمارے ساتھ ایسا کر دے تب بہت حساس بن جاتے ہیں۔ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرنا چاہیے جو انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔

اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کے لیے نازیباالفاظ استعمال نہیں کرے تو آپ کو بھی تو دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔ درحقیقت سخت لفظ کو سن کر بظاہر کسی کا خون نہیں بہتا ہے مگر سخت لفظ کی چوٹ کو برداشت کرنا آدمی کے لیے آسان کام نہیں ہے لہذا سوچ سمجھ کر بات کی جائے۔

کسی نےکیا خوب کہا ہے” ہماری دنیا کے مسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں جتنے طنز،سوال اور دل دکھانے والے تبصرے ہیں اگر صرف زبان روک لی جائے تو ۔۔۔۔۔۔لوگوں کے دلوں کی تکالیف کم ہو جائیں گی اور بہت سے دلوں کو سکون مل جائے گا“۔

الفاظ کے اثرات صرف باتوں تک محدود نہیں رہتے یہ تعلقات، معاشرت اور ہماری شخصیت پر بھی دیرپا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایک نرم زبان دوسروں کے دل جیت سکتی ہے، اعتماد پیدا کرتی ہے اور محبت و احترام کے پل باندھتی ہے۔

ہمیشہ یاد رکھیں: ہر لفظ کا وزن ہے، ہر جملہ اثر رکھتا ہے، اور ہر گفتگو ایک موقع ہے جسے بہتر بنانے سے آپ نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے دل بھی جیت سکتے ہیں۔

ایک اچھا لفظ دوسروں کے دل میں امید جگاتا ہے، حوصلہ بڑھاتا ہے اور تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔ اسی طرح نازیبا یا سخت لفظ کسی کے دل میں شک، دکھ یا کرب پیدا کر دیتا ہےاور بعض اوقات یہ رشتوں کو توڑ دیتا ہے۔

زندگی میں الفاظ کا درست چناؤ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا ضروری ہے۔ ہر بات سوچ سمجھ کر کہنی چاہیے۔

الفاظ صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ خود آپ کے لیے بھی ایک آئینہ ہیں۔ آپ کے بولنے کا انداز، آپ کے الفاظ کی تاثیر اور آپ کا رویہ سب مل کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ کس قدر حساس، سمجھدار اور بااخلاق انسان ہیں۔ الفاظ کی طاقت کو سمجھنا اور ان کا درست استعمال کرنا کسی بھی انسان کی شخصیت کو مکمل اور دلوں کو جیتنے والا بنا دیتا ہے۔

لہٰذا سوچ سمجھ کر بولیں، نرمی اختیار کریں اور ہمیشہ دوسروں کے جذبات کا احترام کریں۔ ایک اچھا لفظ کبھی ضائع نہیں ہوتا لیکن ایک نامناسب لفظ کبھی واپس نہیں ہو سکتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے