عید کارڈز تو اب ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے دنیا کو آپ کی مٹھی میں کر دیا ہے اور دوسرے ممالک کے انجانے لوگوں سے رابطے اس قدر آسان کر دیے ہیں کہ آج سے چند برس پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اب یہ دنیا اس قدر سمٹ گئی ہے کہ آپ کو زمانے کی خبر ہے، لیکن اپنے ہی گھر میں رہنے والوں کی نہ خبر ہے نہ ہی پرواہ۔
ایک وقت تھا جب عید پر کروڑوں عید کارڈ فروخت ہوا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ تحفہ دینا بھی لازم امر ہوا کرتا تھا۔ عید سے قبل اپنے پیاروں، عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو عید کارڈ بھیج کر محبت کا اظہار کیا جاتا تھا۔ ماہِ رمضان کے پہلے عشرے میں ہی عید کارڈ کے اسٹال سج جاتے تھے اور دکاندار بھی عید کارڈ نمایاں کر کے آویزاں کر دیتے تھے۔ دن رات عید کارڈز کی فروخت کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور ساتھ ہی گفٹ بھی فروخت ہوا کرتے تھے جن میں چین لاکٹ، پرفیوم، پین اور آڈیو کیسٹ (گفٹ پیک) شامل ہوتے تھے۔
ایک دور تھا جب عید کارڈ بھیجنا کم و بیش لازمی تصور کیا جاتا تھا۔ عید کارڈ کے اسٹالوں پر لوگوں کا رش لگا رہتا۔ اکثر ان کارڈز پر پھولوں کی خوبصورت اور قدرتی مناظر کی دلکش تصاویر ہوتیں، اور کچھ کارڈ ایسے بھی ہوتے جن پر جدائی کے کرب کا اظہار ملتا۔ بہتے ہوئے آنسوؤں کی تصویر والے کارڈ دل جلوں کو اپنی طرف کھینچتے۔ کسی سے بچھڑ کر اکیلے میں آنسو بہانے والے لوگوں کو یہ کارڈ اپنی ہی داستانِ غم معلوم ہوتے، اور کچھ کارڈز پر دکھی اشعار رقم ہوتے جنہیں پڑھ کر دل والے دل تھام کر رہ جاتے۔
عید کارڈ لکھنے کا آغاز عام طور پر لکھنے کی عمر سے کچھ پہلے ہی ہو جاتا تھا۔ معصوم بچے اپنے بڑوں سے لکھوا کر اپنے ہم جولیوں کو دیتے اور یوں عید کارڈ معصوم محبت کا پہلا اظہار ٹھہرتا۔ اسکول اور کالج کے ساتھی بھی ایک دوسرے کو عید کارڈ دیتے۔ عید کارڈ کو گہری دوستی کی علامت خیال کیا جاتا۔ موصول ہونے والے کارڈز کی گنتی ہوتی، اور جن نوجوانوں کو اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ کارڈ ملتے وہ عجیب خوشی محسوس کرتے۔
محبت کے بندھن میں جڑے لوگ کبھی عید کارڈ سیاہی کی بجائے اپنے خون سے لکھتے۔ خونِ جگر محبت کی سچائی قرار پاتا، مگر یہ کارڈ دوسروں سے چھپائے جاتے اور احتیاط پسند لوگ انہیں جلا دیتے۔ یوں جلتے ہوئے کارڈ کو دیکھ کر کسی کو اپنا دل بھی جلتا ہوا محسوس ہوتا۔
عید کارڈ محبت ہی نہیں بلکہ مفادات کے حصول کا بھی سبب بنتا۔ کاروباری ادارے اور تجارتی کمپنیاں متعلقہ افراد کو کارڈ ارسال کرتیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کا کارڈ پانے کے بعد لوگ ہر آنے جانے والوں سے اس کارڈ کا تذکرہ کرتے۔ اپنے بھائیوں کا عید کارڈ پا کر بہن کو بابل کا آنگن یاد آ جاتا، میکے میں گزارے ہوئے دن آنکھوں میں گھوم جاتے۔ ماں بچوں کو ماموں کی طرف سے آیا ہوا کارڈ دکھاتی اور اسے سنبھال کر رکھتی، کیونکہ یہ عید کارڈ صرف کاغذ نہیں بلکہ بھائی کی محبت کی نشانی ہوتا۔
کبھی کارڈ پر عبارت چھپی ہوتی، لکھنے والا صرف اپنا اور دوسرے کا نام لکھ کر پوسٹ کر دیتا۔ ایسے کارڈ سے سرسری تعلق ظاہر ہوتا۔ گہرے تعلقات رکھنے والے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے اشعار لکھتے۔ کبھی مقبولِ عام اشعار لکھے جاتے اور کبھی محبت کے خاص جذبے کے اظہار کے لیے سطحی اشعار کا سہارا بھی لیا جاتا، مگر پڑھنے والے الفاظ پر کم اور مفہوم پر زیادہ غور کرتے، اور یوں سطحی اشعار کو بھی آنکھوں سے لگایا جاتا۔
دوسرے کا عید کارڈ پوسٹ کر کے اس کے عید کارڈ کا انتظار کیا جاتا۔ ڈاکیے کی راہ دیکھی جاتی اور کارڈ نہ ملنے پر گلے شکوے ہوتے۔ ادھر کبھی بھول جانے کا عذر ہوتا اور کبھی ڈاک والوں پر الزام دھر دیا جاتا۔ یہ عام بہانے تھے جو شگفتہ معلوم ہوتے تھے۔ ڈاکیا کبھی جان بوجھ کر عید کے قریب کارڈ لاتا اور عیدی کا مطالبہ کرتا۔ کارڈ آنے کی خوشی میں ڈاکیے کو کچھ روپے دے کر عید کارڈ وصول کیا جاتا۔ کبھی کارڈ عید کے بعد بھی ملا کرتے اور طرفین یہی عزم کرتے کہ آئندہ عید پر وہ کارڈ ٹھیک وقت پر ارسال کریں گے۔
اب عید کارڈ کی جگہ ایس ایم ایس نے لے لی ہے، مگر کون کہتا ہے کہ ایس ایم ایس عید کارڈ کی جگہ لے سکتا ہے؟ ایس ایم ایس تو عید کے دن ہی ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں۔ نہ ان کے الفاظ یاد رہتے ہیں اور نہ مفہوم ذہن نشین رہتا ہے، لیکن عید کارڈ آج بھی دل والوں نے سنبھال کر رکھے ہیں، کیونکہ بوسیدہ کارڈ سے پرانی محبت کی یاد جڑی ہوتی ہے۔ کوئی پرانے عید کارڈ پر مانوس لکھائی دیکھتا ہے اور پہروں سوچتا ہے کہ لکھے ہوئے نصیب کی سچائی کس قدر امر ہے۔ محبت، تعلق اور بندھن کی شکل بس کارڈ ہی رہ گئی ہے۔
عید کارڈز پر لکھے گئے کچھ اشعار یاد ہوں گے۔ اگر نہیں بھی یاد تو میں یاد دلا رہا ہوں، آپ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکیں گے:
گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی۔
ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک
دوست ہے میرا لاکھوں میں ایک۔
سویاں پکی ہیں، سب ہی نے چکھی ہیں
آپ کیوں رو رہے ہو، آپ کے لیے بھی رکھی ہیں۔
چاول چنتے چنتے نیند آ گئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی۔
عید کی خوشیوں نے دیوانہ بنا دیا
درزی کو دی قمیص، اس نے پاجامہ بنا دیا۔
عید آئی ہے اٹک اٹک کر
آپ کیوں چل رہے ہیں مٹک مٹک کر۔
ادھر سے چاند تم دیکھو، ادھر سے چاند ہم دیکھیں
نظر سے جب نظر ملے تو دلوں کی عید ہو جائے۔
عید آئی ہے بڑی دھوم دھام سے
میرا دوست اچھل پڑا سویوں کے نام سے۔
چلتی ہے گاڑی، اڑتی ہے دھول
میرے دوست کے ہاتھ میں گلاب کا پھول۔
شکوہ ہمیں منظور نہیں، آج نہ کوئی بہانہ ہوگا
آپ کو ہماری خوشیوں کی قسم، اس عید پر آپ کو نہانا ہوگا۔
میٹھی سویاں کھاؤ گے نا
عید والے دن ہمارے گھر آؤ گے نا۔
عید آئی بڑے زمانے میں
بھیا پھسل پڑے غسل خانے میں۔