"آ بیل مجھے مار”ایران امریکہ ٹکراؤ

اردو زبان کا قدیم اور ضرب المثل محاورہ "آ بیل مجھے مار” بظاہر ایک سادہ سی بات ہے، لیکن اس کے بطن میں سیاسی عاقبت نااندیشی اور خود ساختہ مصائب کی ایک پوری داستان پنہاں ہے۔ یہ محاورہ اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جہاں کوئی ریاست اپنی طاقت کے غلط زعم یا محض جذبات کی رو میں بہہ کر ایسی مصیبت کو دعوت دے بیٹھتی ہے جس سے بچنا ممکن تھا، مگر اپنی انا اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے وہ خود کو ہلاکت کے دہانے پر لے آتی ہے۔

آج جب ہم ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکراؤ کو دیکھتے ہیں، تو یہ محاورہ بین الاقوامی سیاست کے ماتھے پر ایک بدنما داغ کی طرح چمکتا نظر آتا ہے۔ جب ہم اس تناظر کو باب العلم حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے اقوال کی روشنی میں پرکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا نے "حکمت” کو پسِ پشت ڈال کر کس طرح "فتنے” کو گلے لگا لیا ہے۔

حضرت علیؓ کا ایک نہایت جامع قول ہے: "عقل مند وہ نہیں جو صرف اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکے، بلکہ عقل مند وہ ہے جو دو برائیوں میں سے کم تر برائی کا انتخاب کر سکے اور مصیبت کو آنے سے پہلے پہچان لے۔” آپؓ کی یہ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ "پیش بندی” اور "دور اندیشی” ہی اصل شجاعت ہے۔ جنگ کو محض بہادری کا امتحان سمجھنا نادانی ہے، جبکہ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنی قوم کو اس آگ سے بچا لے جو سب کچھ بھسم کر دیتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے معاملے میں، دونوں جانب سے اکثر ایسا رویہ سامنے آتا ہے جیسے وہ جان بوجھ کر "بیل” کو سینگ مارنے کی دعوت دے رہے ہوں۔

امریکہ اپنی عالمی چوہدراہٹ برقرار رکھنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مداخلت کی ایسی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جو خود اس کی معیشت کے لیے "آ بیل مجھے مار” ثابت ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ایران، سخت گیر بیانیے اور جوابی اقدامات کے ذریعے خود کو ایک ایسی جنگ کے خطرے میں ڈال رہا ہے جس کے اثرات پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

اس عالمی رسہ کشی میں پاکستان کی صورتحال "آ بیل مجھے مار” کی پالیسی سے بچنے کے لیے ایک کڑی آزمائش بن چکی ہے۔ ایران ہمارا پڑوسی ہے جس کے ساتھ ہماری گہری ثقافتی اور معاشی وابستگیاں ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکہ ہمارا اہم تجارتی اور دفاعی شراکت دار رہا ہے۔

اس ٹکراؤ کی صورت میں پاکستان کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنا بظاہر مشکل ہے، لیکن حضرت علیؓ کی حکمتِ عملی یہی سکھاتی ہے کہ فتنوں کے دور میں "بچے اونٹ” کی طرح رہو جس کی نہ پیٹھ سواری کے کام آتی ہے اور نہ تھن دودھ دینے کے۔ اگر ہم نے کسی ایک فریق کی حمایت میں حد سے تجاوز کیا تو ہم خود اس "بیل” کی زد میں آ جائیں گے جو پہلے ہی ہماری معیشت کو روند رہا ہے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں جذباتیت کے بجائے خالصتاً قومی مفاد اور علاقائی امن کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ ہم دوسروں کی آگ میں ایندھن بننے سے بچ سکیں۔

آج دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ ایٹمی جنگ کی چنگاری بن سکتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور جواباً ایران کا عالمی سپلائی لائنز کو متاثر کرنے کی دھمکی دینا، دراصل اس "بیل” کو پکارنے کے مترادف ہے جو ایک بار بے قابو ہو جائے تو پھر سرحدیں نہیں دیکھتا۔

حضرت علیؓ نے فرمایا تھا: "مصیبت کا مقابلہ صبر سے کرو اور نعمتوں کی حفاظت شکر سے۔” آج کے حکمرانوں نے صبر کی جگہ اشتعال اور شکر کی جگہ ہوسِ ملک گیری کو دے دی ہے۔ جب سفارت کاری کے دروازے بند کر کے فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، تو یہ دراصل خود کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیلنا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف ملبے سے ہو کر گزرتا ہے۔

"آ بیل مجھے مار” کی نفسیات دراصل "انا” سے جنم لیتی ہے۔ جب کوئی ریاست یہ سمجھ لیتی ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہے، تو وہ قدرت کے قوانین سے ٹکرانے لگتی ہے۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے: "تمہارا دشمن تمہارے لیے وہ نہیں کر سکتا جو تمہاری اپنی نادانی تمہارے ساتھ کر سکتی ہے۔” ایران امریکہ تنازع میں نادانی کا عنصر غالب ہے۔ دونوں فریقین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو بالآخر ان کی اپنی معیشتوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اس ٹکراؤ کا سب سے بڑا نشانہ عام آدمی بنتا ہے، جس کی قیمت پاکستان جیسے ممالک کی عوام کو مہنگائی اور عدم استحکام کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ایران امریکہ ٹکراؤ کا واحد حل حضرت علیؓ کے بتائے ہوئے اصولوں یعنی "عدل” اور "تدبر” میں چھپا ہے۔ اگر دنیا اس محاورے کے سحر سے نکلنا چاہتی ہے، تو اسے "طاقت” کے بجائے "حق” کو معیار بنانا ہوگا۔ اشتعال انگیزی بہادری نہیں، بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔ بہادری تو وہ ہے جو جنگ کو ٹال دے اور انسانیت کو بچا لے۔ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی اور اسی طرح "بیل” کو مارنے کی دعوت دیتے رہے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی قوتیں میز پر بیٹھیں اور صلح کی راہ نکالیں، کیونکہ صلح میں جو بقا ہے وہ تصادم میں نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے