فارغ بخاری: علامتی شاعری کی نقوش اور ترقی پسند فکر کا معمار

انیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر (موجودہ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش) میں ادب کی دنیا میں کئی عظیم شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے اردو، فارسی، ہندی اور بنگالی زبانوں میں گہرا اثر ڈالا۔ اس دور کے سب سے نمایاں شاعر اور فلسفی علامہ محمد اقبال تھے جنہوں نے خودی اور مسلم شناخت کے تصور کو اپنی شاعری میں اجاگر کیا۔ حسرت موہانی نے رومان اور انقلاب کو یکجا کر کے اردو شاعری کو ایک نیا رنگ دیا اور آزادی کی تحریک میں عملی کردار ادا کیا۔ اکبر الہ آبادی نے طنز و مزاح کے ذریعے مغربی تہذیب کی اندھی تقلید پر تنقید کی، جبکہ عبدالحلیم شرر نے تاریخی ناول اور گزشتہ لکھنؤ جیسی کتابوں کے ذریعے اسلامی تاریخ اور لکھنؤ کی تہذیب کو محفوظ کیا۔ اسی زمانے میں محمد دین تاثیر اور جوش ملیح آبادی نے جدیدیت اور انقلابی شاعری کی بنیاد رکھی۔

افسانوی ادب میں پریم چند نے حقیقت نگاری پر مبنی ناول اور افسانے لکھے جن میں غربت، سماجی ناانصافی اور نوآبادیاتی نظام کی تلخ حقیقتیں سامنے آئیں۔ بنگالی ادب میں ربندر ناتھ ٹیگور نے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی اور 1913 میں نوبیل انعام پایا۔ اس کے ساتھ ساتھ مولوی عبدالحق (بابائے اردو) نے زبان و ادب کی خدمت کی، جبکہ محمد علی جوہر نے صحافت اور شاعری کے ذریعے قومی تحریک کو تقویت دی۔

اسی دور میں پشاور کا منظرنامہ ادبی اعتبار سے ایک عبوری اور بیداری کا دور تھا۔ شہر کی علمی و فکری فضا اردو، پشتو اور ہندکو زبانوں کی سرگرمیوں سے معمور تھی۔ نوآبادیاتی دباؤ کے باوجود نئی نسل کے ادیب اور شاعر اپنی شناخت اور جدت کے ساتھ ابھر رہے تھے، اور یوں پشاور روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑا دکھائی دیتا تھا۔

اسی پس منظر میں معروف ترقی پسند شاعر و ادیب سید فارغ بخاری کی پیدائش ہوئی، جو ایک معزز سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا (بعض حوالوں میں سید میر اکبر شاہ بھی درج ہے) اور وہ 11 نومبر 1917ء کو پشاور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ فارغ بخاری نے شعر و ادب، صحافت اور سیاست کے میدانوں میں اپنی انمٹ چھاپ چھوڑی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے سرخیل اور آزادیِ صحافت کے علمبردار تھے۔ اپنی حق گوئی اور عوامی جدوجہد کے باعث انہوں نے بارہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلاوطنی کا کرب جھیلا، مگر آخری دم تک اپنے مجاہدانہ موقف پر قائم رہے۔

فارغ بخاری کی پرورش ایک ایسے علمی گھرانے میں ہوئی جہاں علم و ادب کی اہمیت مسلم تھی۔ تعلیم کے دوران انہیں علامہ عنایت اللہ مشرقی جیسے قد آور استاد کی صحبت نصیب ہوئی، جس نے ان کے فکری اور نظریاتی رجحانات پر گہرا اثر ڈالا۔ صرف تیرہ برس کی عمر میں وہ انقلابی سوچ رکھنے والی تنظیم نوجوان بھارت سبھا سے وابستہ ہو گئے، جس کے رہنما بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خان اور چندر شیکھر آزاد جیسے عظیم مجاہدینِ آزادی تھے۔ اس کم عمری میں انقلابی تحریکوں میں حصہ لینا اور طلسم ہوشربا جیسی داستانیں پڑھنا ان کے مشاغل تھے، جنہوں نے ان کی شخصیت میں بیک وقت جوشِ عمل اور تخیل کی رعنائیاں پیدا کیں۔

یوں فارغ بخاری کی ابتدائی زندگی روایت، جدت، انقلابی فکر اور تخیلاتی دنیا کے امتزاج سے ایک ایسی شخصیت کو جنم دیتی ہے، جو بعد میں اردو، پشتو اور ہندکو ادب کے ساتھ ساتھ صحافت اور سیاست میں بھی ایک روشن حوالہ بن گئی۔

نمایاں خصوصیات

کثیر لسانی شاعر:

اردو کے ساتھ ساتھ پشتو اور ہندکو میں بھی تخلیق کی، اور تینوں زبانوں میں یکساں اثر چھوڑا۔

انسانی اقدار کے علمبردار:

ان کی شاعری میں انسان دوستی، مساوات اور عالمی ہم آہنگی کا پیغام نمایاں ہے۔

ادبی صحافت:

صحافت کے ذریعے انہوں نے ادبی اور سماجی شعور کو فروغ دیا اور نئے لکھنے والوں کی تربیت کی۔

تنقید و تحقیق:

نقاد اور محقق کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں، خصوصاً پشتو اور ہندکو ادب کی تاریخ مرتب کرنے میں۔

سادگی اور خلوص:

ان کی شخصیت میں بناوٹ کے بجائے سچائی اور محبت کا رنگ غالب تھا، جو انہیں ایک محبوب اور معتبر شخصیت بناتا ہے۔

فارغ بخاری کا شمار انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے بانی اراکین میں ہوتا ہے اور ان کی شخصیت اردو ادب، صحافت اور سیاست میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی شاعری اور فکر ہمیشہ سماجی انصاف، مساوات اور انسان دوستی کے اقدار کی ترجمانی کرتی رہی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کمیونسٹ اور انقلابی فکر کے حامل اہلِ قلم کی طرح بارہا قید و بند کی صعوبتوں کا شکار ہوئے۔

انہوں نے تقریباً 1934 کے آس پاس لکھنا شروع کیا اور کلکتہ (موجودہ کولکتہ) کے ایک مشاعرے میں اپنی پہلی غزل پڑھی، جس کی صدارت اردو شاعر رضا علی وحشت نے کی۔ ان کی شاعری میں جذباتی اور تخیلاتی رنگ نمایاں تھا، مگر ساتھ ہی وہ جنگوں اور انسانی المیوں پر تنقید کرتے رہے۔

جنوری 1952ء میں ان کا شعری مجموعہ زَیرو بم شائع ہوا۔ اس مجموعے کے بعد پشاور میں ان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا اور انہیں گرفتار کر لیا، کیونکہ حکمرانوں کو ان کی شاعری میں سماجی انصاف اور عوامی جدوجہد کی گونج ناگوار گزری۔ ان پر ایک دھماکہ خیز آلے "زیرو بم” کا فارمولا رکھنے کا الزام بھی لگایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ قید اور جلاوطنی کا شکار ہوئے۔سن 1971ء کی جنگ اور مشرقی پاکستان کے المیے پر ان کی تحریروں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا، مگر وہ ہمیشہ ظلم، جنگ اور انسانی تباہی کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔

فارغ بخاری نے نہ صرف شاعری بلکہ اپنی نثری تحریروں میں بھی سیاسی شعور اور عوامی جدوجہد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے 1991ء میں اپنی معرکہ آرا کتاب ‘تحریکِ آزادی اور باچا خان’ لکھی، جس میں پشتون رہنما خان عبدالغفار خان کی جدوجہدِ آزادی اور تقسیمِ ہند کے دوران ان کی سیاسی تحریکوں کا جامع احاطہ کیا گیا۔ اس کتاب کی علمی و تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر، 5 مارچ 2007ء کو اسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی لائبریری کی جانب سے ڈیجیٹلائز کر کے علمی تحقیق کے لیے محفوظ کیا گیا۔

فارغ بخاری کی اہم کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے۔

یہ کتب ان کے شعری مجموعوں، تحقیقی کام، اور نثری شاہکاروں پر مشتمل ہیں۔

شعری مجموعے

زیر و بم: (پہلا شعری مجموعہ، ترقی پسند فکر کا حامل)

شیشے کے پیراہن: (منفرد اسلوب اور فکری گہرائی)

پیاسے ہاتھ: (سماجی محرومیوں کی عکاسی)

آئینے صداؤں کے: (معاشرتی مسائل کا آئینہ دار)

غزلیہ: (ان کی تمام غزلوں کا نچوڑ)

تحقیقی اور ثقافتی کتب

ادبیاتِ سرحد: (رضا ہمدانی کے ساتھ مل کر لکھی گئی، پشتو ادب کی تاریخ)

پشتو لوک گیت: (پشتو ثقافت کے ورثے کا تحفظ)

سرحد کے لوک گیت: (علاقائی ثقافت کا اردو ترجمہ و تعارف)

پشتو شاعری: (پشتو شاعری کا ارتقائی جائزہ)

پشتو نثر: (پشتو نثری ادب کی تاریخ)

خوشحال خان کے افکار: (خوشحال خان خٹک کی شخصیت پر تحقیق)

رحمان بابا: (صوفی شاعر رحمان بابا کے کلام کا تجزیہ)

خاکے اور نثر

البم: (ادبی شخصیات کے قلمی خاکے)

دوسرا البم: (خاکوں کا دوسرا حصہ)

براتِ عاشقاں: (مشرقی پاکستان کا سفرنامہ)

تحریکِ آزادی اور باچا خان: (سیاسی و تاریخی تحقیق)

سوانح حیات

مسافتیں: سید فارغ بخاری کی نامکمل سوانحِ حیات کو ان کے صاحبزادے قمر عباس نے جیل میں اپنے قیام کے دوران مکمل کیا۔ یہ سوانح جو نہ صرف ایک ادبی دستاویز ہے بلکہ والد کی فکری اور ادبی وراثت کو زندہ رکھنے کی ایک عظیم کوشش بھی ہے۔ اس کتاب میں فارغ بخاری کی زندگی کے نشیب و فراز، ادبی جدوجہد اور صحافتی خدمات کو نہایت خلوص اور محبت کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔

فارغ بخاری کی صحافتی خدمات ان کی ادبی اور فکری جدوجہد کا لازمی تسلسل تھیں۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک سرگرم اور بے باک صحافی بھی تھے، جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی مسائل، سیاسی ناانصافیوں اور عوامی جدوجہد کو اجاگر کیا۔ پاکستان رائٹرز گلڈ سے وابستگی نے انہیں ادبی صحافت کے ایک معتبر ستون کے طور پر پہچان دلائی۔ انہوں نے مختلف اخبارات اور رسائل میں کام کیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف ادبی مباحث کو فروغ دیا بلکہ عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔

ان کے زیرِ ادارت اور تعاون سے نکلنے والے رسائل، خصوصاً سنگِ میل ، نئے لکھنے والوں کے لیے تربیت گاہ ثابت ہوئے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کو نہ صرف اظہار کا موقع دیا بلکہ انہیں فکری رہنمائی بھی فراہم کی۔ پشاور میں ادبی سرگرمیوں کو جلا بخشنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

فارغ بخاری کی صحافت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا بے خوف اور سچا انداز تھا۔ وہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں گھبرائے اور ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ ان کی صحافت میں وہی انقلابی روح جھلکتی ہے جو ان کی شاعری میں موجود ہےیعنی سماجی انصاف، مساوات اور آزادی کی جدوجہد۔ یوں وہ نہ صرف ادب بلکہ صحافت میں بھی ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہوں نے قلم کو عوامی خدمت اور حق گوئی کا ہتھیار بنایا۔

فارغ بخاری کی شخصیت کا ایک اہم اور منفرد پہلو ہندکو زبان و ادب کی خدمت ہے۔ وہ نہ صرف اردو اور پشتو بلکہ ہندکو کے پہلے باقاعدہ شعری مجموعے اور ادبی تاریخ کے مرتب کرنے والے ادیب تھے، جس کی وجہ سے انہیں ہندکو ادب کا محسن اور بنیاد گزار تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی کاوشوں نے اس زبان کو ادبی دنیا میں ایک باوقار مقام عطا کیا اور یہ ثابت کیا کہ ادب کی کوئی جغرافیائی یا لسانی سرحد نہیں ہوتی۔ فارغ بخاری نے اپنی تحریروں کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ ایک ادیب اپنی مقامی ثقافت اور زبان سے جڑا رہ کر بھی آفاقی اقدار، انسان دوستی اور سماجی انصاف کی ترجمانی کر سکتا ہے۔ ان کی ہندکو خدمات نے نہ صرف اس زبان کے ادبی سرمائے کو محفوظ کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن راستہ بھی متعین کیا، جس پر چل کر علاقائی زبانیں عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکتی ہیں۔ یوں فارغ بخاری کی شخصیت ہندکو ادب کے لیے ایک سنگِ میل اور ادبی ورثے کے امین کی حیثیت رکھتی ہے۔

فارغ بخاری نے غزل کی صنف میں نہایت جرات مندانہ اور تخلیقی تجربات کیے، جنہوں نے اس روایت کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کے شعری مجموعے غزلیہ کو نقادوں نے خاص اہمیت دی، کیونکہ اس میں انہوں نے غزل کی ہیئت، موضوعات اور اسلوب میں جدت پیدا کی۔ ان کی غزلوں میں روایتی حسن و عشق کے رنگ تو موجود ہیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ سماجی ناہمواریوں، طبقاتی کشمکش اور سیاسی استبداد کے خلاف بھرپور احتجاج بھی جھلکتا ہے۔ فارغ بخاری نے غزل کو محض جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی جدوجہد اور سیاسی شعور کا آئینہ بنا دیا۔ ان کے کلام میں انسانی اقدار، مساوات، آزادی اور سماجی انصاف جیسے موضوعات نمایاں ہیں، جو غزل کو ایک نئی معنویت اور مقصدیت عطا کرتے ہیں۔ یوں وہ اس صنف کو محض عشقیہ واردات سے نکال کر ایک اجتماعی اور انقلابی آواز میں ڈھالتے ہیں، جس نے اردو غزل کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیا۔ ان کی غزلیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک شاعر اپنی روایت سے جڑا رہتے ہوئے بھی اسے نئے فکری اور فنی امکانات سے آشنا کر سکتا ہے۔

فارغ بخاری ایک درویش صفت اور بے حد خلوص رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی بیٹھک پشاور کے ادیبوں اور دانشوروں کا مرکز ہوا کرتی تھی، جہاں رضا ہمدانی جیسے جید شعرا اور محققین کے ساتھ مل کر انہوں نے ادب کی آبیاری کی۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر تھا، جس میں بناوٹ یا تصنع کے بجائے سچائی اور خلوص کا عنصر غالب رہتا تھا۔ ان کی شخصیت میں سادگی، محبت اور انسان دوستی نمایاں تھی، اسی وجہ سے وہ اپنے دوستوں اور شاگردوں میں بے حد مقبول تھے۔ فارغ بخاری نے نہ صرف ادبی محفلوں کو جلا بخشی بلکہ نوجوان نسل کی فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا، انہیں ادب اور صحافت کے ذریعے شعور اور بیداری کی راہ دکھائی۔ ان کی شخصیت ایک ایسے چراغ کی مانند تھی جو دوسروں کے لیے روشنی اور رہنمائی کا ذریعہ بنا۔

فارغ بخاری کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1994ء میں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا، جو ان کی ہمہ جہت شخصیت اور ادبی مقام کا روشن ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ انہیں پشتو شاعری پر حبیب بینک ادبی انعام بھی دیا گیا، جس نے ان کی خدمات کو مزید اجاگر کیا اور انہیں پشتو ادب کے معتبر ترین حوالوں میں شامل کر دیا۔ یہ اعزازات اس بات کی دلیل ہیں کہ فارغ بخاری نے نہ صرف اردو بلکہ علاقائی زبانوں میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایک مستقل اور دیرپا اثر چھوڑا۔

فارغ بخاری کی شخصیت اور تخلیقات نے اردو، پشتو اور ہندکو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ وہ محض شاعر نہیں بلکہ ایک فکری رہنما تھے جنہوں نے ادب کو سماجی اور سیاسی شعور کے ساتھ جوڑا اور اسے عوامی جدوجہد کا آئینہ بنایا۔ ان کی شاعری آج بھی ترقی پسند تحریک، انسانی اقدار، مساوات اور آزادی کی یاد دلاتی ہے۔ ان کے کلام میں وہی انقلابی روح جھلکتی ہے جو معاشرتی انصاف اور عوامی بیداری کی علامت ہے۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انہیں خیبر پختونخوا کی ادبی شناخت کا معتبر ترین حوالہ مانا جاتا ہے۔ فارغ بخاری نے اپنی تحریروں اور صحافتی خدمات کے ذریعے نہ صرف زبانوں کو فروغ دیا بلکہ نئی نسل کو فکری تربیت بھی فراہم کی۔ ان کا ورثہ آج بھی زندہ ہے اور ان کے اثرات آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ یوں وہ ایک ایسے ادیب کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جس نے ادب کو جمالیاتی اظہار سے بلند کر کے اسے انسانی اقدار اور اجتماعی شعور کا علمبردار بنا دیا۔

فارغ بخاری کی زندگی کا سفر 13 اپریل 1997ء کو پشاور، پاکستان میں اختتام پذیر ہوا۔ وہ ایک ایسے وقت میں رخصت ہوئے جب ان کی ادبی، صحافتی اور فکری خدمات پورے برصغیر میں تسلیم کی جا چکی تھیں۔ ان کی وفات نہ صرف پشاور بلکہ پورے ادبی حلقے کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی، کیونکہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے شاعری، تحقیق، صحافت اور تنقید کے میدانوں میں اپنی انمٹ چھاپ چھوڑی۔

ان کے جانے کے بعد ادبی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوا، جسے پر کرنا ممکن نہ تھا۔ فارغ بخاری نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک قلم کو عوامی خدمت، حق گوئی اور انسان دوستی کے لیے استعمال کیا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی کتابیں، مضامین اور غزلیں زندہ ہیں اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ ادب محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ سماجی شعور اور انسانی اقدار کا علمبردار بھی ہے۔

یوں 13 اپریل 1997ء کا دن پشاور کی ادبی تاریخ میں ایک غمگین باب کی حیثیت رکھتا ہے، جب ایک درویش صفت شاعر، محقق اور صحافی نے دنیا کو الوداع کہا مگر اپنے افکار اور کلام کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔

=

=

فارغ بخاری کے فن اور فکر کا اندازہ ان کے چند منتخب اشعار سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

چند اشعار ملاحظہ ہوں

=

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گر

راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے

آؤ تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد

ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے

سالہا سال عقیدت سے کھلا رہتا ہے

منفرد راہوں کا آغوش جیالوں کے لیے

رات کا کرب ہے گل بانگِ سحر کا خالق

پیار کا گیت ہے یہ درد اجالوں کے لیے

شبِ فرقت میں سلگتی ہوئی یادوں کے سوا

اور کیا رکھا ہے ہم چاہنے والوں کے لیے

=

رسالہ فنون (جدید غزل نمبر: جلد دوم)

=

=

دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

کتنے ہی زخموں کے شہر بساتے ہیں

کرب کی ہاہاکار لیے جسموں میں ہم

جنگل جنگل، صحرا صحرا جاتے ہیں

دو دریائے بھی جب آپس میں ملتے ہیں

دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

سوچوں کو لفظوں کی سزا دینے والے

سپنوں کے سچّے ہونے سے گھبراتے ہیں

درد کا زندہ رہنا پیاس کا معجزہ ہے

دیوانے ہی یہ بن باس کماتے ہیں

تاریخوں میں گزرے ماضی کی صورت

اہلِ جنوں کے نقشِ پا مل جاتے ہیں

دکھ، سکھ بھی کرتا ہے، سر بھی پھوڑتا ہے

دیواروں سے فارغ کے سو ناتے ہیں

=

سیپ (جلد 47، صفحہ 227)

=

=

فارغ بخاری کے منتخب اشعار

=

سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں

نہ مُڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

=

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

=

پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا

کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

=

کتنے شکوے گِلے ہیں پہلے ہی

راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

=

دو دریائے بھی جب آپس میں ملتے ہیں

دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

=

نئی منزل کا جنون تہمتِ گمراہی ہے

پا شکستہ بھی تیری راہ میں کہلایا ہوں

=

یہی ہے دورِ غمِ عاشقی تو کیا ہوگا

اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

=

تمہارے ساتھ ہی اُس کو بھی ڈوب جانا ہے

یہ جانتا ہے مسافر تیرے سفینے کا

=

ہم ایک فکر کے پیکر ہیں، ایک خیال کے پھول

تیرا وجود نہیں ہے تو میرا سایہ نہیں

=

ہزار ترکِ وفا کا خیال ہو لیکن

جو رُو بہ رُو ہوں تو بڑھ کر گلے لگا لینا

=

کیا زمانہ ہے یہ، کیا لوگ ہیں، کیا دنیا ہے

جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

=

دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن

اندر سے مکان گر رہا ہے

=

جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں

ڈوبتا جاتا ہے ہر ایک پیڑ اپنی چھاؤں میں

=

جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ

سب تتلیوں نے اور دھنک نے اُڑا لیے

=

منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی

جو اپنی زباں سے بولتا ہے

=

زندگی میں ایسی کچھ طغیانی آتی رہی

بہہ گئی ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

=

محبتوں کی شکستوں کا ایک خرابه ہوں

خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارہ بنوں

=

ہم سے انسان کی خجالت نہیں دیکھی جاتی

کم سوادوں کا بھرم ہم نے روا رکھا ہے

=

مسیحِ وقت صحیح ہم کو اُس سے کیا لینا

کبھی ملے بھی تو کچھ دردِ دل بڑھا لینا

=

اُس رِندِ سیاہ مست کا ایمان نہ پوچھو

تشنہ ہو تو مخلوق ہے، پی لے تو خدا ہو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے