حقانی صاحب! یہ بتائیں کہ "دو شادیاں کیسی ہیں؟”
عرض کیا، حضور!
دو شادیاں دراصل ایک ایسا "بین الاقوامی معاہدہ” ہیں جس میں بیچارہ شوہر نامدار بیک وقت دو لڑاکو پاورز کے درمیان سفارتی توازن قائم کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہتا ہے۔ اب
آپ اس کو ایک مثال کے ذریعے یوں سمجھ لیں کہ ایک بیوی ایران ہے، دوسری امریکہ…… اور بیچ میں بیچارہ شوہر "پاکستان” بنا ہوا ہے۔
نہ ایران کو ناراض کر سکتا ہے، نہ امریکہ کو…..
اور اگر کبھی غلطی سے ایک کی طرف جھک جائے تو دوسری طرف سے فوراً "بدمعاشیاں” شروع ہوجاتی ہیں!
اگر پھر بھی مزید وضاحت چاہیں تو سن لیجیے برادر جان!
ایک بیگم کہتی ہے "میری طرف زیادہ توجہ دو!”
دوسری کہتی ہے "ادھر بھی دیکھ لیا کرو!”
اور شوہر بیچ میں اقوام متحدہ بنا کھڑا ہوتا ہے، قراردادیں پاس کرتا ہے، مگر عملدرآمد کہیں نہیں ہوتا!
کبھی ایک ناراض ہو کر کہتی ہے "میں تم سے بات نہیں کرتی!”
تو دوسری فوراً کہتی ہے: "مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں!”
یوں گھر کا ماحول ایسا خاموش ہو جاتا ہے جیسے اسمبلی میں بجٹ تقریر کے بعد بیچاری عوام!
شوہر کی حالت کچھ یوں ہوتی ہے
جیب ایک، خرچے دو……
دل ایک، مطالبے دو…
اور نیند ؟ وہ تو ویسے ہی اقلیت میں چلی جاتی ہے!
سکون؟ اپنے آپ کو برباد ہونے سے قطعاً نہیں روک سکتی!
فرض کریں
اگر ایک کو بازار لے جاؤ تو دوسری کہتی ہے "مجھے کیوں نہیں لے گئے؟”
اور اگر دونوں کو لے جاؤ تو
دکاندار بھی پریشان ہو جاتا ہے کہ "بھائی صاحب! آپ خریدنے آئے ہیں یا طاقتوں کا توازن برقرار رکھنے؟”
اب بندہ کہے تو کیا کہے!
اور سب سے دلچسپ لمحہ وہ ہوتا ہے جب دونوں ایک ساتھ مسکرا دیں……..!
تب شوہر کو یقین ہو جاتا ہے کہ آج کوئی بڑی "سازش” ہونے والی ہے!
بہرحال آخر میں عرض ہے، دو شادیوں والا مرد دراصل ایک چلتا پھرتا ” ڈبل انجن” نہیں بلکہ” ڈبل پریشر ککر” ہوتا ہے……
جس کی سیٹی ہر وقت بجنے کو تیار رہتی ہے بلکہ بجتی ہی رہتی ہے!
اور پھر واقعی……چراغوں میں روشنی نہیں رہتی!
جب روشنی ہی نہ رہے اور بالکل اندھیرا ہوجائے تو تیسری کی تلاش میں نکل جاتا ہے!