جشنِ بے ہنگم یا شناخت کا دکھ؟

عید کے ایام جہاں رشتوں کی خوشبو اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام لاتے ہیں، وہیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے تفریحی مقامات پر حالیہ برسوں میں ایک ایسا منظر نامہ ابھرا ہے جو فکر اور حیرت دونوں کو دعوت دیتا ہے۔ یہ منظر ان نوجوانوں کے غول ہیں جو خیبر پختونخوا کے دور افتادہ قبائلی علاقوں سے مزدوری اور روزگار کی تلاش میں ان شہروں کا رخ کرتے ہیں اور عید کے موقع پر سڑکوں، چوراہوں اور پارکوں میں ایک ایسا رقص پیش کرتے ہیں جس کا نہ تو کوئی تال ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ ترتیب۔

اسے دیکھ کر پہلی نظر میں ایسا گمان ہوتا ہے جیسے کوئی انسانی ریلا بند ٹوٹنے کے بعد اپنی سمت کھو چکا ہو۔ لیکن اس بظاہر "پاگل پن” کے پیچھے عمرانیات اور انسانی نفسیات کی کئی ایسی پرتیں چھپی ہیں جنہیں سمجھے بغیر ہم اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے۔ انسانی رویوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا گروہ اپنے فطری ماحول سے کٹ کر ایک ایسے بڑے شہر میں آتا ہے جہاں اسے صرف ایک "مشین” یا "مزدور” کی حیثیت سے دیکھا جائے، تو اس کے اندر اپنی شناخت منوانے کی ایک لاشعوری تڑپ پیدا ہوتی ہے۔

یہ نوجوان جو سارا سال ہوٹلوں، تندوروں اور منڈیوں میں سخت جسمانی مشقت کرتے ہیں، عید کے دن ایک ایسی نفسیاتی کیفیت سے گزرتے ہیں جسے "ڈی انفرادی سازی” (De-individuation) کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان اپنی انفرادی پہچان کھو کر ہجوم کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کا ضمیر یا سماجی شرم و حیا کا احساس عارضی طور پر معطل ہو جاتا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اس بھیڑ میں اسے کوئی پہچاننے والا نہیں ہے۔

نفسیاتی نقطہ نظر سے اس بے ہنگم رقص کو "کتھارسس” یعنی جذباتی اخراج کا ایک بھونڈا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ نوجوان جن علاقوں سے آتے ہیں وہاں کی زندگی نظم و ضبط، قبائلی روایات اور اکثر اوقات جنگ و جدل کے سائے میں گزرتی ہے۔ جب انہیں اسلام آباد جیسے کھلے اور جدید شہر میں اچانک آزادی میسر آتی ہے، تو ان کا لاشعور اس آزادی کو سنبھال نہیں پاتا۔ یہ رقص دراصل ان کے پورے سال کے تھکا دینے والے معمولات، سماجی تنہائی اور اپنوں سے دوری کا ایک چیختا ہوا اظہار ہے۔ تاہم، انسانی لحاظ سے یہ رویہ ایک بڑے تعلیمی اور تہذیبی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

جب ایک معاشرہ اپنے نوجوانوں کو خوشی منانے کے مہذب طریقے نہیں سکھاتا، یا جب تفریح کے مواقع صرف اشرافیہ تک محدود ہو جاتے ہیں، تو نچلے طبقے کا نوجوان اپنی توانائی نکالنے کے لیے "جسمانی ہیجان” کا سہارا لیتا ہے۔ یہ ایک طرح کی حیوانی جبلت کی طرف واپسی ہے جہاں لفظ اور تال ختم ہو جاتے ہیں اور صرف شور اور بے ترتیب حرکت باقی رہ جاتی ہے۔ انسانی رویوں کے ماہرین کے مطابق، یہ رویہ "علاقائی بالادستی” کے اظہار کی ایک صورت بھی ہے، جہاں یہ نوجوان یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت یہ سڑک اور یہ جگہ ان کے قبضے میں ہے، جو کہ ان کی روزمرہ کی بے بسی کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے۔

اس صورتحال کو قابو کرنے کے لیے انتظامیہ کو محض طاقت یا پابندی کا سہارا لینے کے بجائے ایک کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ سب سے پہلے تو ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عید کے دنوں میں ان نوجوانوں کے لیے مخصوص مقامات پر "ثقافتی زون” تخلیق کرے، جہاں انہیں تربیت یافتہ فنکاروں کی نگرانی میں روایتی "اتن” کرنے کی اجازت دی جائے۔ جب انہیں ایک باقاعدہ اسٹیج اور نظم و ضبط والا ماحول ملے گا، تو ان کے اندر کی بے ہنگم توانائی ایک تخلیقی اور خوبصورت رقص کی صورت اختیار کر لے گی۔ پولیس کو صرف ڈنڈے کے زور پر انہیں بھگانے کے بجائے ان کے درمیان ایسے کمیونٹی لیڈرز مقرر کرنے چاہئیں جو ان کے اپنے ہی قبیلے یا علاقے کے معتبر افراد ہوں، کیونکہ قبائلی معاشرے میں اپنے بڑے کی بات ماننے کا رجحان اب بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی راستوں پر عید سے قبل آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے جس میں پشتو زبان میں بینرز اور پمفلٹس کے ذریعے انہیں یہ سمجھایا جائے کہ شہر کے آداب کیا ہیں اور دوسروں کی فیملیز کے سکون کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک، جو اس وقت اس ہنگامے کا سب سے بڑا محرک ہے، اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے مواد کی حوصلہ شکنی ہو سکے جو بدتہذیبی کو "بہادری” بنا کر پیش کرتا ہے۔

طویل مدتی حل کے طور پر، حکومت کو ان مزدور طبقوں کی بستیوں میں عید کے دوسرے یا تیسرے دن باقاعدہ کھیلوں کے مقابلے یا مشاعرے منعقد کرانے چاہئیں تاکہ ان کی توانائی وہاں صرف ہو سکے۔ جب ایک نوجوان سارا دن فٹ بال یا کسی روایتی کھیل میں پسینہ بہائے گا، تو وہ شام کو سڑکوں پر آ کر ہنگامہ کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ انسانی رویہ ہمیشہ ماحول اور تربیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے؛ اگر ہم ان نوجوانوں کو صرف "جاہل” یا "پاگل” قرار دے کر نظر انداز کرتے رہیں گے تو یہ خلیج مزید بڑھے گی۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ جڑواں شہروں کے بڑے پارکوں میں "انٹری فیس” کے بجائے "آدابِ داخلہ” متعارف کرائے، جہاں بدتمیزی یا بے ہنگم شور کرنے والوں کو جرمانے کے ساتھ ساتھ مختصر سماجی خدمت کی سزا دی جائے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ نوجوان ہمارے اپنے ملک کا حصہ ہیں، لیکن ان کی توانائی کو ایک مہذب رخ دینا ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم انہیں شائستگی کے ساتھ خوشی منانے کے مواقع فراہم کریں گے، تو اسلام آباد کی سڑکیں عید کے دن کسی میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے کے بجائے ایک خوبصورت گلدستے کی طرح نظر آئیں گی جہاں ہر رنگ اور ہر قبیلے کا فرد اپنی حدود میں رہ کر مسرت کشید کر سکے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے