سیمسن آپشن کے درمیان میں پاکستان کا کردار

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں معمولی سی چنگاری بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار ایک خاموش مگر اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔

ایک طرف پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں، دوسری طرف وہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے اس بحران میں ایک منفرد حیثیت دیتی ہیں، مگر ساتھ ہی کئی پیچیدہ سوالات بھی جنم لیتی ہیں، خصوصاً اعتماد کے مسئلے اور عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کے حوالے سے۔

اس تمام صورتحال کو سمجھنے کے لیے “سمسن آپشن” کے تصور کو جاننا ضروری ہے۔ یہ اصطلاح ایک مذہبی کردار Samson سے اخذ کی گئی ہے، جس نے اپنی آخری قوت استعمال کرتے ہوئے اپنے دشمنوں کو اپنے ساتھ ختم کر دیا تھا۔ جدید عالمی سیاست میں اس اصطلاح کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اگر اسرائیل کو اپنے وجود کے لیے آخری خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ اپنے جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ اگرچہ اسرائیل نے کبھی باضابطہ طور پر اپنے جوہری پروگرام کا اعتراف نہیں کیا، لیکن عالمی اندازوں کے مطابق اس کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ یہی غیر اعلانیہ طاقت اسے ایک ایسی پوزیشن دیتی ہے جہاں وہ نہ صرف دفاعی بلکہ پیشگی کارروائی کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا فقدان اس خطے کی سیاست میں ایک مستقل حقیقت ہے۔پاکستان نے اپنے قیام سے ہی فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور اسی اصولی مؤقف کی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ فیصلہ صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی جذبات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کے اندر ایک بڑی تعداد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کو فلسطینی کاز سے انحراف سمجھتی ہے۔ اس کے باوجود وقتاً فوقتاً پسِ پردہ رابطوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مکمل لاتعلقی کے باوجود سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عرصے تک امریکہ کا اتحادی بھی رہا ہے۔ یہی دوہری حیثیت اسے ایک ایسے پل میں تبدیل کرتی ہے جو براہِ راست بات چیت نہ کرنے والے ممالک کے درمیان رابطہ قائم کر سکتا ہے۔

ماضی میں بھی پاکستان نے خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے خاموش سفارت کاری کا سہارا لیا ہے۔ تاہم، اس بار صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ امریکہ پر اعتماد کا مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔

خاص طور پر Donald Trump کے دور میں امریکی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی۔ اچانک فیصلے، بین الاقوامی معاہدوں سے دستبرداری، اور اتحادیوں کے ساتھ سخت رویہ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ کی پالیسی کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا وہ ایسے فریق پر بھروسہ کر سکتا ہے جس کی حکمت عملی مستقل نہ ہو۔ ثالثی کے عمل میں اعتماد بنیادی عنصر ہوتا ہے، اور جب یہی کمزور ہو جائے تو کامیابی کے امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اسرائیل کی سیکیورٹی حکمت عملی کو دیکھیں تو اس میں پیشگی اقدامات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ماضی میں اس نے ایسے کئی حملے کیے جن کا مقصد اپنے ممکنہ دشمنوں کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

Operation Opera اور Operation Orchard اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ یہ واقعات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اسرائیل خطرے کو بڑھنے دینے کے بجائے ابتدا ہی میں ختم کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔ یہی حکمت عملی ایران کے حوالے سے بھی نظر آتی ہے، جہاں مختلف خفیہ کارروائیوں اور دباؤ کے ذریعے اس کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا مستقبل میں پاکستان بھی کسی ایسے خدشے کا سامنا کر سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، لیکن عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کی تبدیلیاں نئے خدشات کو جنم دیتی رہتی ہیں۔ پاکستان ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے اور اس کا جوہری پروگرام مضبوط حفاظتی نظام کے تحت چلتا ہے۔ اس کی پالیسی بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا ہے، نہ کہ جارحیت کو فروغ دینا۔

عالمی سطح پر جوہری پالیسیوں میں دوہرے معیار کا مسئلہ بھی اس بحث کا اہم حصہ ہے۔ ایک طرف ایران جیسے ممالک پر سخت پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور ان کے پروگرام کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی جوہری صلاحیت پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اسرائیل Nuclear Non-Proliferation Treaty کا حصہ نہیں اور اس کے جوہری پروگرام پر International Atomic Energy Agency کی مکمل نگرانی بھی نہیں ہے۔

اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اس پر کوئی سنجیدہ دباؤ نہیں ڈالا جاتا، جو عالمی سطح پر عدم توازن اور ناانصافی کے تاثر کو بڑھاتا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات اس پالیسی کی بنیادی وجہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عسکری، سیاسی اور معاشی روابط نہایت گہرے ہیں، جس کے باعث امریکہ اسرائیل کے حساس معاملات پر کھل کر تنقید کرنے سے گریز کرتا ہے۔ یہی رویہ دیگر ممالک کے لیے سوالیہ نشان بنتا ہے اور عالمی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

ایسے پیچیدہ حالات میں پاکستان نے نہایت محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ پسِ پردہ سفارت کاری کو مذید فروغ دے، علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنائے، اور کسی بھی ایک فریق کا کھلا ساتھ دینے سے گریز کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی ذمہ دارانہ ایٹمی پالیسی کو ایک مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاکہ عالمی سطح پر یہ پیغام دیا جا سکے کہ طاقت کا اصل مقصد امن کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ تصادم کو ہوا دینا۔

آخرکار، یہ حقیقت واضح ہے کہ دنیا ایک نہایت حساس دور سے گزر رہی ہے جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے اثرات پوری انسانیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے جس دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہ صرف اس بحران کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، باوقار اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی پہچان کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب بھی ہوچکا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے