سوشل میڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ ان تمام کا جہاں نقصان ہے، وہاں فائدے بھی بہت ہیں۔ ہم نے بہت سی اچھی باتیں یوٹیوب اور انسٹاگرام سے سیکھیں اور یقین کیجیئے اس کا ہماری زندگی پر مثبت اثر ہوا۔ اچھی بات تو انسان کسی سے بھی سن کر اس پر عمل کر سکتا ہے۔
یوٹیوب پر جب ہم موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ سے فیضیاب ہوئے تو وہیں ہمیں مختلف انڈین موٹیویشنل اسپیکرز نے بھی بہت متاثر کیا۔ اگر انڈین اسپیکرز کی بات کی جائے تو سندیپ مہیشوری، ہمیش مدن، سونو شرما اور شیو کھیرا کی باتوں سے ہم مستفید ہوئے۔ اسی طرح ہم یو پی ایس سی اور آئی پی ایس کے امتحان کی تیاری کے حوالے سے انڈیا کے موٹیویشنل اسپیکر، سر وکاس اور خاص کر خان سر سے بہت متاثر ہوئے۔
خان سر کا کام بولتا ہے۔ یہ وہی خان سر ہیں جنہوں نے انڈیا کے غریب بچوں کو زمین سے آسمان پر پہنچا دیا۔ وہ غریب بچے جو مہنگی فیس نہیں دے سکتے تھے، خان سر نے ان کے لیے جگہ کا بندوبست کیا اور معیاری تعلیم اور قابل اساتذہ کا ایسا نیٹ ورک شروع کیا جو بہت کامیاب ہوا۔ خان سر انڈیا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ایک اچھے استاد کی مثال بن کر سامنے آئے۔
ہمارے ملک میں بھی خان سر کے فینز کی تعداد بڑھنے لگی۔ لاکھوں پاکستانیوں نے خان سر کے چینل کو سبسکرائب کیا اور ان کی باتوں کو اہمیت دی۔
بہت سی باتوں کے علاوہ ہمیں ان کی مردوں کے حوالے سے ایک بات بہت اچھی لگی جو انہوں نے ایک پروگرام میں کہی۔
خان سر نے کہا کہ لڑکا کماتا ہے، یہ سب جانتے ہیں، مگر کیسے کماتا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ بچپن سے اسے کہا جاتا ہے کہ مرد کو درد نہیں ہوتا، ہوتا ہے، بس وہ بتاتا نہیں ہے۔ بیچارہ بول نہیں پاتا۔ لڑکے کو بھی تکلیف ہوتی ہے، بس وہ سب کے سامنے رو نہیں پاتا۔
خان سر، جن کا اصل نام فیصل خان ہے، وہ بہار، پٹنہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پٹنہ میں کوچنگ کلاسیں شروع کیں۔ شروعات میں صرف چھ بچے ہی پڑھنے آتے تھے، مگر خان سر کا انداز ایسا دلچسپ تھا کہ وہ آہستہ آہستہ لوگوں میں مقبول ہوتے گئے۔ پھر یوٹیوب چینل نے انہیں دنیا بھر میں مشہور کر دیا اور اس وقت ان کے یوٹیوب چینل پر لاکھوں سبسکرائبرز ہیں، جہاں وہ سائنسی اور سماجی موضوعات پر لیکچر دیتے ہیں۔
ایک مرتبہ خان سر کو ایک ادارے کی طرف سے کوچنگ کے لیے ایک کروڑ سے بھی زیادہ کی آفر کی گئی، مگر انہوں نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بچوں کے لیے قربانی دی، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت انڈیا کے ہر بڑے ادارے میں ان کا کوئی نہ کوئی شاگرد ضرور مل جاتا ہے۔
خان سر امیتابھ بچن کے پروگرام "کون بنے گا کروڑ پتی” میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔ خان سر کی باتیں اس قدر دلچسپ ہیں کہ بچن صاحب بھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ:
"جی تو چاہتا ہے کہ آپ کی باتیں سنتے رہیں، کھیل تو ہوتا ہی رہے گا۔”
اس پروگرام میں بچن صاحب کو خان سر نے ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ جب انہوں نے شروعات میں اپنے دوست کی دکان پر آن لائن ٹیوشن سینٹر شروع کیا تو انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دکان ریل کی پٹری کے قریب تھی۔ جیسے ہی خان سر بچوں کو پڑھانے کے لیے کچھ بولتے، پیچھے سے ریل کی آواز آ جاتی اور وہ خاموش ہو جاتے۔ وہ دوبارہ پڑھانا شروع کرتے تو پاس بندھی ہوئی بکری بولنے لگتی، پھر ایسے میں کسی بچے کی آواز آ جاتی:
"کیا بکری پال رکھی ہے، سر؟”
یہ تو تھے خان سر کے کارنامے، جسے دنیا مانتی ہے، مگر ایک بات ایسی بھی ہے جو خان سر بہت غلط کرتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنی ویڈیوز میں ہمارے ملک کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پوڈ کاسٹس میں بیٹھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں جو میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔ مجھے سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ انڈیا میں رہنے والے مسلمان آخر اتنے کمزور کیوں ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی دیش بھگتی ثابت کرنے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جاتے ہیں اور اتنا نیچے گر جاتے ہیں کہ واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
یاد رکھو، خان سر، آدمی زمین سے اٹھ کر تو کھڑا ہو سکتا ہے، لیکن اگر ایک بار نظر سے گر جائے تو اس کا اٹھنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ پچھلے دنوں خان سر نے انڈیا کے مختلف پوڈ کاسٹس میں جا کر پاکستان کے خلاف جو زہر اگلا ہے اور ہنس ہنس کر مذاق اڑایا ہے، اس کے بعد ہمیں ان سے محبت نہیں رہی۔
پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ خان سر کی وہ ویڈیوز ضرور دیکھیں اور اس آدمی کی اوقات لوگوں کو بتائیں کہ اختلاف کرنے اور کسی کا مذاق اڑانے میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک پوڈکاسٹر نے خان سر سے پوچھا کہ آپ کی پاکستان سے کیا دشمنی ہے تو موصوف فرماتے ہیں کہ مجھے وہاں کے لوگوں سے نفرت ہے۔ ایک جگہ ان کا کہنا ہے کہ اگر میرا بس چلے تو میں پاکستانیوں کو (معاذ اللہ) دفنا دوں اور آگ لگا دوں۔
ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ خان سر، کیا کوئی یو پی ایس سی کی تیاری کرانے والا استاد ایسا ہوتا ہے؟ کیا دشمنی میں اس حد تک گر جانا کسی اچھے استاد کو زیب دیتا ہے؟ خان سر، تم ہمارے ملک کو ایک ایسے جانور سے تشبیہ دے رہے ہو جسے مذہب میں اچھا نہیں کہا گیاکیا تم مسلمان کہلانے کے حق دار ہو؟
ہمارے ہاں ہزاروں بچے، جن کے لیے تم رول ماڈل تھے، اب ان کے لیے تمہاری حیثیت بھی اسی جانور جیسی ہو گئی ہے جس کا ذکر تم مختلف پوڈ کاسٹس میں کر رہے تھے۔ تم اتنے ڈرپوک ہو کہ گودی میڈیا کے اسسٹنٹ بنے ہوئے ہو۔ یاد رکھو، یہ شہرت، عزت، نام اور مرتبہ سب اللہ نے تمہیں دیا ہے، جو وہ تم سے واپس بھی لے سکتا ہے۔
لگتا ہے، خان سر، تمہارا دماغی توازن خراب ہو چکا ہے، جو تم ایسی بہکی بہکی اور پاگلوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ یاد رکھو، یہ جو تم پاکستان پر حملے کا پلان بنا کر اپنے یوٹیوب چینل پر ڈال رہے ہو، اس سے کچھ نہیں ہونے والا۔
پاکستان تم جیسے سستے استادوں سے نہیں ڈرتا۔ تمہیں پہلے بھی سبق سکھایا تھا اور اب بھی سکھائیں گے۔ ہمیں تو حیرانی ہے کہ جس ملک کا استاد اس طرح کا ہو، وہاں شاگردوں کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔
تم بڑے بدقسمت ہو، خان سر۔ میں تو تمہاری تعریف میں ایک کالم لکھنے والا تھا، مگر پھر تمہاری فضول ویڈیوز دیکھ لیں۔ کالم کے آغاز میں بھی میں نے تم سے ادب سے گفتگو کی، مگر تم نے ہمارے ملک کے خلاف جو بکواس کی ہے، وہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ اب تمہارے چینل کو کوئی پاکستانی لائک نہیں کرے گا، کوئی سبسکرائب نہیں کرے گا، کیونکہ تم اس لائق ہی نہیں ہو۔
تمہارے ہی ملک کی ایک شاعرہ کے اشعار ہیں، جو تم پر فٹ بیٹھتے ہیں:
جو خاندانی رئیس ہیں، وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے، تمہاری دولت نئی نئی ہے
ذرا سا قدرت نے کیا نوازا، جو آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں،
ابھی تو شہرت نئی نئی ہے
اور آخر میں یہی کہوں گا کہ خان سر، ہم تو تمہارے فین تھے۔ اب بھی وقت ہے، معافی مانگ لو، ورنہ یہی کہنا پڑے گا:
خان سر، پگلا گئے ہو کیا؟