جب حضرت سلیمانؑ اپنے لشکر کے ساتھ ایک وادی سے گزر رہے تھے تو ایک ننھی سی چیونٹی نے اپنی برادری کو خبردار کیا: “اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں روند نہ ڈالے، جبکہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔” یہ سن کر حضرت سلیمانؑ مسکرا دیے (سورۃ النمل، آیات 18–19)۔ ایک معمولی سی مخلوق کی یہ دانائی، یہ اجتماعی شعور، اور اپنی قوم کے لیے فکر یہ سب اس بات کا ثبوت تھا کہ قدرت نے اپنی ہر تخلیق کو کسی نہ کسی حکمت سے نواز رکھا ہے۔
قدرت کی وسیع کتاب میں کچھ ایسے ابواب بھی ہیں جو بظاہر نہایت معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر جب ان پر غور کیا جائے تو وہ انسان کی عقل کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ چیونٹی بھی انہی معمولی نظر آنے والی مخلوقات میں سے ایک ہے، جس کے اندر ایک مکمل تہذیب، ایک مربوط نظام، اور ایک خاموش مگر مسلسل جدوجہد کی داستان پوشیدہ ہے۔
ہم اکثر چیونٹی کو صرف ایک چھوٹے سے کیڑے کے طور پر دیکھتے ہیں جو زمین پر رینگتی ہوئی خوراک کے ذرے سمیٹ رہی ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چیونٹی ایک ایسی مخلوق ہے جو نظم و ضبط، محنت، اجتماعی شعور اور حکمتِ عملی کی ایک زندہ مثال ہے۔ چیونٹیاں زیر زمین باقاعدہ شہر بساتی ہیں، ان کی اپنی سلطنت ہوتی ہے جہاں زندگی کے ہر پہلو کے حساب سے الگ الگ شعبے تقسیم کیے گئے ہیں۔
ان کے ہاں خوراک ذخیرہ کرنے کے لیے باقاعدہ گودام ہوتے ہیں جہاں اناج اور دیگر غذائی ذرائع محفوظ رکھے جاتے ہیں، بچوں کے لیے مخصوص نرسریاں یا وارڈز قائم ہوتے ہیں جہاں لاروا کو مناسب درجۂ حرارت اور نمی میں رکھا جاتا ہے، ملکہ کے لیے علیحدہ اور محفوظ حصہ ہوتا ہے، جبکہ سپاہی چیونٹیاں دفاع کے لیے مخصوص مقامات پر تعینات رہتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ صفائی کا ایک منظم نظام موجود ہوتا ہے جس کے تحت کچرا اور مردہ چیونٹیاں کالونی سے دور مخصوص جگہوں پر منتقل کر دی جاتی ہیں، گویا ایک سادہ مگر مؤثر سیوریج سسٹم قائم رکھا جاتا ہے۔ ہوا کی آمدورفت کے لیے سرنگوں کا جال بچھایا جاتا ہے، نمی اور درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے کے لیے مخصوص ساخت اختیار کی جاتی ہے، اور بارش یا سیلاب کی صورت میں محفوظ حصوں کی طرف منتقلی یا بعض اوقات زندہ بیڑے (raft) بنانے جیسی حکمتِ عملی بھی اختیار کی جاتی ہے۔
ایک اوسط زیرِ زمین کالونی میں ہزاروں سے لے کر لاکھوں چیونٹیاں موجود ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض بڑی اقسام کی کالونیاں ملینز (لاکھوں سے بھی زیادہ) تک پہنچ جاتی ہیں۔ حیران کن طور پر جدید سائنسی اندازوں کے مطابق پوری دنیا میں تمام اقسام کی چیونٹیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 20 کوآڈریلین (20,000,000,000,000,000) کے قریب سمجھی جاتی ہے، جو زمین پر انسانوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے (حوالہ: Tschinkel, 2004؛ PNAS, 2015؛ Mlot et al., 2011؛ global ant estimate, 2022)۔
چیونٹیوں کی زندگی کا آغاز ایک ملکہ سے ہوتا ہے۔ یہ ملکہ اپنی پوری زندگی کا بیشتر حصہ صرف انڈے دینے میں گزار دیتی ہے۔ ایک صحت مند کالونی میں ہزاروں بلکہ لاکھوں چیونٹیاں موجود ہو سکتی ہیں، اور یہ سب اسی ایک مرکز سے جنم لیتی ہیں۔ ملکہ کے علاوہ باقی چیونٹیاں مختلف ذمہ داریوں میں تقسیم ہوتی ہیں: کچھ خوراک تلاش کرتی ہیں، کچھ بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، کچھ کالونی کی حفاظت پر مامور ہوتی ہیں، اور کچھ تعمیراتی کام انجام دیتی ہیں۔
یہ تقسیمِ کار اس قدر منظم ہوتی ہے کہ کسی انسانی ادارے کی یاد دلاتی ہے، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں کوئی باقاعدہ حکم دینے والا نہیں ہوتا۔ ہر چیونٹی اپنے فطری پروگرام کے تحت کام کرتی ہے، اور یہی انفرادی عمل اجتماعی طور پر ایک شاندار نظام میں ڈھل جاتا ہے (حوالہ: self-organization in social insects، مختلف حیاتیاتی مطالعات)۔
چیونٹیوں کے زیرِ زمین گھر، جنہیں ہم عام طور پر صرف بل یا سوراخ سمجھتے ہیں، دراصل ایک پیچیدہ اور مربوط ڈھانچہ ہوتے ہیں۔ ان میں مخصوص جگہیں بچوں کے لیے مختص ہوتی ہیں جہاں لاروا کو ایک خاص درجۂ حرارت اور نمی میں رکھا جاتا ہے۔ کچھ حصے خوراک ذخیرہ کرنے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ بعض مقامات کچرے کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیں تاکہ صفائی کا نظام برقرار رہے (حوالہ: PNAS, 2015 — spatial organization of ant colonies)۔
یہ تمام نظام اس انداز سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ ہوا کی آمدورفت بھی جاری رہے اور اندرونی ماحول متوازن بھی رہے۔ چیونٹیاں یہ سب کچھ کسی نقشے یا انجینئرنگ کی ڈگری کے بغیر کرتی ہیں، مگر ان کے بنائے ہوئے یہ ڈھانچے اس قدر مؤثر ہوتے ہیں کہ سائنسدان بھی ان کے مطالعے سے نئے اصول اخذ کرتے ہیں۔
چیونٹیوں کی ایک اور حیرت انگیز خوبی ان کا باہمی رابطہ ہے۔ وہ الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ خوشبوؤں، یعنی کیمیائی اشاروں کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کرتی ہیں۔ جب کوئی چیونٹی خوراک کا ذریعہ دریافت کرتی ہے تو وہ واپسی کے راستے پر ایک خاص خوشبو چھوڑتی جاتی ہے، جسے دوسری چیونٹیاں سونگھ کر اسی راستے پر چل پڑتی ہیں۔ یوں چند لمحوں میں ایک پوری قطار خوراک کی طرف بڑھنے لگتی ہے (حوالہ: pheromone communication studies in ants)۔
یہی نہیں، چیونٹیاں خطرے کی صورت میں بھی ایک دوسرے کو خبردار کرتی ہیں۔ ایک مخصوص کیمیائی سگنل پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری کالونی متحرک ہو جاتی ہے۔ یہ خاموش زبان، جو نہ سنائی دیتی ہے نہ دکھائی دیتی ہے، مگر اپنی تاثیر میں بے مثال ہے، چیونٹیوں کی بقا کا ایک اہم راز ہے۔
اگر ہم ان کی سماجی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چیونٹیاں نہ صرف منظم ہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے حساس بھی ہیں۔ زخمی یا بیمار چیونٹیوں کو اکثر دوسری چیونٹیاں اٹھا کر محفوظ مقام تک لے جاتی ہیں۔ کچھ اقسام میں تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ چیونٹیاں اپنے ساتھیوں کے زخم صاف کرتی ہیں اور انہیں تنہا نہیں چھوڑتیں (حوالہ: Cremer et al., 2007, Current Biology — social immunity)۔
چیونٹیوں کے ہاں بچوں کی پرورش بھی ایک باقاعدہ نظام کے تحت ہوتی ہے۔ ننھی چیونٹیاں، جو لاروا کی شکل میں ہوتی ہیں، خود سے کچھ نہیں کر سکتیں۔ انہیں خوراک دینا، صاف رکھنا اور مناسب ماحول فراہم کرنا ورکر چیونٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ عمل اس قدر باقاعدگی سے انجام پاتا ہے کہ کالونی کی بقا یقینی بن جاتی ہے۔
چیونٹیوں کی دنیا کا ایک اور حیرت انگیز پہلو ان کی معاشی سرگرمیاں ہیں۔ کچھ چیونٹیاں خوراک کو جمع کر کے ذخیرہ کرتی ہیں تاکہ مشکل وقت میں استعمال کیا جا سکے۔ بعض اقسام کھیتی باڑی بھی کرتی ہیں؛ وہ زمین کے اندر فنگس اگاتی ہیں اور اسی کو اپنی خوراک بناتی ہیں۔ کچھ چیونٹیاں چھوٹے کیڑوں کو “پالتی” ہیں اور ان سے میٹھا رس حاصل کرتی ہیں، گویا ایک ابتدائی طرز کی مویشی بانی (حوالہ: fungus-farming ants studies, Smithsonian reports)۔
یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ چیونٹیوں کی زندگی محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ ان کی کالونی کو اگر ایک جاندار جسم تصور کیا جائے تو ہر چیونٹی اس کا ایک خلیہ ہے، اور سب مل کر ایک “بڑا وجود” تشکیل دیتے ہیں۔
ان کی صفائی کا نظام بھی قابلِ ذکر ہے۔ چیونٹیاں اپنے گھروں میں کچرا جمع نہیں ہونے دیتیں۔ مردہ چیونٹیوں کو فوراً کالونی سے باہر لے جایا جاتا ہے تاکہ بیماری نہ پھیلے، اور بعض اوقات وہ کچرے کے لیے الگ جگہ مختص کرتی ہیں (حوالہ: PNAS, 2015)۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بارش یا سیلاب کی صورت میں بعض چیونٹیاں اپنے جسموں کو جوڑ کر ایک زندہ بیڑا (raft) بنا لیتی ہیں جو پانی پر تیرتا رہتا ہے (حوالہ: Mlot et al., 2011, PNAS)۔
اگرچہ سوشل میڈیا اور عام گفتگو میں چیونٹیوں کے بارے میں مبالغہ آمیز باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں، جیسے کہ ان کے باقاعدہ ہسپتال یا ڈاکٹر ہوتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے۔ چیونٹیاں انسانوں کی طرح پیچیدہ ادارے نہیں بناتیں، مگر ان کے سادہ اور فطری نظام اس قدر مؤثر ہوتے ہیں کہ وہ ایک مکمل معاشرہ تشکیل دے دیتے ہیں۔
چیونٹی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت ہمیشہ جسامت میں نہیں ہوتی، بلکہ نظم، محنت اور اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔ ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھا سکتی ہے، اور یہی اس کی فطری قوت کا ثبوت ہے۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر اس کی اصل طاقت اس کا اجتماعی نظام ہے، جہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرتا ہے۔
اگر انسان چیونٹیوں کی زندگی سے کچھ سیکھنا چاہے تو بہت کچھ سیکھ سکتا ہے: مستقل مزاجی، نظم و ضبط، اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا، اور خاموشی سے اپنا کام کرتے رہنا۔
آخرکار، چیونٹی ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ قدرت کے نظام میں کوئی بھی مخلوق بے معنی نہیں۔ جو مخلوق ہمیں معمولی دکھائی دیتی ہے، وہ اپنے اندر ایک مکمل دنیا سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم دیکھنے کا سلیقہ پیدا کریں۔
تقریباً 20 کوآڈریلین چیونٹیاں دنیا میں موجود ہیں، مگر پھر بھی ان کے درمیان نظم و ضبط اور اجتماعی حکمت ایسی مثالی ہے کہ دیکھنے والا حیرت زدہ رہ جاتا ہے اور قدرت کی کاریگری پر بے اختیار سبحان اللہ کہتا ہے۔
اور ہم پاکستانی تقریباً 22 کروڑ ھیں، چیونٹیوں کی کل تعداد کے سامنے اٹے میں نمک۔ اشرف المخلوقات، سڑک پر ٹریفک کے ایک لین سیدھی نھین رکھ سکتے۔ نماز میں ایک صف سیدھی نھیں بنا سکتے۔
ڈسپلن سے عاری ھیں جیسے کسی صحرا میں پانی۔ جھوٹ سے دن کا اغاز کرتے ھیں اور کسی نہ کسی کو کاٹ کر رات کو سوجاتے ھیں۔ بدتمیزی بے شرمی جہالت غرور اور تکبر ھمارے لئے قابل فخر وصف ھیں۔
کچرے کے ڈھیر پر بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے ھیں۔ کاش ھم چیونٹیاں ھی ھوتے۔