قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمانوں پر اپنے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر اس نعمت کا بیان فرمایا کہ اللہ نے تمہارے دلوں کو شیطان کے وسوسوں سے پاک کیا اور تمہارے دلوں کو مضبوط کیا تاکہ تمہارے قدم جمے رہیں۔
اگر غزوۂ بدر میں مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو انسانی نفسیات کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو کسی بھی میدان میں کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک وہ تسلسل اور استقامت کے ساتھ جم کر کام نہ کرے۔ جبکہ ثابت قدمی اور تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ انسان کا دل وسوسوں اور بے یقینی سے پاک ہو، کیونکہ وسوسے انسان کے ارادوں کو کمزور کر دیتے ہیں اور نتیجتاً انسان عملی اقدام میں بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ ایسے صورتحال میں اگر بالفرض انسان کسی کام کے حوالے سے پُرعزم ہو کر اس کی ابتدا بھی کر لے تو بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے چند قدم اٹھانے کے بعد وہ رک جاتا ہے اور ہمت ہار بیٹھتا ہے۔
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان جب کوئی کام شروع کرے تو اس سے پہلے متعلقہ کام کے بارے میں مکمل یکسو اور مطمئن ہو کہ جو کام وہ کر رہا ہے وہ درست ہے، اور اس پر جو وقت، محنت اور وسائل خرچ کر رہا ہے وہ بھی صحیح سمت میں لگ رہے ہیں۔
اس تمہید کے بعد ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کی پالیسیوں کی طرف آتے ہیں اور جائزہ لیتے ہیں کہ کیا ہماری یہ پالیسیاں اس قابل ہیں کہ ہمیں دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کر سکیں۔
یہ بات بدیہی طور پر واضح ہے کہ اقوام کی ترقی کا راز ان کے باہمی اتفاق و اتحاد میں مضمر ہوتا ہے۔ اور قوم کا اتفاق و اتحاد اس وقت ممکن ہوتا ہے جب اس کے افراد کے درمیان باہمی اعتماد موجود ہو۔ جبکہ اعتماد کے لیے یہ ضروری ہے کہ قوم اور قیادت کے درمیان شفافیت ہو، یعنی جو بات ظاہر میں کہی جائے وہی حقیقت میں بھی ہو، اور پالیسیوں میں ابہام یا تضاد نہ ہو۔ ایسی صورت میں قوم یکسو ہو جاتی ہے، اور یہی یکسوئی اسے کسی بھی معاملے میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔
ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ ہمارے ہاں جب کبھی صاحبِ اختیار افراد سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ فلاں پالیسی سے ہمیں یہ اور یہ نقصان ہو رہا ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے یا اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، تو ذمہ داران کی طرف سے ہمیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ "ہم بڑے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں”۔ اس مبہم جواب کے ذریعے دراصل قومی پالیسیوں کے اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں قوم سے قومی پالیسیوں کی اصل تصویر اوجھل ہو جاتی ہے اور لوگ مجموعی طور پر الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر قوم کا ہر فرد اپنی سمجھ کے مطابق قومی پالیسیوں کی تشریح کرنے لگتا ہے۔ اس سے آرا میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور قوم فکری طور پر تقسیم ہونے لگتی ہے۔
ایسی صورتِ حال دشمن کے لیے بھی سازگار ثابت ہوتی ہے، کیونکہ جب قوم کے اندر ابہام اور الجھن ہو تو دشمن کے بیانیے کو جگہ مل جاتی ہے۔ نتیجتاً قوم کے باشعور اور مخلص افراد بھی بعض اوقات دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی پالیسیوں کی واضح تصویر میسر نہیں ہوتی۔
اس طرح پوری قوم قومی پالیسیوں کے حوالے سے وساوس اور تذبذب کا شکار ہو جاتی ہے۔ جبکہ تذبذب اور بے یقینی کے شکار افراد کے درمیان باہمی اعتماد پیدا ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ اور جس قوم کے افراد میں اعتماد نہ ہو وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ مستقل مزاجی کے ساتھ نہیں کر سکتی۔ جبکہ ہم نے ابتدا میں قرآن کی روشنی میں یہ بات واضح کی تھی کہ کامیابی کے لیے استقامت اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔
غالباً یہی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم ابھی تک دنیا میں کوئی بڑی اور دیرپا کامیابی حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں۔
ان حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمیں اپنی قومی پالیسیوں کو سادہ، واضح اور عام فہم بنانا ہوگا، اور انہیں حقیقت اور صداقت پر مبنی رکھنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں اور بیانیوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ سچائی کا سامنا کرنے، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور واضح سمت اختیار کرنے سے ترقی کرتی ہیں۔
اس ضمن میں یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہمیں اپنی پالیسیوں کے حوالے سے نہایت سادہ اور واضح رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہاں تک کہ جس طرح کسی قوم کی تہذیب و تمدن سے قوم کا ہر فرد واقف ہوتا ہے، اسی طرح قومی پالیسیوں کی بنیادی سمت سے بھی قوم کے افراد کو آگاہ ہونا چاہیے۔ جب پالیسی قومی شعور کا حصہ بن جائے تو قوم کسی بھی چیلنج کے مقابلے میں زیادہ یکسو اور مضبوط ہو جاتی ہے، اور دشمن کو قوم کے اندر دراڑ ڈالنے کا موقع نہیں ملتا۔
البتہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ایسا ممکن نہیں کہ صاحبِ اختیار افراد کی ہر پالیسی کی حکمت سے قوم کا ہر فرد مکمل طور پر واقف ہو، کیونکہ نہ یہ ممکن ہے اور نہ ہی قومی ترقی کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ بھی مناسب نہیں کہ پالیسی سازی کا عمومی اصول ہی یہ بن جائے کہ قوم کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا جائے۔
درست طرزِ عمل یہ ہے کہ قومی پالیسیوں کی بنیادی سمت، مقاصد اور عمومی حکمت قوم کے سامنے واضح ہو، تاکہ قوم اعتماد کے ساتھ ان پالیسیوں کی پشت پر کھڑی ہو سکے اور ملک ترقی کی راہ پر استقامت کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔