ہمارے مذہبی طبقات کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ غیر ضروری جذباتیت، نعرے بازی اور افراتفری آہستہ آہستہ ان کے مزاج اور پالیسی کا حصہ بنتی جا رہی ہے اور وہ اس کو اپنی بھلائی اور کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ دین اسلام اعتدال، حکمت اور بصیرت کا نام ہے، مگر جب اس کے نمائندے ہی جذبات کے بہاؤ میں بہنے لگیں تو پھر رہنمائی کے بجائے انتشار جنم لیتا ہے اور خیر کے بجائے شر پھیلتا ہے۔ میں دینی سماجی علوم کا طالب علم ہوں، اسی تناظر میں حالات و واقعات اور گفتگو و مکالمہ اور بیانات و بیانیہ کا جائزہ لیتا ہوں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے کہ آخر یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟
اس پر مستزاد افسوس اس امر پر بھی ہے کہ اگر ان سے ٹھنڈے دل اور عقل و دانش کے ساتھ سوچنے کی گزارش کی جائے تو بجائے غور کرنے کے، مزید اشتعال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ شعور اور اعتدال کی بات کرنے والے کو ہی موردالزام ٹھہراتے ہیں۔
میاں بات سنیں! حقیقت یہ ہے کہ نوجوان نسل، خصوصاً ٹین ایج طبقہ، آپ کی بات کو دل سے سنتا ہے۔ آپ کے اجتماعات میں جو درجوق پہنچ جاتا ہے۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہی بنتا ہے کہ اللہ رب العزت نے آپ کو ایک عظیم موقع عطا کیا ہے، نوجوانوں کی رہنمائی کا، تربیت کا، اور قوم کےاخلاقیات و اعمال کو سنوارنے کا۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کریں، سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کریں، اور نوجوانوں کو ایک بااخلاق، باشعور اور ذمہ دار شہری بنانے پر توجہ دیں، ایسا مسلمان جو اپنے دین اور دنیا دونوں میں توازن رکھتا ہو۔ سچ کہوں تو آپ کی رہبری کا یہی تقاضہ ہے۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے مذہبی زعماء اور ہمارے منبر و محراب سے اکثر جو آواز بلند ہوتی ہے، وہ فکر و شعور کی نہیں بلکہ جذبات، نعروں اور وقتی جوش کی ہوتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان کا خون تو گرم ہو جاتا ہے، مگر اس کی سمت درست نہیں رہتی۔ کبھی وہ فرقہ واریت کی آگ میں کود پڑتا ہے اور خود بھی جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے، کبھی ریاستی نظم کے خلاف کھڑا ہونا ہی مذہبی خدمت سمجھنے لگتا ہے، اور کبھی فتنہ و فساد کو اپنی شناخت کا حصہ بنا لیتا ہے اور اس پر اتراتا بھی ہے اور گھمنڈ بھی کرتا ہے۔ لاحول ولا قوۃ!
ہم سب کو معلوم ہے کہ یہ وہ راستہ نہیں جو دین اسلام نے ہمیں دکھایا ہے۔جو قرآن نے سکھایا ہے اور جو رحمۃ للعالمین نے بتایا ہے۔
کاش! ہمارے یہ معزز حضرات نوجوانوں کی تربیت کو اپنا حقیقی مشن بنا لیں۔ کاش وہ حالات واقعات اور مقتضائے حال کا جائزہ لے کر ایسے بامقصد پروگرامز اور منصوبے ترتیب دیں جن میں حسن اخلاق، برداشت، تحمل،بردباری، تعلیم و تحقیق، مکالمہ اور جدید تقاضوں کی سمجھ شامل ہو۔ اگر ان تربیتی سرگرمیوں میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیاں، اور ائمہ اطہار کی تعلیمات کو مرکز بنایا جائے، تو یقیناً ایک ایسی نسل پروان چڑھے گی جو نہ صرف دین کی صحیح ترجمان ہوگی بلکہ دنیا میں بھی عزت و وقار کے ساتھ جینے کا سلیقہ جانتی ہوگی۔ کاش! ایسا ہوتا!
ضرورت اس امر کی ہے کہ منبر و محراب ، تنظیم و ادارہ صرف خطابت، جذبات کو برانگیختہ کرنا اور نوجوانوں کا خون گرم کرنے کا مرکز نہ رہے بلکہ تربیت گاہ بنے، جہاں جذبات نہیں بلکہ شعور پیدا ہو، جہاں نفرت نہیں بلکہ محبت پروان چڑھے، اور جہاں اختلاف کو فساد نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ سنبھالنے کا سلیقہ سکھایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر معاشرے اور مضبوط امت کی طرف لے جا سکتا ہے۔یعنی امت وسط۔
حالات بہت سنگینی کہ طرف جارہے ہیں۔ اگر اب بھی آپ کی اسٹریٹجی یہی رہی اور آپ نے بیانیہ تشکیل دیا، تو آنے والی نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی اور نہ ہی مؤرخ آپ کو نجات دہندہ سمجھے گا۔ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ٹکراؤ کے راستوں پر ٹین ایجر کو دھکیل دے بلکہ رہنما اور نجات دہندہ وہی ہوتا ہے جو حکمت عملی کیساتھ قوم کو اس دلدل سے نکالے۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں آپ کو اختیار ہے اور نوجوان آپ کی بات سنتا بھی ہے مگر خدارا! ہزاروں لوگوں کو مشکل کی طرف دھکیل کر، شاید آپ اپنا خسارہ عظیم کررہے ہیں، صرف اپنا نہیں سب کا اور ملک و ملت کا بھی ، کیا آپ اپنی حکمت عملی پر معقولیت کیساتھ غور کرکے قوم کو اس مشکل سے نکال کر آسانی کی طرف نہیں لے جاسکتے ؟ دیکھ لیں! اب بھی وقت ہےاور وقت سے فائدہ اٹھا لیجے۔