پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی نظریاتی بنیاد، جغرافیائی محلِ وقوع اور عالمی اہمیت کے باعث ہمیشہ سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وطنِ عزیز کو مختلف ادوار میں اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں، بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے گرد ایک ایسا جال بُننے کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے، جس کا مقصد اسے کسی نہ کسی بڑے تنازع میں الجھانا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی طاقتوں کی مفادات پر مبنی پالیسیاں، اور خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی کوششیں—یہ سب عوامل مل کر ایک خطرناک منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو ایک “پراکسی” کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔ خاص طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کو سعودی عرب کے ذریعے کسی ممکنہ جنگ میں دھکیلا جا سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان کی قیادت نے بالغ نظری، تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دباؤ کو نہ صرف سمجھا بلکہ بڑی حکمت کے ساتھ اس کا راستہ بھی روکا۔
یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے کہ اس نے نہ صرف خود کو کسی براہِ راست جنگی محاذ کا حصہ بننے سے بچایا بلکہ خطے میں ایک متوازن اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت بھی برقرار رکھی۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، اور یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے اسے ایک باوقار قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
تاہم اب جنگ کا میدان صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور معلوماتی جنگ (Information Warfare) کے ذریعے بھی پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فیک اکاؤنٹس، جھوٹی خبریں، اور من گھڑت تجزیے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو ایران کے خلاف کسی ممکنہ جنگ میں شامل ہونا چاہیے، جو نہ صرف حقیقت سے دور ہے بلکہ ایک خطرناک سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ گہرے مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتوں پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی ہم آہنگی، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ مفادات موجود ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کو تباہ کر سکتی ہے۔
اس کے باوجود اگر کوئی طاقت، چاہے وہ بھارت ہو یا اسرائیل، خطے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دیتی ہے، یا پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے—جیسے کہ سفارتی حدود کی خلاف ورزی، پاکستانی سفارت خانے کے قریب حملہ، یا کسی پاکستانی سفیر کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش—تو یہ ایک ناقابلِ برداشت عمل ہوگا۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، اور اس کی خودمختاری پر کوئی آنچ برداشت نہیں کی جا سکتی۔
ایسی کسی بھی صورتحال میں پاکستان کا ردِعمل نہایت سنجیدہ، مؤثر اور فیصلہ کن ہوگا۔ تاہم یہ ردِعمل کسی جذباتی کیفیت کا نتیجہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے ہوگا۔ پاکستان کسی بھی برادر اسلامی ملک کے خلاف اقدام نہیں کرے گا، بلکہ ان عناصر کے خلاف کھڑا ہوگا جو خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دشمن کی سب سے بڑی حکمتِ عملی یہی ہوتی ہے کہ وہ قوم کو اندر سے کمزور کرے۔ لسانی، فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات کو ہوا دے کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ لہٰذا آج ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہوش مندی کا مظاہرہ کرے، غیر مصدقہ خبروں سے دور رہے، اور قومی مفاد کو ذاتی یا گروہی مفاد پر ترجیح دے۔
مزید برآں، پاکستان کو اپنی داخلی استحکام پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ مضبوط معیشت، مستحکم سیاسی نظام اور متحد قوم ہی کسی بھی بیرونی خطرے کا مؤثر مقابلہ کر سکتی ہے۔ ہمیں تعلیم، شعور اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھ کر اپنی آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط اور باوقار پاکستان دینا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، لیکن کمزور نہیں۔ یہ امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، تو یہ قوم نہ صرف اپنا دفاع کرے گی بلکہ اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دے گی کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے—جو ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھرتی ہے، اور جس کے حوصلے کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔