دینی مدارس میں مختلف درجات میں تخصص اور اسلامی علوم و فنون کے شعبہ ہائے اختصاص اور درجات تکمیل کے حوالے سے جس تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، وہ نہایت حوصلہ افزاء اور خوش کن ہے، بالخصوص جبکہ دو تین سال قبل وفاق المدارس کے پلیٹ فارم سے تین تخصصات: "تخصص فی الافتاء”، "تخصص فی الحدیث” اور "تخصص فی الادب” کی منظوری اس باب امید کی نئی کرن ہے، اگرچہ اس حوالے سے عملی طور پر اب کچھ سکوت سا چھاگیا ہے، مگر یہ آواز اٹھنا بذات خود ایک روشن امید اور دینی مدارس کے اعلی تعلیم کے مستقبل کے باب میں مسرت افزا نوید ہے۔
اس تمام تر مثبت پیش رفت کے باوجود مدارس میں تخصصات کی کثرت اور اس کے دورانیے کا اختلاف "اختصاص” کی اصطلاح کی معنویت کو بہرحال کسی حد تک متاثر کر رہا ہے، مگر دوسری طرف زمانے کی بدلتی صورتحال، معاشرتی ضروریات اور فضلاء کے رجحانات، یہ سب ایسے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر اہل مدارس اس دورانیے کو کبھی بڑھاتے اور کبھی کم کرتے ہیں، جس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ فن کی وقعت میں کمی آئے ، اصل ہدف یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کو اپنے رجحانات اور ضروریات کے مطابق اس فن کے ساتھ ایک بہتر اور بامعنی مناسبت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو وفاق المدارس کا مذکورہ اقدام اس توازن (balancing) کو برقرار رکھنے میں یقیناً مثبت کردار ادا کرسکے گا، اللہ کرے یہ کام جلد عملی صورت اختیار کرجائے۔
کسی بھی موضوع کے ساتھ "اختصاص” کا حقیقی تعلق اس سے دائمی وابستگی، مسلسل انہماک اور کثرت مطالعہ سے ہوتا ہے، لیکن اس سفر کے لیے ایک واضح، منظم رہنما روڈ میپ کی ضرورت بہرحال باقی رہتی ہے، جس پر چل کر طالب علم اپنے ذوق مطالعہ کو حقیقی اختصاص کی منزل تک پہنچا سکتا ہے، اس لیے ایک دو سال میں موضوع کا حقیقی اختصاص نہ سہی ، مگر نظام ونصاب کی پیروی سے اس کو متعلقہ فن میں بامعنی مناسبت ضرور حاصل ہوسکتی ہے۔
معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی کا قدیم دینی درسگاہ ہے، شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز مولانا یحٰیی مدنی صاحب رحمہ اللہ کی یادگار ہے، یہاں کے حضرات نے چند سال قبل "تخصص فی علوم الحدیث” کے شعبے کا اجرا کیا، جو اب الحمد اللہ علم حدیث کے ماہر اساتذہ کرام کے طویل تدریسی اور تحقیقی تجربات کی روشنی میں خوب پھل پھول رہا ہے، اور حدیث کے نشر واشاعت کے میدان میں اپنی خدمات کا حصہ ملا رہا ہے۔
ماہرین فن کو اندازہ ہے کہ دیگر تخصصات کے برعکس علم حدیث میں اختصاص فنی نوعیت کا خالص علمی مشغلہ ہے، اس لیے یہ ہمہ وقتی علمی، مطالعاتی اور کتابی اشتغال چاہتا ہے، ساتویں صدی ہجری کے معروف محدث شیخ ابو اسماعیل الانصاری فرماتے ہیں: هذا الشأن يعنى الحديث، شأن من ليس شأنه سوى هذا الشأن ، یعنی علم حدیث سے تو بس وہی تعلق رکھے جس کا اس کے علاوہ کوئی اور مشغلہ نہ ہو، خطیب بغدادی کی بات اس سے بھی زیادہ واضح ہے، وہ فرماتے ہیں: علم الحديث لا يعلق علوقا تاما إلا بمن قصر نفسه عليه ولم يضم غيره من الفنون إليه ، کہ علم حدیث سے حقیقی اور کمال کا تعلق اسی کا ہوسکتا ہے، جو خود کو اس کے لیے وقف کرے، کسی اور فن کو ساتھ نہ ملائے۔اس سے فن کی اہمیت اور محنت طلب ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مذکورہ بحث کے عمومی تناظر میں ایک اہم اور بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ تخصص کے مرحلے میں طالب علم اپنے تعلیمی سفر کے گذشتہ دس، بارہ سال کی طرح استاد کے سامنے بیٹھ کر تدریسی انداز میں صرف فن کی کتابیں پڑھنے اور سمجھنے کا کام کرے یا شخصی مطالعہ وتحقیق کو وقت دے خود کچھ کرنے کا قابل ہوجائے، تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس مرحلے میں محض تدریسی دورانیے کی طوالت زیادہ مفید نہیں رہتی، تاہم فن کے مختلف ابعاد میں کچھ ایسے دقیق نکات بھی ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے ماہرین فن کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا ناگزیر ہوتا ہے، اسی لیے فنی اختصاص کے لیے ایسے جامع پروگرامز کی تشکیل ہوتی ہے، جس میں کم تدریسی دورانیے کے ساتھ طلبہ کو علمی وتحقیقی ماحول میں رکھ کر ان کی تربیت کی جاتی ہے، یہاں کا عمومی روڈ میپ یہی ہے۔
اس کے علاوہ مطالعہ وتحقیق پر خصوصی توجہ ہے، علم حدیث ، اس کے متعلقات اور اس کے مصادر و مراجع سے گہری مناسبت کے علاوہ ایسے حدیثی ذوق کے پیدا کرنے کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں طالب علم فن کو سمجھ کر اپنے اکابر کے طرزتبلیغ و تفہیم میں اس کو آگے بڑھاسکیں۔
ایک نمایاں پہلو اس تخصص کا یہ ہے کہ سال بھر کے دوران کراچی کے بڑے دینی وعصری اداروں کے نامور شناوران حدیث کی خدمات "محاضرات” کی صورت میں حاصل کی جاتی ہیں، جس میں وہ حضرات یہاں تشریف لاکر مختلف حدیثی موضوعات پر اظہار خیال فرماتے ہیں، مزید برآں، ماہرین فن سے براہ راست استفادہ کے لیے "علمی رحلات” کی ترتیب بھی موجود ہے، جس میں طلبہ ملک کے مختلف گوشوں میں مقیم علم حدیث کے ماہر حضرات کے پاس جا کر ان سے استفادہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں گذشتہ سال تخصص کے طلبہ دیگر رحلات کی طرح اسلام آباد بھی گئے، جہاں وہ "الندوہ لائیبریری” میں بیس دن مقیم رہے، لائیبریری اور اسلام آباد میں مقیم اہل فن سے مستفید ہوئے۔
تحقیق وبحث کا معیار ہمارے حلقوں میں بتدریج کمزور پڑتا جا رہا ہے، اس حوالے سے مدارس کی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی بلاشبہ ضرورت ہے، یہاں اس بات کی ابتدائی کوشش کی گئی ہے کہ شرکاء میں تحقیق و تصنیف کا ایسا معیاری ذوق پیدا کیا جائے کہ وہ علمائے سلف کے علمی تراث کو بلیغ، مؤثر اور عصری اسلوب میں امت تک منتقل کر سکیں، اس کے لیے سال بھر کے ہفتہ واراور ماہانہ مقالہ جات کے علاوہ تعلیمی (Academic) نوعیت کا ایک منظم تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتا ہے، جس میں طالب علم کو عصری اسلوب میں اپنی تحقیق پیش کرنے کے اسلوب وانداز پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
علم حدیث میں اختصاص کا ذوق رکھنے والوں کے لیے بلاشبہ علمی ماحول، اور استفادے کے حوالے سے نادر موقع ہے کہ داخلہ لے کر اپنی علمی تشنگی کو دور کریں، اپنے ذوق کو جلا بخشیں، اور ایک مضبوط علمی بنیاد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ بقیہ کورس کے امتیازات، خصوصیات اور شرائط کی تفصیل ذیل کے اشتہار میں موجود ہیں! ملاحظہ فرمائیں!