یہ کہاوت تو آپ نے ضرور سنی ہوگی:
"نیم حکیم خطرۂ جان، نیم ملا خطرۂ ایمان۔”
اس مثال سے مجھے ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر یاد آ گئے جو ہمارے محلے میں رہتے تھے اور خاصے مشہور بھی تھے۔ ایک دن میں نے ایک دوست سے ان کے بارے میں رائے پوچھی تو اس نے اپنا تجربہ شیئر کیا۔ کہنے لگا:
میں نے ڈاکٹر صاحب کی شہرت سنی تو ان کے گھر چلا گیا۔ وہاں پہلے سے کچھ مرد اور کچھ خواتین ایک پتلی سی بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بینچ اتنی پتلی تھی کہ اکثر مریضوں کا ایک کولہا بینچ پر ہوتا اور دوسرا لٹکا ہوا، اور وہ کبھی خوشی کبھی غم کی کیفیت میں باری باری پہلو بدلتے رہتے اور اس مشکل مرحلے سے گزرتے۔
میں تھوڑی دیر بیٹھا رہا، پھر ایک پتلا دبلا، سفید رنگت والا، داڑھی والا شخص ایک کمرے سے باہر آیا۔ اس کی داڑھی ویسی تھی جیسے ہم بچپن میں گڑیا کے بال بنایا کرتے تھے۔
پہلی نظر میں مجھے وہ شخص بروس لی کا بھائی اور جیکی چن کا کزن معلوم ہوا، کیونکہ وہ کچھ چائنیز ٹائپ کا لگ رہا تھا۔ سفید رنگ کی شرٹ اور خاکی پینٹ میں ملبوس، دو پٹی کی چپل پہنے نمودار ہوا۔ اچانک اس نے ایک مریض کو مخاطب کر کے اس کا نام پکارا اور دوائیں دینے لگا۔ میں اسے کمپاؤنڈر سمجھ رہا تھا۔
جب ایک خاتون نے اسے "ڈاکٹر صاحب” کہہ کر مخاطب کیا، تب مجھے معلوم ہوا کہ یہی ڈاکٹر صاحب ہیں جو میری تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ ابھی میری باری آنے میں کچھ وقت تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ مریض ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں جاتے، انہیں دکھاتے، پھر برآمدے میں آ کر دوائی لینے کے لیے بیٹھ جاتے۔ پھر ڈاکٹر صاحب باہر آتے اور مریض کو دوائی دیتے۔
جب ایک خاتون ڈاکٹر صاحب کو دکھا کر واپس برآمدے میں آئی تو چند منٹ بعد ڈاکٹر صاحب تشریف لائے اور اس سے کہا:
"میں نے آپ کو شوگر کی دوا بھی دے دی ہے، ان شاء اللہ فائدہ ہوگا۔”
شوگر کی دوا سن کر خاتون حیران و پریشان ہو گئی۔ کہنے لگی:
"لیکن ڈاکٹر صاحب، مجھے تو شوگر نہیں ہے!”
ڈاکٹر صاحب شرمندہ ہو گئے۔ کہنے لگے:
"آپ کا نام زاہدہ ہے نا؟”
مریضہ نے کہا:
"نہیں، میرا نام شاہدہ ہے۔”
پاس بیٹھی ایک اور مریضہ بولی:
"میرا نام زاہدہ ہے۔”
ڈاکٹر صاحب ایک بار پھر شرمندہ ہو گئے اور اپنی ریش پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کاغذ میں لپٹی ہوئی پڑیا شاہدہ کے بجائے زاہدہ کو پکڑا دی۔
میں نے جب یہ ماجرا دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب اندازے سے دوائیں دے رہے ہیں، یعنی اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں، اور بغیر کسی نسخے کے ایک کی دوا دوسرے کو تھما رہے ہیں، تو میرا ماتھا ٹھنکا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی شہرت اور مریضوں کا ان پر اندھا اعتماد دیکھ کر میں خاموش رہا اور وہیں بیٹھا رہا۔
میں نے اندازہ لگایا کہ ڈاکٹر صاحب کچھ پریشان لگ رہے تھے۔ ایک تو ان کا کلینک گھر پر ہی تھا، اوپر سے انہوں نے اپنی سالی کو ایک پورشن کرائے پر دیا ہوا تھا۔ شاید بڑھاپے اور گھریلو الجھنوں کی وجہ سے وہ اپنی پریکٹس پر پوری توجہ نہیں دے پا رہے تھے۔
آخرکار میری باری آ گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا:
"کیا مسئلہ ہے؟”
میں نے کہا:
"ڈاکٹر صاحب، پیلیا ہے۔”
وہ کہنے لگے:
"کس کو پی لیا ہے؟”
بعد میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اونچا بھی سنتے ہیں۔ میں نے دوبارہ بتایا تو کہنے لگے:
"آہستہ بولو بھائی، میں بہرا نہیں ہوں!”
ڈاکٹر صاحب کو دکھا کر میں برآمدے میں آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آئے اور مجھے اور میرے برابر بیٹھے مریض کو دوائی تھما کر واپس چلے گئے۔
میں نے برابر والے مریض کی پڑیا دیکھی تو اس پر "پیلیا” لکھا تھا، اور میری پڑیا پر "گٹھیا” درج تھا۔ میں نے فوراً اپنی دوا اس سے بدل لی اور گھر آ کر وہ دوا کوڑے دان میں پھینک دی۔ اس کے بعد شہر کے ایک اچھے اسپتال جا کر علاج کروایا۔
ایک اور سچا واقعہ بھی سن لیجیے۔
شہر حیدرآباد میں تقریباً بیس برس پہلے ایک بابا بہت مشہور ہوئے تھے۔ وہ "چینی والے بابا” کے نام سے جانے جاتے تھے۔ لوگ دور دور سے ان کے پاس آتے اور کہتے کہ ان کی شوگر ٹھیک ہو جاتی ہے۔
وہ چینی کی پڑیا بنا کر دیتے، اور مریض مہینوں کی دوا اپنے ساتھ لے جاتے۔ ہمارے کئی پڑھے لکھے رشتہ دار کراچی سے آتے اور ان کے آستانے پر لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے۔
بابا کی شرط یہ ہوتی کہ "اعتقاد رکھو، تبھی دوا اثر کرے گی۔”
اور حیرت کی بات یہ کہ واقعی کچھ لوگوں کو فائدہ بھی ہو جاتا، اور وہ مزید لوگوں کو لے آتے۔
بعد میں راز کھلا کہ بابا ایلوپیتھک گولیوں کو پیس کر چینی میں ملا دیتے تھے، جس سے شوگر وقتی طور پر کم ہو جاتی تھی۔
مگر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی؟
آخرکار چند کیسز ایسے سامنے آئے کہ لوگوں نے وہ پڑیا کھائی اور حالت بگڑ گئی، حتیٰ کہ اموات بھی ہوئیں۔ جب ایک مریض کو اسپتال لے جایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی شوگر خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔
بابا کے کہنے پر لوگ ٹیسٹ بھی نہیں کرواتے تھے۔ جب معاملہ پولیس تک پہنچا تو بابا کی خوب خبر لی گئی اور ان کا مافیا بھی پکڑا گیا۔
اللہ کے نیک بندے دنیا میں ضرور ہوتے ہیں، مگر اگر کوئی ڈاکٹر اندازے سے دوا دے یا کوئی بابا شوگر کے لیے چینی کی پڑیا تھما دے، اور آپ پھر بھی ٹھیک ہو جائیں تو سمجھ لیجیے کہ موت کا فرشتہ ابھی فارغ نہیں تھا… ورنہ آپ کی موت تو کب کی ہو چکی ہوتی۔