ٹیبل سٹوریز اور یوٹیوبی صحافت

ہمارے یہاں صحافت کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کئی ایسی خبریں چینلز پہ باخبر ذرائع یا ذرائع کے نام پہ چلائی جاتی ہیں جو دیکھتے، سنتے ہی "ٹیبل سٹوریز” معلوم پڑتی ہیں جو دو تین بڑے سوٹے لگانے کے بعد "سینئر تجزیہ کار” ازخود گھڑ لیتے ہیں۔

کچھ برس پہلے ایک ایسے ہی فنکار ازخود سینئر تجزیہ کار نے نواز شریف، ان کی والدہ اور صاحبزادی مریم نواز کی بند کمرے میں ہونے والی گفتگو "ذرائع” کے متھے مار کے بیان کی۔۔ اس پھٹیچر تجزیہ کار چوری ساب (چوہدری صاحب) کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی والدہ اور مریم نواز۔۔ یہ تینوں ہستیاں کمرے میں موجود تھیں جہاں مریم نواز کی دادی نے اپنے بیٹے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پتر توں جیہڑی رقم چوری کیتی اے او واپس کیوں نئیں کر دیندا؟..

کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ چوہدری غلام حسین، دادی، بیٹے اور پوتی کے درمیان بند کمرے میں ہونے والی گفتگو تم تک کیسے پہنچی؟ خبر نواز شریف نے لیک کی یا مریم نواز نے؟.

یہ وہ زمانہ تھا جب ایک سیاستدان کو پاکستان کا واحد ایماندار سیاستدان بنا کر متعارف کروایا جا رہا تھا۔۔ اس لیے چینلز پہ ہر طرح کی بکواس کی اجازت تھی۔۔ یہ فیک نیوز تھی مگر اس پہ پی ٹی آئی کے چاہنے والوں نے بڑی بلے بلے کی۔۔ ایسی خبر دینے والے کو اصولاً تو چینل سے نکال دینا چاہئیے تھا مگر وہ اتنے سال بعد آج بھی دھڑلے سے ایسے ہی تجزئیے کیے جا رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

یہ اور اس جیسے دیگر چھاتہ بردار "ایں-کر” (اینکر) کبھی اس وقت کے وزیر اعظم کو سسلین مافیا، کبھی گاڈ فادر کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔۔ کبھی یہ کہیں سے فائلیں پڑھ کے واپس آنے پہ نواز شریف سے رسیدیں مانگتے تھے اور کہتے تھے رسیداں کڈو۔۔ خود یہ اپنے ایکڑوں پہ پھیلے فارم ہاؤسز، اپنے زیر استعمال لگژری گاڑیوں، گیلے تیتروں کے شکار، مختلف شہروں میں اپنے محلات کی رسیدیں نہیں دے سکتے۔ کچھ ایسے با اخلاق ایں-کر بھی تھے جو اپنے مردہ والد کا انگوٹھا جائیداد کے کاغذات پہ لگواتے ہوئے پکڑے گئے تھے مگر وہ اب بھی ایمان داری اور اخلاقیات کے لیکچر دیتے نہیں تھکتے اور ماشاءاللہ "ڈٹ’ کے کھڑے ہو کر سیاستدانوں کو چور کہتے ہیں۔۔

ہمارے ایک دوست ہیں، جو مجھے بہت پیارے بھی ہیں اور میں ان کا بہت احترام بھی کرتا ہوں۔۔ انہوں نے محترمہ کلثوم نواز کے انتقال کے موقعہ پہ نیوز روم کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اسلام آباد میں بیٹھ کر جاتی امرا کی منظر کشی اس طرح کی کہ ہوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ وہیں موجود ہوں۔ ان سے نیوز کاسٹر نے پوچھا کہ اس وقت نواز شریف کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ تدفین کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو اپنے کمرے تک محدود کر لیا ہے جہاں انہوں نے بستر پہ اپنی مرحومہ اہلیہ کی تصاویر بکھیر رکھی ہیں اور وہ ان تصاویر کو بار بار دیکھ رہے ہیں۔

چلئیے یہ مان لیا کہ کسی سورس سے آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ نواز شریف اپنے بیڈ روم میں چلے گئے ہیں مگر وہاں جانے کے بعد وہ کیا کر رہے ہیں، یہ آپ کیسے بتا سکتے ہیں؟ میرے جیسے صحافت کے ایک ادنیٰ طالب علم کے لیے یہ ہمیشہ ایک سوال ہی رہے گا۔

جیسے ملک کی دو اہم شخصیات کی ون آن ون ملاقات جاری ہو اور کسی صحافی دوست کا بیپر آ جائے اور وہ اس ملاقات میں دونوں اہم شخصیات کے بولے گئے جملے اس طرح بیان کرے جیسے وہ پردے کے پیچھے چھپ کے کھڑا تھا جبکہ میرے اور دیگر صحافیوں کی طرح وہ بھی ملاقات کی جگہ سے دو تین کلومیٹر دور بالکل لاعلم کھڑا ہے۔ دیکھئے دو افراد کی ملاقات جاری ہو تو کوئی نجومی بھی زائچہ بنائے بغیر یا کوئی عالم "حاضرات” کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے اپنے موکلان سے پوچھے بغیر نہیں بتا سکتا۔۔ ان دونوں ملاقات کرنے والوں میں سے کوئی ایک آپ کو اندر ہونے والی گفتگو سے آپ کو آگاہ اسی صورت کر سکتا ہے جب وہ ملاقات ختم ہو جائے لیکن صدقے جائیں کہ یہ خبر ملاقات کے دوران ہی بریک بھی ہو جاتی ہے اور دوسرے چینلز کے ڈیسک پہ بیٹھے افسران بھی اپنے رپورٹرز سے یہ خبر مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔

رپورٹر لاکھ بتائے کہ ابھی ملاقات جاری ہے، خبر کیسے باہر آ سکتی ہے۔۔ مگر افسران اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتے جب تک آپ بھی اس رپورٹر سے ٹکر لے کر فائل نہ کر دیں۔

ابھی آج ہی کسی میڈیا ہاؤس نے خبر کا تھمب نیل لگا کر سوشل میڈیا پہ شئیر کیا کہ سینئر صحافی ہارون الرشید نے فرمایا ہے کہ اڈیالہ میں قید ایک سابق وزیر اعظم سے جب لندن میں موجود اپنے صاحب زادے سے ٹیلی فون پہ بات کی تو ان کے بیٹے قاسم نے کہا آپ پاکستان چھوڑ کے کیوں نہیں آ جاتے۔۔ اس پہ اس سابق وزیر اعظم نے جذباتی انداز میں بیٹے سے کہا کہ پھر تو زندگی بے معنی ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد میں زندہ ہی نہ رہ سکوں۔۔ اب ہارون الرشید کا یہ جملہ ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹر سپورٹر کے لیے تو ایسا ہو گا کہ وہ چیخ اٹھیں گے کہ دیکھی ہمارے کپتان کی وطن سے محبت۔۔

وہ کہتا ہے کہ ملک چھوڑنے سے اچھی موت ہے۔۔ اس بات پہ غور کیے بغیر کہ یہ کال ہارون الرشید نے نہیں سنی۔۔ بطور سیاسی اتالیق ہارون الرشید کا تعلق عمران خان سے ڈھکا چھپا نہیں اور اگر کپتان جیل میں نہ ہوتا تو شاید وہ انہیں یہ بات خود بتا بھی دیتا لیکن وہ جیل میں قید ہیں اور ہارون الرشید کا تعلق قاسم خان سے بھی ایسا ہو جیسے عمران سے ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے والد سے کی گئی گفتگو ساری کی ساری ہارون الرشید کو بتا دے لیکن پی ٹی آئی کے ورکرز کی اچھی بات یہی ہے کہ جو لوگ ڈالر کمانا چاہیں وہ دن میں چھ وی لاگ کریں اور ہر وی لاگ میں عمران کو جیل سے نکالنے کا نیا وقت اور نئی تاریخ دیں، وہ تھمب نیل میں لکھ دیں کہ جج نے وزیر اعظم کو تھپڑ مار دیا، وہ لکھ دیں کہ محسن نقوی کو ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔۔ وہ کچھ بھی بول دیں لاکھوں لوگ بار بار عقیدت سے اس وڈیو کو دیکھیں گے اور عمران کی رہائی کے ہر دعوے کو سچ تصور بھی کریں گے۔

یہ بھی نہیں سوچیں گے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران تو یہ بھی کہتا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے بہتر ہے کہ میں خودکشی کر لوں لیکن اس نے تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا اور الحمد للہ کبھی اس پہ شرمسار بھی نہیں ہوئے۔

وہ تو یہ بھی کہتا تھا کہ جب آپ کسی ملک سے قرض لیتے ہیں تو آپ اس کے سامنے اپنی غیرت اور خودمختاری گروی رکھ دیتے ہیں میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا مگر وہ جب وزیر اعظم بن کر کئی ممالک سے ادھار مانگا کرتے تو باقاعدہ چینلز پہ بیٹھ کر اسے ملک کے لیے ایک پیکج بتا کر قوم کو مبارکباد بھی دیا کرتے تھے۔

خان صاحب جب وزیر اعظم بننے کے مراحل میں تھے تو وہ کہتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہو، بجلی، گیس کے نرخ میں ایک روپے کا اضافہ ہو تو حکمرانوں کی جیب میں اربوں روپے جاتے ہیں مگر وزیر اعظم بننے کے بعد وہ ان قیمتوں کے بڑھنے کے فضائل بیان کیا کرتے۔۔ لیکن یقین مانیئے کہ آپ یہ باتیں کریں تو ان کے چاہنے والے یہ دلیل ماننے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ وہ ان دلیلوں پہ آپ کو پٹواری اور لفافہ صحافی کہیں گے۔۔

وہ ایسی تمام باتوں کو جن کا تعلق عقل سے ہو، جو دلیل پہ مبنی ہوں وہ انہیں جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں۔۔ وہ مسلم امہ کا لیڈر جو امریکا میں ٹرمپ سے ملاقات میں عافیہ صدیقی کے سوال پہ بالکل خاموش ہو گیا، جس نے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی بات کرنے پر بطور وزیر اعظم یہ پوچھا کہ کیا کروں میں؟ کیا میں بھارت پہ حملہ ہر دوں؟ اس کے حوالہ سے یہ کہتے ہیں کہ وہ ہوتا تو اسرائیل کی کبھی جرات نہ ہوتی کہ وہ ایران پہ حملہ کرتا۔۔

اچھا ہے بھائی، ہمیں خوشی ہے کہ ایسے سپورٹر زندہ ہیں تو روزانہ جھوٹی خبریں پھیلانے والے یوٹیوبرز ڈالر کما رہے ہیں، اگر ایسے سپورٹرز نہ ہوتے تو وجاہت خان، معید پیرزادہ جیسے اندرون و بیرون ملک موجود بے سروپا خبریں دینے والے کیسے کروڑوں روپے کماتے۔۔ اس لیے ہارون الرشید جیسے لوگ اندرونی کہانیاں سنا سنا کر رات کو اکیلے میں ہنستے ہوں گے اور رب سے دعا کرتے ہوں گے کہ یا اللہ ان کی عقلوں پہ اسی طرح پردہ پڑا رہے ورنہ ہمارے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے