پاکستان کی 77 سالہ تاریخ کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ملک ہمیشہ ایک “نازک موڑ” پر کھڑا رہا ہے۔ کبھی سیاسی عدم استحکام، کبھی معاشی بحران، کبھی دہشت گردی کی لہر، اور کبھی عالمی دباؤ—پاکستان نے ہر دور میں ایسے حالات کا سامنا کیا جنہیں دنیا کے دیگر ممالک غیر معمولی قرار دیتے۔
مگر آج جب دنیا خود ایک بڑے نازک موڑ پر کھڑی ہے—جہاں عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں، اور خطے نئی صف بندیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں—تو حیرت انگیز طور پر پاکستان اس صورتحال سے گھبرایا ہوا نہیں بلکہ کسی حد تک مانوس نظر آتا ہے۔
یہ مانوسیت اتفاقیہ نہیں، بلکہ دہائیوں کی آزمائشوں کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک وقت تھا جب دنیا پاکستان کو غیر مستحکم خطہ سمجھتی تھی، مگر آج وہی پاکستان خطے میں امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح معاشی بحرانوں سے بار بار گزرنے کے باعث پاکستانی قوم میں ایک عجیب سی برداشت اور لچک پیدا ہو چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب دنیا آج غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے، پاکستان کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف “نازک موڑ پر رہنے” کا تجربہ ہمیں قیادت کے قابل بنا دیتا ہے؟
یہاں ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے۔
اگر پاکستان واقعی اس عالمی نازک موڑ پر “سردار” بننا چاہتا ہے، تو اسے اندرونی طور پر مضبوط ہونا ہوگا۔ سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی، شفاف نظام، اور معاشی خود کفالت—یہ وہ ستون ہیں جن کے بغیر کوئی بھی ملک عالمی قیادت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا بدل چکی ہے۔ اب طاقت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ معاشی استحکام، ٹیکنالوجی، اور سفارتکاری سے ناپی جاتی ہے۔ چین، امریکہ، اور دیگر عالمی طاقتیں اسی بنیاد پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔
پاکستان کے پاس ایک منفرد موقع ہے۔
اس کی جغرافیائی حیثیت، نوجوان آبادی، اور خطے میں اس کا کردار اسے ایک اہم کھلاڑی بنا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم وقتی سیاست سے نکل کر طویل المدتی قومی حکمت عملی اپنائیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان واقعی 77 سال سے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے—مگر اب وقت آ گیا ہے کہ یہ موڑ محض بقا کی جدوجہد سے نکل کر قیادت کی طرف مڑ جائے۔
کیونکہ جو قومیں مشکلات میں جینا سیکھ لیتی ہیں، اگر وہ خود کو سنبھال لیں تو وہی دنیا کی رہنمائی بھی کر سکتی ہیں۔