ذوالفقار علی بھٹو: ختمِ نبوت کا تاریخی فیصلہ اور ایک ہمہ جہت شخصیت

4 اپریل پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جو محض ایک فرد کی موت کی یاد نہیں دلاتا بلکہ ایک پورے عہد، ایک سوچ اور ایک پیچیدہ مگر اثر انگیز شخصیت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ دن ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کا دن ہے.وہ شخصیت جس نے پاکستان کی سیاست، خارجہ پالیسی اور آئینی ڈھانچے پر گہرے نقوش چھوڑے۔

بھٹو ایک غیر معمولی ذہانت کے حامل، عوامی جذبات کو سمجھنے والے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرنے والے رہنما تھے۔ ان کی شخصیت میں بیک وقت جرات، تدبر اور سیاسی حکمت عملی کا امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے نمایاں رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

اگر ان کے دورِ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ دیکھا جائے تو وہ پاکستان کا آئین 1973 ہے۔ یہ آئین آج بھی ملک کا بنیادی قانونی ڈھانچہ ہے اور اسے تمام سیاسی قوتوں کی متفقہ تائید حاصل ہوئی۔ یہ بھٹو کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوں نے مختلف الخیال جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر ایک متفقہ آئین منظور کروایا۔

اسی آئین کے تناظر میں ایک اور نہایت اہم اور حساس معاملہ سامنے آیا، جو ختمِ نبوت ﷺ کے عقیدے سے متعلق تھا۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کے عوام کے دلوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی ختمِ نبوت کا عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عقیدے کے تحفظ کے لیے 1974 میں ایک زبردست عوامی اور دینی تحریک اٹھی۔

ملک بھر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور عام عوام نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو آئینی طور پر حل کیا جائے تاکہ کسی بھی ابہام کی گنجائش نہ رہے۔ یہ ایک نازک مرحلہ تھا، کیونکہ اس میں مذہبی جذبات بھی شامل تھے اور ریاستی ذمہ داریاں بھی۔

اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس معاملے کی نزاکت کو سمجھا۔ ابتدا میں حکومت نے احتیاط کا مظاہرہ کیا، لیکن جب یہ واضح ہو گیا کہ یہ مسئلہ عوام کے ایمان اور جذبات سے جڑا ہوا ہے تو اسے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد موقع تھا جب ایک انتہائی حساس دینی مسئلہ جمہوری طریقے سے حل کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں طویل بحث ہوئی، مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کو سنا گیا، اور مکمل تحقیق کے بعد فیصلہ کیا گیا۔

بالآخر 7 ستمبر 1974 کو پاکستان کا آئین 1973 کی دوسری ترمیم منظور کی گئی، جس کے تحت قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ ختمِ نبوت ﷺ کے عقیدے کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔

اس فیصلے میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار کلیدی تھا۔ انہوں نے نہ صرف اس معاملے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا بلکہ اسے آئینی شکل دینے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ یہ ان کی سیاسی جرات اور عوامی احساسات سے ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہے۔

اگر بھٹو کے دیگر مثبت پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو ان کی خارجہ پالیسی بھی خاصی مضبوط نظر آتی ہے۔ انہوں نے اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی اور 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروا کر پاکستان کا وقار بلند کیا۔ اس کانفرنس میں مسلم دنیا کے بڑے رہنما شریک ہوئے، جس سے پاکستان کی عالمی حیثیت مستحکم ہوئی۔

اسی طرح بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جب ملک شدید مایوسی کا شکار تھا، انہوں نے قوم کو ایک نیا حوصلہ دیا۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا بھی ان کے اہم کارناموں میں شمار ہوتا ہے، جس نے مستقبل میں پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

معاشی میدان میں بھی انہوں نے کئی اصلاحات متعارف کروائیں۔ صنعتوں کو قومی تحویل میں لینا، مزدوروں کے حقوق کے لیے اقدامات کرنا، اور عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرنا ان کے دور کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اگرچہ ان پالیسیوں پر تنقید بھی ہوئی، لیکن ان کا مقصد معاشرتی انصاف کو فروغ دینا تھا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک عوامی لیڈر تھے۔ ان کی تقاریر میں ایسا جادو تھا جو عوام کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ وہ عام آدمی کی زبان میں بات کرتے تھے اور اس کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے تھے۔

تاہم، ایک متوازن تجزیہ یہی کہتا ہے کہ ہر بڑی شخصیت کی طرح بھٹو کے دور میں بھی کچھ تنازعات اور غلطیاں موجود تھیں۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ سخت رویہ، بعض متنازعہ فیصلے اور اقتدار کو مضبوط رکھنے کی کوششیں بھی ان کے دور کا حصہ رہیں۔ لیکن یہ پہلو ان کے مثبت اقدامات کی اہمیت کو مکمل طور پر کم نہیں کرتے۔

خاص طور پر ختمِ نبوت ﷺ کے حوالے سے ان کا کردار ایک ایسا فیصلہ تھا جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ صرف ایک سیاسی اقدام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے مسئلے کا حل تھا جو قوم کے ایمان سے جڑا ہوا تھا۔

آج کے دور میں جب ہم اس فیصلے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ قیادت کا اصل امتحان مشکل فیصلوں میں ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس امتحان میں ایک اہم کردار ادا کیا اور ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے قوم کے عقیدے کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔

ہمیں بطور قوم یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ اختلافات کے باوجود کسی بھی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ ہم مکمل تصویر دیکھیں نہ صرف خامیاں بلکہ خوبیاں بھی۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کی زندگی میں سیاست، جمہوریت، عوامی خدمت، اور قومی وقار کے کئی رنگ نظر آتے ہیں۔ ان کا ختمِ نبوت ﷺ کے حوالے سے کردار ان کی سیاسی زندگی کا ایک روشن باب ہے، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

یہی تاریخ کا سبق ہے کہ بڑے رہنما وہی ہوتے ہیں جو وقت کے اہم تقاضوں کو سمجھ کر قوم کی رہنمائی کریں اور اس معیار پر ذوالفقار علی بھٹو کا نام ہمیشہ نمایاں رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے