ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر خصوصی تحریر اور آپ کے تاریخی الفاظ:

1: جو شخص ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے۔

2: ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔

اللّٰہ تعالیٰ اپنے کچھ بندوں کو قائدانہ صلاحیتوں سے نوازتا ہے اور ان سے ایسے کام لیتا ہے جن کی صدیوں میں مثال نہیں ملتی ۔ ان لیڈرز کے کارناموں کا احساس اور اعتراف اور ان کی عظمت کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب قومیں ان قائدین کو کھو چکی ہوتی ہیں۔ ان بڑے قائدین میں سے ذوالفقار علی بھٹو ایک تھے۔ آج ذوالفقار علی بھٹو کو ہم سے بچھڑے 45 سال ہو گئے۔

لیکن ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کے نہ صرف پورے پاکستان میں نعروں کی گونج گرج رہتی ہے۔ بلکہ عوام کے دلوں پر حکمرانی کرنے والے اس لیڈر کا ”ووٹ بنک“ اسی طرح قائم دائم ہے جس طرح آج سے پچاس سال پہلے تھا بلکہ اس لیڈر کے رخصت ہونے کے بعد اس میں ہمیشہ سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے صدر ، وزیر اعظم ، وزیر خارجہ ، وزیر دفاع ، وزیر داخلہ اور بطور اسپیکر مختلف حیثیتوں میں ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کیا ۔ آئین پاکستان کی تشکیل سے لے کر ملک کو ایٹمی طاقت بنانے تک کا یہ سفر 1979 میں بھٹو کی پھا نسی پر منتج ہوا۔ سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو سندھ کے شہر لاڑکانہ میں پیدا ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کو قائد عوام اور بابائے آئین پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1952 میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور 1953 میں وکالت کا آغاز کیا ۔ ایوب خان کی حکومت میں وزیر تجارت رہے۔

1967 میں پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور 1971 سے 1973 تک صدر پاکستان کے عہدے پر متمکن رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں نئے آئین کے تحت ملک کے وزیر اعظم کا حلف بھی اٹھایا۔

قارئین! ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی تاریخ میں دو ایسے کارنامے سر انجام دئیے جو موجودہ دور میں نا ممکن نہیں تو عالمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے انتہائی مشکل تھے، سب سے پہلے انہوں نے جب یہ خطرہ محسوس کیا کہ ہمارا مکار، بزدل پڑوسی دشمن بھارت ایٹم بم بنانے کے لیے کام شروع کر چکا ہے تو انہوں نے اس پر فی الفور کام شروع کیا اور یہ تاریخی الفاظ کہے کہ گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔

دوسرا اہم کام آئین پاکستان میں سب سے اہم نکتہ ختم نبوت کے قانون کا شامل کیا، جو پارلیمنٹ میں کئی دن سماعت کے بعد پاکستان کے آئین میں لکھا گیا۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ذوالفقار علی بھٹو فرشتہ تھے یقیناً وہ انسان تھے اور ان سے کئی غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہوں گی لیکن میں ان کی تقاریر کے اقتباس سے یہ اندازہ لگا سکتا ہوں کہ وہ ایک سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 13 جون 1974ء کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ
’’جو شخص ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔ ربوہ کے واقعہ سے تعلق رکھنے والے سارے مسئلے کو جولائی کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ حکمران جماعت کے ارکان پر پارٹی کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا اور انھیں آزادی ہوگی کہ وہ کم و بیش 90 سال پرانے اس اہم اور نازک مسئلے کو عوام کی اکثریت کی خواہشات، ایمان اور عقیدے کی رُو سے مستقل طور پر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مسئلے پر، میں آمرانہ طور پر خود کوئی فیصلہ کرنا پسند نہیں کرتا۔

جمہوری طریق کار یہی ہے کہ اس اہم مسئلے پر عوام کے منتخب نمائندے خود سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کریں۔ میں قادیانیوں کے مسئلہ کا جمہوری، منصفانہ اور صحیح فیصلہ کروں گا اور مجھے اپنے فیصلے پر فخر ہوگا۔ یہ فیصلہ کرانے کے لیے وقت کی قید نہیں لگائی جا سکتی۔ ختم نبوت کا مسئلہ ہرگز متنازعہ نہیں۔ فیصلہ تو ہو چکا ہے اور یہ طے شدہ ہے کہ جو شخص ختم نبوت کا قائل نہیں ہے، وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اب اسے ایک ضابطہ کے تحت لانا باقی ہے۔

گزشتہ عام انتخابات میں قادیانیوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیے تھے لیکن انھوں نے ہمیں خرید تو نہیں لیا۔ ووٹ تو ہمیں دوسرے فرقوں نے بھی دیے۔ مگر ہم ان کے محتاج تو نہیں۔ میں صرف اللہ کا محتاج ہوں اور پاکستان اور اس کے عوام سے وفاداری میرا ایمان ہے۔ میں وہی کروں گا جو میرا ضمیر کہے گا۔

میں مسلمان ہوں۔ مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور کلمہ کے ساتھ مروں گا۔ ختم نبوت پر میرا ایمان کامل ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں نے ملک کو جو دستور دیا ہے، اس میں ختم نبوت کی اتنی ٹھوس ضمانت نہ دی گئی ہوتی۔ 1956ء اور 1962ء کے آئین میں ایسی کوئی ضمانت کیوں نہیں دی گئی۔ حالانکہ یہ مسئلہ 90 سال پرانا ہے۔ یہ شرف مجھ گناہگار کو حاصل ہوا ہے کہ ہم نے اپنے دستور میں صدر مملکت اور وزیراعظم کے لیے ختم نبوت پر کامل ایمان کو لازمی شرط قرار دیا ہے۔ ہم نے یہ ضمانت اس لیے دی ہے کہ ہمارے ایمان کی رو سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے ملک کو نیا عوامی دستور دیا اور ان شاء اللہ عوام کے تعاون سے قادیانیوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل کر دوں گا۔ یہ اعزاز بھی مجھے ہی حاصل ہوگا اور یومِ حساب، خدا تعالیٰ کے سامنے اس کام کے باعث سرخرو ہوں گا۔‘‘

ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ قادیانیوں کو اگر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تو انہیں بیورو کریسی اسٹبلشمنٹ میں بڑے عہدوں پر براجمان قادیانی، امریکہ اور اس کے حواری کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ لیکن انہوں نے کمال ایمانی طاقت، جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا بھر پور ساتھ دیا ۔

چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر 13 دن کی طویل جرح کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ آئین کی دفعہ 106 کی شق (2) اور 260 کی شق (3) کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

اس تاریخی قانون سازی پہ صرف پاکستان کے مسلمان ہی نہیں بلکہ کائنات کے مسلمانوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ کیوں کہ انھوں نے مسلمانوں کی اجتماعی آواز کو پروان چڑھا کر امت مسلمہ کی ترجمانی کی تھی۔ بلکہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں اس حد تک غیرت ایمانی اور جرأت اسلامی کا ثبوت دیا تھا۔ کہ پاکستان میں ہمیشہ کے لیے فرضی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جہاں یہ عظیم کارنامہ سر انجام دیا تھا۔ وہیں دو اور ایسے تاریخی کام کیے جن پہ امت مسلمہ اور وطن کی مٹی آج بھی ان کی مقروض ہے۔

اول 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ اور انتھک کاوشوں کا ہی نتیجہ تھا۔ دوئم جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے آج اگر واحد اسلامی ریاست پاکستان ایٹمی طاقت ہے تو اس ایٹمی پروگرام کے اصل سرپرست بھی ذوالفقار علی بھٹو ہی ہیں ۔ آپ نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ تو امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو خصوصی دورے پر پاکستان بھیجا گیا جس نے آکر ذوالفقار علی بھٹو کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے ایٹمی پالیسی ترک نہ کی تو ان کو عبرتناک مثال بنا دیا جائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے امر یکی دھمکی کو مسترد کیا اورایٹمی پروگرام کی تکمیل کے لیے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مکمل سرپرستی کی۔

آپ نے اس کے علاوہ بھی وطن عزیز کی ترقی کے لیے بےشمار اقدامات کیے جس میں زرعی ، صنعتی اصلاحات وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا تین اقدامات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو عالمی طاقتوں کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا گیا اور شاید اللّٰہ تعالیٰ کو یہ ہی منظور تھا۔ دین اسلام اور وطن عزیز کے لیے اہم کام اس ہستی سے لے لیے گئے تھے ۔ ستمبر 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں اعانت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ 18 مارچ 1978 کو ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی میں آپ کو تختہ دار پر پھانسی دے دی گئی۔ یقیناً آپ اس دور میں قائد اعظم کے بعد عوام کے محبوب ترین لیڈر تھے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ آج پاکستان پیپلز پارٹی اور خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے جناب بلاول بھٹو زرداری، بھٹو مرحوم کے وژن سے رہنمائی حاصل کریں۔

اور اپنے نانا مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک کی نظریاتی اساس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو اغیار کی چالوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کریں۔ بھٹو کے عوامی نعرے روڑی ، کپڑا اور مکان کو عملاً نافذ کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے