استاد الاساتذہ، ادیب،شاعر اداکار اور صداکار کی داستان

کسی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنا تب مشکل ہو جاتا ہے جب وہ شخصیت خود ایک جامعہ ہو۔ پشتو ادب، تعلیم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی تاریخ میں محترم گل افضل خان کا نام اُس روشن مینار کی مانند ہے جس نے کئی فنون کو اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔

وہ ایک باشعور استاد تھے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر ۲ پشاور کنٹ کے پرنسپل کی حیثیت سے انہوں نے ہزاروں طلبہ کی تربیت کی، اور اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کو فنکاری سے اس طرح جدا رکھا کہ کبھی کسی طالب علم یا سٹاف ممبر پر ان کے فن کا کوئی منفی اثر نہ پڑا۔ ان کی تعلیمی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے پانچوں بیٹوں ریٹائرڈ چیف انجینئر واپڈا شہباز افضل،ریٹائرڈ چیف انجینئرسی این ڈبلیوخیبر پختونخواہ شہزاد افضل، بہزاد افضل، راشد افضل اور شاہد افضل نے زندگی کے اعلیٰ عہدوں پر جا کر اپنے والد کی تربیت کا لوہا منوایا۔

ادب اور فن کی دنیا میں وہ ایک شاعر، منفرد افسانہ نگار اور کامیاب ڈرامہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے "کږې لارې” (ٹیڑھی راہیں) اور "داغونه” (داغ) آج بھی پشتو افسانے کے سنہری دور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری کو قلندر مومند، میر مہدی شاہ باچا جیسی شخصیات نے سراہا۔ ان کی تصنیف کردہ نصابی کتاب "د پښتو زده کړې لارې” ایم اے کے طلبہ کے لیے شاملِ نصاب رہی۔

لیکن ان کا اصل کمال یہ تھا کہ وہ ریڈیو پاکستان پشاور کے اُس سنہری دور میں بیک وقت ڈرامہ نگار، اداکار اور منفرد انداز کے صداکار تھے۔ ریڈیو کی لہروں سے نکل کر جب ٹیلی ویژن پشاور نے اپنے پردے سجاے، تو گل افضل خان وہیں تھے اپنے مخصوص لہجے اور انداز کے ساتھ۔ وہ ٹیلی ویژن کے بانی رائٹرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔محترم گل افضل خان کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو ان کا علمی سفر تھا، جو غیر معمولی محنت، لگن اور علم دوستی کی روشن مثال ہے۔ اگست 1933ء میں پشاور کے نواحی علاقے بازید خیل، کوہاٹ روڈ پشاورمیں پیدا ہونے والے اس عظیم انسان نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اور بعد ازاں پشاور آ کر قائد آباد کاکشال میں قیام پذیر ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ ہائی اسکول پشاور سے تعلیم حاصل کی، جو اُس دور میں علمی و ادبی شعور کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔

اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ پشاور کے تعلیمی اداروں سے ایف اے اور بی اے مکمل کرنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف پشاور سے نہ صرف ایم اے تاریخ اور ایم اے پولیٹیکل سائنس کیا بلکہ ایم اے پشتو بھی مکمل کیا۔ یہ بات اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ وہ محض فنکار ہی نہیں بلکہ ایک گہرے مطالعے اور وسیع فکر کے حامل دانشور بھی تھے۔

ادب کے میدان میں بطور افسانہ نگار ان کی پہچان ایک منفرد اسلوب کے حامل ادیب کی تھی۔ انہوں نے ناول نگاری میں بھی طبع آزمائی کی، لیکن افسانہ نگاری میں ان کا انداز خاص طور پر دلکش، سادہ مگر اثر انگیز تھا۔ ان کے افسانے نہ صرف انسانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ پشتو معاشرے کی تہذیبی اور سماجی اقدار کو بھی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں پشتو ادب میں ایک نمایاں اور مستند مقام حاصل ہوا۔

پشتو زبان، ثقافت اور تعلیم کی ترقی میں اپنی پوری زندگی وقف کرنے والی اس عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند کرے، اور ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔ ان کی علمی، ادبی، اور فنکارانہ خدمات کو قبولیت عطا فرمائے اور ان کی اولاد اور ان کے چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے