پچھلے دنوں انڈیا کے شہر جمشید پور میں ایک لڑکے کی وڈیو خوب وائرل ہوئی۔ پنٹو پرساد عرف دھوم نام کا لڑکا اپنا پیٹ پالنے کے لیے گلی محلےمیں جھاڑو لگایا کرتا اور واش روم بھی صاف کیا کرتا تھا۔اس کو گانے کا بہت شوق تھا ۔ ایک دن وہ نشے کی حالت میں تھا کہ کچھ لوگوں نے اس سے گانے کی فرمائش کی۔ پنٹو نشے میں ٹن تھا۔ مستی کے عالم میں اس نے گانا سنادیا۔مگر اس سے پہلے یہ جملہ کہا۔
” کرش کا سنے گا گانا ، کرش کا "
اور پھر اس نے اپنے انوکھے اور نرالے انداز سے گانا شروع کردیا۔
گانے کے بول تھے
۔
دل نا دیا دل نا دیا
تو بولو نا بولو کیا کیا
آکے دنیا میں بھی اگر
پیار نہ کیا تو کیا کیا
اسی دوران گانے کی فرمائش کر نے والوں نے وڈیو بھی بنا ڈالی۔وڈیو وائرل ہوگئی اور پنٹو پرساد دنیا بھرمیں مشہور ہوگیا۔ ” کرش کا سنے کا گانا ”
اس جملے کی ہر جگہ میم بننے لگیں۔
کرش دراصل انڈیا کے اداکار ریتک روشن کی فلم کا نام ہے۔ جس میں وہ سپر ہیرو بنا تھا۔ فلم کرش کے اس گانے کے بول شاید پہلے بھی اتنے ہٹ نہیں ہوئے ہوں گے جو اب پنٹو پرساد کی وجہ سے ہٹ ہوگئے۔ایسا لگتا ہے کہ پنٹو کو صرف ریتک روشن کے گانے پسند ہیں مگر اس نے اور بھی گانے گائے ہیں جو وائرل ہوئے اور ان کی میم بنیں۔جیسے
تم سے ملنے دل کرتا ہے رے بابا
تو جب جب مجھ کو پکارے
پنٹو پرساد دھوم کی مالی حالت تو شاید پہلے سے بہتر ہوگئی ہو۔ لیکن اس بیچارے کو وائرل ہونے کی کڑی سزا دی گئی۔جس دن سے اس کی وڈیو وائرل ہوئی لوگوں نے اس کا جینا حرام کردیا۔ آپ وڈیو لگا کر دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح لوگ باربار اس سےگانے کی فرمائش کر رہے ہیں۔ایک جم غفیر کھڑا ہے جو اس کی وڈیو بنا رہا ہے اور اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ دھوم باربار کہ رہا ہے کہ بھائی ابھی تو گانا سنایا ہے۔ اب میرا موڈ نہیں ہے مگر پھر وہی تکرار کہ
کرش کا گانا سناؤ
اور پھر وہ بیچارا لوگوں کے بے حد اصرار پر گانا سنانے لگ جاتا ہے۔ دھوم کی یہ خاصیت ضرور ہے کہ وہ گانے میں اپنے الفاظ بھی شامل کر لیتا ہے( جیسے” لے بیٹا” ) اور اپنے اسٹائل اور ہلکےپھلکے ڈانس سے گانے کو پر اثر بنادیتا ہے۔گانا چاہے سننے میں جیسا بھی لگے مگر دھوم کی وڈیو دیکھنے میں بری نہیں لگتی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ بیچارہ جیسے ہی گانا ختم کرتا ہے تو لوگ پھر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ گانا سناؤ۔
ہمارے معاشرے میں ٹیلینٹ کی قدر نہیں ہے۔ہمیں تو صرف لوگوں کا مذاق اڑانے میں مزا آتا ہے۔ہمارے ایک دوست شاعر تھے۔ وہ اردو کے استاد بھی تھے۔ وہ اکثر اسٹاف روم میں اپنی شاعری سنایا کرتے اور لوگ بھی بار بار ان کی شاعری سننا پسند کرتے ۔ایک دن وہ اپنی کلاس لے کر اسٹاف روم میں واپس آئے تو بہت پریشان لگ رہے تھے۔بچوں نے بہت تنگ کیا تھا۔جیسے ہی انھوں نے اپنا گاؤن غصے میں آکر میز پر پھینکا اور کرسی پر بیٹھ گئے۔
ایک اور استاد نے کہا سر ایک شعر ہو جائے۔ ہمارے شاعر دوست جو غصے میں تھے ۔ان کا بلڈ پریشر اور بڑھ گیا۔اسی دوران ایک دو اور ٹیچر بھی کہنے لگے ہاں سر ایک شعر ہو جائے۔ بیچارے نے مجبوری میں اپنے اشعار سنانے شروع کیے اور وہ کیفیت میں آگئے۔ مزے سے شعر سنانے لگے اور اسٹاف روم میں بیٹھے اساتذہ واہ واہ کرتے رہے اور مسکراتے بھی رہے۔ ابھی شاعر صاحب اپنی غزل کا مقطع سنانے ہی والےتھے کہ ہمارے کالج کی ایک کوآرڈینیٹر آگئیں اور ہمارے شاعر دوست کو مخاطب کر کے کہنے لگیں۔ سر آپ کا انگیج پیریڈ ہے ۔جلدی جائیں کلاس میں بچے شور کر رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی ہمارے شاعر دوست کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ان کے پیروں سے زمین کھسک گئی ہو اور وہ ناگواری کے عالم میں اپنا گاؤن سیدھا کرتے ہوئے۔ جو انھوں نے اتار کر پھینک دیا تھا انگیج کلاس لینے کے لیے کلاس روم میں چل دیے اور اس کے بعد جو فلک شگاف قہقہے اسٹاف روم میں گونجے اس کی مثال نہیں ملتی۔
اطہر شاہ خان جیدی صاحب پی ٹی وی کے لیجنڈ لکھاری اور منفرد اداکار تھے ۔جیدی ان کا مشہور مزاحیہ کردار تھا جو وہ خود ہی کیا کرتےتھے۔ان کی مزاحیہ شاعری بھی بہت مشہور ہوئی۔ خاص کر جب وہ اسٹیج پر ہوتے تو چھا جاتے اور خوب مزے سے اپنا مزاحیہ کلام پیش کرتے۔ مجھے بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے بھی ان کے ساتھ مشاعرہ بحیثیت شاعر پڑھا اور ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے لیے ان کا انٹرویو بھی کیا ہے۔
اطہر شاہ خان جیدی مرحوم نے ایک جگہ بتایا تھا کہ جب ان کی بیٹی اسپتال میں داخل تھی۔ تو وہ اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ لوگوں نے ان کو پہچان لیا تھا۔بہت سے فین ان سے بات چیت کرتے۔ ایک فین جیدی صاحب سے کہنے لگا کہ آپ اطہر شاہ خان جیدی ہیں نا۔ جیدی صاحب نے کہا ہاں تو وہ کہنے لگا۔
ذرا جیدی کی طرح ہنس کر تو دکھائیں۔
اب دیکھیے نا آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب بچہ چھوٹا ہو اور اتفاق سے پیارا اور گول مٹول بھی ہو تو اس کو دیکھنے والی چاہے اس کی خالہ ہو ، پھوپھی ہو ،ماموں ہوں ممانی یا پڑوس والی آنٹی سب اس بچے کو گود میں لے کراسے آزمائش میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اور اگر اس بچے میں ایکٹنگ اسکل بھی ہو تو اس کی خیر نہیں ہے۔لوگ بچے کو آدمی کا بچہ کم اور سرکس کا جوکر زیادہ سمجھتے ہیں۔کبھی بچے سے کہیں گے بیٹا ” پانی کی بلی بن کر دکھاؤ” "گدھے کی آواز نکالو”۔ "تمھارا نام کیا ہے” تمھارے ابا کا نام کیا ہے” "تم کہاں رہتے ہو” فلانا ڈھماکا ۔ہمارے ہاں اس ٹارچر کو محبت کا نام دیا جاتا ہے اور ہمارے ہاں سے یہ ٹارچر اب شاید کبھی ختم نہ ہوسکے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ ایک معصوم بچہ آخر کیا کیا بن کر دکھائے۔
جب سے وڈیو وائرل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ دنیا بہت خطرناک اور بدتمیز ہوچکی ہے۔ پہلے لوگ خود ہی وائرل ہونا چاہتے تھے اب یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح دوسرے کو بھی وائرل کریں اور اس کا تماشا بنادیں۔
ہمارے ہاں لوگ زیادہ تر پریشان رہتے ہیں۔ بجلی کم آتی ہے۔ پانی ایک دن چھوڑ کے آتا ہے۔ گیس روٹھ چکی ہے۔ مکان کا کرایہ دینا ہے۔ مہنگائی نے جینا حرام کردیا ہے۔اس کے علاوہ بھی بے شمار مسائل ہیں۔ حکمران بے حس ہیں۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ اب اس ماحول میں ہمارے لیے خود کو پریشانیوں سے نجات دلانے کا یہی ایک فارمولا رہ جاتا ہے کہ ہم جہاں نوکری یا کاروبار کریں وہاں ایک دوسرے کو چھیڑیں، تنگ کریں ،ایکدوسرے کا مذاق اڑائیں۔ کمزور لوگوں کو تپائیں, اور خود ہنسیں اور کھلکھلائیں۔ افسوس کہ ہم یہ نہیں سوچتے کہ دنیا کے بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ کسی کا دل دکھانا ہے۔ ہمیں ذرا خیال نہیں ہوتا کہ کسی کے گھر میں کیامسئلہ ہے کیا پرابلم ہے۔ بس ہمیں تو مل کر ریگنگ کرنی ہے جیسے آج کر پنٹو پرساد کی ہورہی ہے اور اس سے فرمائش کی جارہی ہے کہ گانا سناؤ اور وہ بیچارہ جواب میں کہ رہا ہے کہ
” کرش کا سنے گا گانا "