شاباش فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاباش پاکستان۔ قوم کو آپ پرناقابل یقین اعتماد اور فخر ہے

پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی، جس کے نتیجے میں پندرہ روزہ جنگ بندی ممکن ہوئی، محض ایک عارضی پیش رفت نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی موڑ ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ تدبر، صبر اور بروقت حکمتِ عملی دنیا کے بڑے سے بڑے بحران کو بھی ٹال سکتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر کشیدگی اپنی انتہا کو چھو رہی تھی اور ایک وسیع جنگ کے بادل پوری دنیا پر منڈلا رہے تھے، پاکستان نے نہایت دانشمندی کے ساتھ تصادم کے بجائے مکالمے، اور طاقت کے بجائے سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک سنجیدہ اور فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کامیابی کے پس منظر میں ریاستی اداروں کی ہم آہنگی اور قیادت کی غیر معمولی بصیرت کارفرما رہی، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت، جنہوں نے نہایت پیچیدہ اور حساس حالات میں تحمل، تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی حکمت عملی نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کیا بلکہ عالمی برادری کے سامنے ایک ایسا مثبت تاثر بھی پیش کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ملک ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت صرف عسکری برتری میں نہیں بلکہ درست فیصلوں اور بروقت اقدامات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی بے حد قابلِ تحسین ہیں۔ خاص طور پر وزیر خارجہ اور ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کی انتھک محنت اور عزم کو سراہنا ضروری ہے، جنہوں نے زخمی کندھے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو نہایت خلوص اور لگن کے ساتھ نبھایا۔ ان کی یہ کاوش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قومی مفاد کے لیے ذاتی تکلیف کو بھی پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے۔ ایسے رہنما ہی دراصل قوموں کو مشکل حالات سے نکال کر کامیابی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔

یہ پندرہ روزہ جنگ بندی بظاہر ایک مختصر مدت کا وقفہ ہے، مگر اس کے اثرات نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع فراہم کرتی ہے جس میں نہ صرف متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کا وقت ملتا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی ایک مستقل اور دیرپا امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا موقع میسر آتا ہے۔ پاکستان اگر اسی جذبے، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھتا ہے تو بعید نہیں کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے دیگر تنازعات میں بھی امن کا ضامن بن سکے۔

تاہم، عالمی سطح پر امن کی یہ کاوشیں اسی وقت مکمل معنوں میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں جب ملک کے اندر بھی استحکام، ہم آہنگی اور اتحاد موجود ہو۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اندرونی طور پر متحد ہو اور جہاں سیاسی اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس وقت اندرونی سیاسی کشیدگی کا شکار ہے، جو نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے مثبت کردار کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔

اسی تناظر میں یہ ایک حقیقت پسندانہ اور بروقت مطالبہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کے اندر بھی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ خاص طور پر عمران خان کے ساتھ معاملات کو سلجھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کی رہائی اور ایک جامع، شفاف اور باعزت سیاسی مفاہمت نہ صرف سیاسی درجہ حرارت کو کم کرے گی بلکہ ملک میں استحکام اور اعتماد کی فضا کو بھی بحال کرے گی۔ ایک ایسی مفاہمت جو آئین اور قانون کے دائرے میں ہو، پاکستان کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت عوام کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ انہیں نظر انداز کرنا یا دیوار سے لگانا مسائل کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس، انہیں ساتھ لے کر چلنا، ان کے تحفظات کو سننا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہی وہ راستہ ہے جو قومی ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو قومی دھارے میں شامل کرنا نہ صرف جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ قومی مفاد کا بھی تقاضا ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر مستقبل کی طرف دیکھیں۔ قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی اختلافات پر فوقیت دی جائے اور ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جائے جہاں مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ حاصل ہو۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر امن کا پیغام دے سکتا ہے تو اسے اپنے اندر بھی اسی جذبے کو اپنانا ہوگا۔

پاکستان کے پاس آج ایک نادر موقع ہے کہ وہ نہ صرف دنیا میں امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے بلکہ اپنے اندر بھی ایک نئی سیاسی ہم آہنگی کی بنیاد رکھے۔ اگر یہ دونوں پہلو ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو پاکستان نہ صرف ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کے طور پر ابھرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار اور مؤثر کردار ادا کرے گا۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ پندرہ روزہ جنگ بندی محض ایک کامیابی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ایک ذمہ داری کہ اسے مستقل امن میں تبدیل کیا جائے، ایک ذمہ داری کہ ملک کے اندر بھی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، اور ایک ذمہ داری کہ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنایا جائے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے امن، استحکام اور ترقی کا پیامبر بنے۔ اگر اس موقع کو دانشمندی، خلوص اور جرات کے ساتھ استعمال کیا گیا تو آنے والا وقت پاکستان کو نہ صرف ایک کامیاب سفارتی قوت بلکہ ایک حقیقی امن کے معمار کے طور پر یاد رکھے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے