صحافی رشاد احمد اور غزہ کی بے بسی کی کہانی

یہ صرف ایک صحافی کی رپورٹ نہیں، بلکہ ایک ایسی چیخ ہے جو ملبے، دھوئیں اور خون کے درمیان سے اٹھتی ہے۔ یہ داستان ہے غزہ کی، جہاں زندگی اب صرف سانس لینے کا نام رہ گئی ہے، اور ہر سانس خوف، درد اور بے بسی سے بھری ہوئی ہے۔ صحافی رشاد احمد کی آنکھوں سے دیکھی گئی یہ حقیقت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں پوری انسانیت کا چہرہ دکھائی دیتا ہے،ایک ایسا چہرہ جو شرمندہ بھی ہے اور خاموش بھی۔

غزہ، جو کبھی زندگی، امید اور معمول کی رونقوں سے بھرا ہوا تھا، آج کھنڈر بن چکا ہے۔ یہاں کے گھر، جو کبھی بچوں کی ہنسی اور ماں کی دعاؤں سے گونجتے تھے، اب ملبے کے ڈھیر ہیں۔ ہر گلی، ہر دیوار، ہر اینٹ ایک کہانی سناتی ہے،درد کی، جدائی کی، اور ایسے نقصان کی جس کا ازالہ ممکن نہیں۔

رشاد احمد، جو ایک صحافی ہونے کے ناطے سچ کو دنیا کے سامنے لانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، جب ان تباہ حال مناظر کو دیکھتے ہیں تو ان کا قلم بھی لرز اٹھتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں، مگر ہر لفظ کے پیچھے ایک کرب چھپا ہوتا ہے۔ وہ تصاویر لیتے ہیں، مگر ہر تصویر میں ایک قیامت قید ہوتی ہے۔ ان کے لیے یہ صرف پیشہ نہیں رہا، بلکہ ایک بوجھ بن چکا ہے.ایسا بوجھ جو دل پر بھی ہے اور ضمیر پر بھی۔

ایک گھر کی کہانی، جس کا ذکر وہ کرتے ہیں، دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ وہ گھر جسے اس کے مکینوں نے بار بار اجڑنے کے باوجود دوبارہ بنایا۔ وہ گھر جو صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں تھا بلکہ محبتوں، یادوں اور امیدوں کا مرکز تھا۔ لیکن آخرکار وہ بھی بمباری کا نشانہ بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ تمام زندگیاں بھی ختم ہو گئیں جو اس میں بسی تھیں۔

یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کا مشترکہ المیہ ہے۔ غزہ میں ہر گھر کی یہی کہانی ہے۔ ہر شخص نے کچھ نہ کچھ کھویا ہے.کوئی اپنا بچہ، کوئی اپنی ماں، کوئی اپنا بھائی، اور کوئی اپنی پوری دنیا۔

رشاد احمد کی تحریر میں جو سب سے زیادہ نمایاں چیز ہے، وہ ہے بے بسی۔ ایک ایسی بے بسی جو انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کیسے ایک ماں اپنے بچوں کو ملبے سے نکالنے کی کوشش کرتی رہی، مگر اس کے ہاتھوں میں صرف مٹی آئی۔ کیسے ایک باپ اپنی بیٹی کو آواز دیتا رہا، مگر جواب میں صرف خاموشی ملی۔

یہ مناظر صرف دیکھنے والے کو نہیں، بلکہ سننے والے کو بھی جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ عالمی سطح پر یہ چیخیں اکثر دب کر رہ جاتی ہیں۔ خبریں آتی ہیں، کچھ دیر کے لیے لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہیں، اور پھر وقت کے ساتھ بھلا دی جاتی ہیں۔

یہی سب سے بڑا المیہ ہے،انسانی جانوں کا ضیاع نہیں، بلکہ ان کا بھلا دیا جانا۔ جب ظلم معمول بن جائے اور مظلوم کی چیخ سنائی نہ دے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ انسانیت خطرے میں ہے۔

رشاد احمد اس خاموشی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا دنیا واقعی اندھی ہو چکی ہے؟ کیا انصاف صرف طاقتوروں کے لیے ہے؟ کیا مظلوم کی کوئی حیثیت نہیں؟

یہ سوالات صرف ان کے نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے ہیں جو دل رکھتا ہے، جو محسوس کر سکتا ہے، اور جو سچ کو دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے۔

غزہ کے لوگ، باوجود اس تمام تر تباہی کے، اب بھی امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ شاید دنیا ان کی مدد نہ کرے، مگر وہ پھر بھی جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ملبے سے اینٹیں اٹھاتے ہیں، اپنے ٹوٹے گھروں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ایک نئی صبح کی امید رکھتے ہیں۔

یہ حوصلہ، یہ صبر، یہ استقامت واقعی قابلِ حیرت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کب تک ایک قوم اس طرح آزمائش میں مبتلا رہے گی؟ کب تک معصوم جانیں یوں ہی قربان ہوتی رہیں گی؟

رشاد احمد کی کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارا کردار کیا ہے؟ کیا ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے؟ کیا ہم صرف سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیں گے؟ یا ہم واقعی کچھ کریں گے؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔ جب ہم ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، تو ہم دراصل اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے،چاہے وہ دعا ہو، شعور بیدار کرنا ہو، یا مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا ہو۔

یہ کالم کسی ایک واقعے یا ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی درد کی عکاسی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے، مگر اسے جگانے کی ضرورت ہے۔

آخر میں، رشاد احمد کی آنکھوں سے بہتے آنسو، ان کی تحریر میں جھلکتا درد، اور غزہ کے ملبے میں دبی آوازیں ہم سب سے ایک سوال کر رہی ہیں:

کیا ہم واقعی انسان ہیں؟

اگر اس سوال کا جواب ہاں میں دینا ہے، تو ہمیں اپنی خاموشی توڑنی ہوگی، اپنے ضمیر کو جگانا ہوگا، اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، اور مظلوموں کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے