انسان پیدائشی غلام ہے

مختلف مذاہب اور فلسفہ انسان کی پیدائش کے بارے میں مختلف خیالات پیش کرتے ہیں۔ کچھ عیسائی نظریات، خاص طور پر Saint Augustine کے اثر سے، یہ کہتے ہیں کہ انسان پیدائشی گناہگار ہوتا ہے۔ یعنی انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے اندر پہلے سے ہی گناہ کی جھکاؤ موجود ہوتی ہے۔ اس کے مطابق انسان کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد بن جاتی ہے تاکہ وہ نجات حاصل کر سکے۔ اس نظریے میں انسان شروع سے ہی مکمل آزاد نہیں ہوتا بلکہ ایک اخلاقی بوجھ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

دوسری طرف، اسلام اور کچھ دیگر مذاہب یہ تعلیم دیتے ہیں کہ انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یعنی وہ معصوم اور پاک ہوتا ہے۔ گناہ اس پر بعد میں آتا ہے، جو اس کے ماحول، معاشرے اور اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس سوچ کے مطابق انسان ایک صاف حالت میں دنیا میں آتا ہے اور پھر حالات کے مطابق اس کی شخصیت بنتی ہے۔

پھر Jean-Jacques Rousseau کا نظریہ سامنے آتا ہے، جو کہتا ہے کہ “انسان آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں انسان فطرت کے لحاظ سے آزاد تھا، لیکن معاشرہ، اس کے اصول، اور طاقت کے نظام اسے قید کر دیتے ہیں۔ اس کے مطابق زنجیریں بعد میں آتی ہیں، پیدائش کے ساتھ نہیں۔

لیکن اگر ہم حقیقت کو گہرائی سے دیکھیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ انسان اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوتا۔ وہ جس گھر میں پیدا ہوتا ہے، وہ اس کا انتخاب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی بچہ امیر خاندان میں پیدا ہو تو اسے بہتر تعلیم، سہولتیں اور مواقع ملتے ہیں۔ اگر کوئی غریب گھر میں پیدا ہو تو اس کی زندگی مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔ یہ فرق پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔

اسی طرح مذہب بھی انسان پر مسلط ہوتا ہے۔ بچہ جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے، وہی اس کی شناخت بن جاتا ہے۔ بعد میں اس شناخت سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی طرح معاشرہ، زبان، ثقافت، سب کچھ انسان پر پہلے دن سے اثر انداز ہوتا ہے۔

صحت بھی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ کوئی بچہ مکمل صحت مند پیدا ہوتا ہے، جبکہ کوئی کمزوری یا بیماری کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ کچھ بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ دنیا میں آتے ہیں۔ یہ سب چیزیں اس کی زندگی کے راستے کو پہلے دن سے محدود کر دیتی ہیں۔

یہاں تک کہ والدین کے اعمال بھی انسان کا پیچھا کرتے ہیں۔ اگر والدین کا نام اچھا ہو تو بچے کو عزت ملتی ہے، اور اگر بدنامی ہو تو اس کا اثر بھی بچے پر پڑتا ہے۔ اس طرح انسان صرف اپنا بوجھ نہیں اٹھاتا بلکہ اپنے خاندان کی تاریخ بھی ساتھ لے کر چلتا ہے۔

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ حقیقت کے قریب لگتا ہے کہ انسان آزاد پیدا نہیں ہوتا بلکہ زنجیروں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ زنجیریں اس کے حالات، اس کے خاندان، اس کے معاشرے اور اس کی جسمانی حالت کی ہوتی ہیں۔

اس لیے آزادی کوئی پیدائشی حقیقت نہیں بلکہ ایک جدوجہد ہے۔ انسان کو اپنی پوری زندگی ان بندشوں کو سمجھنے اور ان سے نکلنے کی کوشش میں گزارنی پڑتی ہے۔

اسی تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان دراصل پیدائشی غلام ہے۔ وہ ان حالات، رشتوں اور حدود کا غلام ہوتا ہے جو اس پر اس کی مرضی کے بغیر مسلط کیے جاتے ہیں، اور اس کی پوری زندگی اسی قید سے نکلنے کی ایک کوشش بن جاتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے