جمال احسانی: شخصیت اور فن

اکادمی ادبیات پاکستان نے1990 ء میں پاکستانی زبانوں کے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پاکستانی ادب کے معمار کے عنوان سے کتابوں کے ایک سلسلے کا آغاز کیا تھا۔اس سلسلے کا بنیادی مقصد،جہاں ایک طرف پاکستانی زبانوں کے اہم لکھنے والوں کی خدمات کا اعتراف کرنا اور انھیں عام قارئین تک پہنچاناہے، وہیں ادب کے محققین،ناقدین اور اُردو ادب کے طالب علموں کوان کے متعلق بنیادی نوعیت کا تحقیقی و تنقیدی مواد فراہم کرنا بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے کی تمام کتابوں کی نوعیت تعارفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حد تک تحقیقی و تنقیدی بھی ہے۔اکادمی اس سلسلے کے تحت تمام بڑی پاکستانی زبانوں کے ادیبوں، شاعروں، نقادوں اور محققین پر دو سو کے قریب کتب شائع کر چکی ہے۔

جمال احسانی : شخصیت اور فن ، اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر شہاب صفدر ہیں۔

جمال احسانی ممتاز غزل گو تھے آپ نے شعر گوئی کا آغاز روایتی انداز سے کرتے ہوئے غزل کو ذریعہ اظہار بنایا۔ ستر کی دہائی کے منفرد اسلوب کے حامل شعراء میں جمال احسانی کا نام نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ کی غزل کلاسیکی اور جدید لہجے کے امتزاج سے وجود میں آئی جس میں ایک خاص قسم کی دل آویزی پائی جاتی ہے۔ وہ سینتالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے لیکن اردو غزل کا تذکرہ جمال احسانی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔

یہ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب سوانح اور شخصیت پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب جمال احسانی کے شعری مجموعے "ستارہ سفر” کے متعلق ہے۔تیسرے باب میں جمال احسانی کے شعری مجموعہ "رات کے جاگے ہوئے "کو زیر بحث لایا گیا ہے جب کہ باب چہارم ان کے شعری مجموعے ” تارے کو مہتاب کیا ” کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں جمال احسانی کی "کلیات جمال” پر تبصرہ کیا گیا ہے اور چھٹے باب میں ان کے نثری کام کا احاطہ کیا گیا ہے۔ باب ہفتم میں جمال احسانی کی شاعری پر مشاہیر کی آرا کا جائزہ لیا گیا ہے اور کتاب کے آخر میں انتخاب کلام کے عنوان سے جمال احسانی کا نمونہ کلام شامل کیا گیا ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ اس کتاب کے مصنف جناب شہاب صفدر ہیں جو خود ایک صاحبِ اسلوب شاعر ہیں۔ اُنھوں نے بہت دقت نظری سے جمال احسانی جیسی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے مختلف ادبی، علمی اور فکری پہلوئوں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

اکادمی ادبیات پاکستان اور نیشنل بک فائونڈیشن کے درمیان کتابوں کی اشاعت کا ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق دونوں قومی ادارے کتابوں کی اشاعت اور کتب بینی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھائیں گے۔اس کتاب کو قارئین کے وسیع تر حلقے تک پہنچانے کے لیے، اکادمی ادبیات نے اسے نیشنل بک فائونڈیشن کے تعاون سے شائع کیا ہے۔جمال احسانی کی شخصیت اور ان کی ادبی جہات کے فہم کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ 144 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 660 روپے مقرر کی گئی ہے اور یہ کتاب نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد میں دستیاب ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے