ویلڈن پاکستان

تاریخ بعض اوقات اپنے آپ کو دہراتی نہیں ہے، بلکہ نئے موڑ لیتی ہے۔ اپریل 2026 کی یہ صبح پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک ایسی ہی نئی لکیر کھینچ رہی ہے جس کا تصور چند ہفتے قبل تک ناممکن معلوم ہوتا تھا۔

جب واشنگٹن سے”تباہی“ کے الٹی میٹم جاری ہو رہے تھے اور تہران سے”ثابت قدم رہنے“ کی گونج سنائی دے رہی تھی، تب دنیا کی نظریں ایٹمی ہتھیاروں یا جدید ٹیکنالوجی پر نہیں، بلکہ اس”سفارتی پل“ پر لگی تھیں جو اسلام آباد نے خاموشی سے تعمیر کر لیا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی محض ایک فوجی وقفہ نہیں، بلکہ پاکستان کی اس سٹریٹجک اہمیت کا اعتراف ہے جسے اکثر اندرونی خلفشار کی نذر سمجھ لیا جاتا تھا۔

اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان نے یہ ناممکن کام ممکن کیسے بنایا؟ مغز ماری کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کامیابی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ توازن برقراررکھنے کا نتیجہ ہے۔

اس عظیم سفارتی معرکے میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ”سویلین ملٹری ہم آہنگی“ نے وہ جادو دکھایا ہے جس کی مثال دہائیوں میں نہیں ملتی۔ پاکستان نے اس بار”فریق“ بننے کے بجائے”سہولت کار“ بننے کا جو کارڈ کھیلا، اس نے خطے کو ایک بڑی ایٹمی یا روایتی جنگ کے دہانے سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کردار اس پورے بحران میں ایک منجھے ہوئے سیاسی مدبر کا رہا۔

انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کے غیر جانبدارانہ مگر فعال موقف کو جس مہارت سے پیش کیا، اس نے واشنگٹن اور تہران دونوں کا اعتماد جیتا۔ وزیراعظم کا”ایکس“ پر وہ علی الصبح کا اعلان، جس نے دنیا کو جنگ بندی کی خوشخبری دی، دراصل ان کی انتھک سیاسی جدوجہد کا ثمر تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف خطے کا جغرافیائی مرکز نہیں، بلکہ سفارتی حل کا محور بھی بن سکتا ہے۔ شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور چین کو جس طرح اعتماد میں لیا، اس نے اس جنگ بندی کو ایک ایسی مضبوط علاقائی پشت پناہی فراہم کی جس کے بغیر امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لانا ناممکن تھا۔

دوسری جانب، اس پوری بساط کے پیچھے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی اسٹریٹجک بصیرت اور ”خاموش سفارت کاری“ نے ریڑھ کی ہڈی کا کام کیا۔ عسکری قیادت نے تہران میں پاسدارانِ انقلاب اور واشنگٹن میں پینٹاگون کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ اور انٹیلی جنس روابط کو اس مہارت سے استعمال کیا کہ برسوں کی دشمنی کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کو سننے پر آمادہ ہو گئے۔ جنرل عاصم منیر نے یہ باور کرایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ہوگا۔ بیجنگ کے ساتھ ان کے قریبی روابط نے چین کو اس معاہدے کے ضامن کے طور پر سامنے لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے اس امن عمل کو وہ عالمی تحفظ ملا جس کی صدر ٹرمپ جیسے سخت گیر رہنما کو ضرورت تھی۔

ایران کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اس کی بڑی سفارتی جیت ہے۔ تہران نے نہ صرف اپنی علاقائی ساکھ کو برقرار رکھا بلکہ واشنگٹن کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایران کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا 10 نکاتی منصوبہ، جس میں پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے انتظام جیسے نکات شامل ہیں، اب بین الاقوامی مذاکرات کا ایجنڈا بن چکا ہے۔ یہ ایران کی وہ سفارتی برتری ہے جس نے اسے ایک ”محصور ریاست“ کے بجائے ایک”اہم سٹیک ہولڈر“ کے طور پر دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔تاہم، اس بڑی تصویر میں کچھ سائے ابھی باقی ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ”یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی“، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں بارود کی بو ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی۔ لیکن پاکستان کے لیے یہ موقع ایک عالمی سہولت کار ہے۔ برسوں سے معاشی بدحالی کی خبروں میں گھرے رہنے والے اس ملک نے ثابت کر دیا کہ جب بات عالمی استحکام کی ہو، تو اس کا جغرافیہ اور اس کی قیادت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسلام آباد اب محض ایک شہر نہیں، بلکہ ایک ایسی ”نیوٹرل گراؤنڈ“بن گیا ہے جہاں دنیا کے دو بڑے حریف ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آج 10 اپریل 2026 کو جب اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے وفود مذاکرات کے لیے بیٹھ رہے ہیں، تو یہ صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ شہباز،عاصم ڈاکٹرائن کی کامیابی کا جشن ہے جس نے ثابت کر دیا کہ جب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہو، تو یہ ملک عالمی سطح پر”مسائل کا حصہ“ بننے کے بجائے ”حل کا مرکز“ بن سکتا ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ایک ایٹمی قوت نہیں، بلکہ امن کی ایک ایسی عالمی طاقت ہے جسے اب دنیا کی کوئی بھی بڑی طاقت نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔مستقبل کے مؤرخ جب اس دور کا تذکرہ کریں گے، تو وہ لکھیں گے کہ جب دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، تب اسلام آباد سے اٹھنے والی امن کی آواز نے تاریخ کا رخ موڑ دیا تھا۔ یہ پاکستان کی دہائیوں کی سب سے بڑی سفارتی فتح ہے، جس نے ثابت کیا کہ قلم اور تدبر کی طاقت ایٹم بم سے کہیں زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے