دنیا کو اسلام کا مطلب سمجھانے کا وقت آ گیا ہے

عالمی سیاست ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی، اور تیسری عالمی جنگ کے خدشات نے دنیا کو خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ایسے میں اگر کسی ملک نے نہ صرف حالات کو سنبھالا بلکہ دنیا کو ایک نئی سمت دکھائی، تو وہ پاکستان ہے ، ایک ایسا ملک جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا رہا، مگر آج وہی عالمی امن کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ مخالفین کے درمیان مذاکرات کی فضا بنی اور وہ بھی "اسلام آباد مذاکرات” کے نام سے۔ یہ محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریاتی فتح بھی ہے ، ایک ایسا پیغام جو دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ امن، برداشت، اور مکالمے کا عملی فلسفہ ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی نے اس نازک موقع پر غیر معمولی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ نہ کسی بلاک کا حصہ بننے کی جلدی، نہ کسی طاقت کے سامنے جھکنے کی روایت بلکہ ایک متوازن، خودمختار اور اصولی مؤقف۔ یہی وہ حکمتِ عملی تھی جس نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا۔ چین، سعودی عرب، ایران اور امریکہ جیسے مختلف مفادات رکھنے والے ممالک کے درمیان اعتماد کا پل بننا کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے یہ کر دکھایا۔

اسلام آباد کا کردار صرف ایک میزبان کا نہیں، بلکہ ایک امن ساز کا ہے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں ماضی میں بھی اہم سفارتی سرگرمیاں ہوئیں، مگر آج اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یہاں ہونے والے مذاکرات نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اسلام کے اصل پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اسلام کا مطلب ہی "امن” ہے، مگر بدقسمتی سے اسے دہشتگردی اور شدت پسندی سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔ آج پاکستان کے ذریعے دنیا کو یہ سمجھانے کا موقع ملا ہے کہ ایک اسلامی ریاست نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے بلکہ عالمی امن میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ تیسری عالمی جنگ کے بادل وقتی طور پر چھٹ چکے ہیں، تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ اس امن کو مستقل کیسے بنایا جائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو ایک مستقل سفارتی پالیسی میں تبدیل کرے، جہاں اسلام آباد عالمی مذاکرات کا مستقل مرکز بن جائے۔

یہ کامیابی صرف حکومت یا اداروں کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ہے۔ ایک ایسی قوم جو مشکلات کے باوجود ہمیشہ امن کی خواہاں رہی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دنیا کو نہ صرف اپنی طاقت دکھائیں بلکہ اپنا نظریہ بھی سمجھائیں — ایک ایسا نظریہ جو نفرت کے بجائے محبت، جنگ کے بجائے امن، اور تصادم کے بجائے مکالمے کی بات کرتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
"دنیا کو اسلام کا مطلب سمجھانے کا وقت آ گیا ہے اور پاکستان اس پیغام کا سب سے مؤثر سفیر بن کر ابھرا ہے۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے