بدلتا عالمی منظرنامہ، آئی ایس پی آر کا کردار

موجودہ دور میں بدلتی ہوئی عالمی سیاست، جسے عالمی نظام کی نئی تشکیل یا Evolving Global Order کہا جا رہا ہے، ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے۔ دنیا اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور وہی ممالک نمایاں ہو رہے ہیں جو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی، فکری اور معاشی میدان میں بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوں۔ اس تناظر میں پاکستان کی حیثیت بھی ایک ایسے ملک کی بن رہی ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود نہ صرف خود کو سنبھالے ہوئے ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی پہچان بھی مضبوط کر رہا ہے۔

اسی سلسلے میں آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام Evolving Global Order سمپوزیم کا انعقاد نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد میں کیا گیا، جو ایک فکری اور علمی نشست کے طور پر سامنے آیا۔ اس سمپوزیم میں ملک کی نامور شخصیات نے شرکت کی جن میں جنرل (ر) زبیر محمود حیات، سینیٹر مشاہد حسین سید اور سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری شامل تھے، جبکہ نظامت کے فرائض منیب احمد نے احسن انداز میں انجام دیے۔

جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی اور سفارتی کامیابیوں پر فخر ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے نہ صرف خود کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر منوایا بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا آج پاکستان کی طرف ایک امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اپنی مشکلات کے باوجود خود کو ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہے اور وہی اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں۔ ان کے مطابق ہمیں اپنی ذہانت اور صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے کیونکہ پاکستانی قوم کسی بھی لحاظ سے کسی سے کم نہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں بانیانِ پاکستان کے وژن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ایک عظیم مقصد کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور آج وہ خواب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم نے سفارتی اور دفاعی میدان میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک آج پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دے رہے ہیں، چاہے وہ اقتصادی تعاون ہو یا خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار۔ ان کے مطابق اسلام آباد آج ایک اہم سفارتی مرکز بن چکا ہے جہاں بڑے فیصلے اور اہم ملاقاتیں ہو رہی ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے نہایت مدلل انداز میں یہ بات کہی کہ حالات جیسے بھی ہوں، ہمیں اپنے ملک سے محبت میں کمی نہیں آنے دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومیں مشکلات سے گزرتی ہیں مگر وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے عزم اور اتحاد کو برقرار رکھتی ہیں۔ ان کا یہ پیغام دراصل ہر پاکستانی کے لیے ایک رہنمائی ہے کہ ہمیں اپنے ملک پر یقین رکھنا چاہیے اور اس کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ سمپوزیم اس بات کی ایک واضح مثال تھا کہ آئی ایس پی آر نہ صرف دفاعی معاملات میں بلکہ فکری اور قومی بیانیے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے پروگرامز نوجوانوں کو نہ صرف آگاہی فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلاتے ہیں کہ وہ اس ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔ آج کے دور میں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ خیالات، بیانیے اور معلومات کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں، اور اس میدان میں پاکستان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان نسل ہے، جو توانائی، صلاحیت اور جذبے سے بھرپور ہے۔ اگر یہی نوجوان تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو جائیں تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ انسانوں کے کردار اور محنت سے حاصل ہوتی ہے۔ آج کا نوجوان اگر اپنے وقت کو صحیح سمت میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پورے ملک کی تقدیر بھی سنوار سکتا ہے۔

اگرچہ پاکستان کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور سماجی مسائل شامل ہیں، مگر اس کے باوجود ہم بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں، ہمارا ایٹمی پروگرام ہماری خودمختاری کی ضمانت ہے، اور ہماری سفارتی کوششیں ہمیں عالمی سطح پر ایک اہم مقام دلا رہی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی پہچان مضبوط کر رہا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ ہمیں منفی سوچ کو ترک کر کے مثبت طرزِ فکر اپنانا ہوگا۔ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد کرنا ہوگا اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر فرد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی بہتری صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ملک کے طور پر ابھرے۔ اگر ہم متحد ہو کر، ایمانداری اور محنت کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں شامل ہوگا اور عالمی سطح پر اس کی پذیرائی مزید بڑھے گی۔ پاکستان ایک حقیقت ہے، ایک امید ہے، اور اس امید کو حقیقت میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے