صحت کا راز:دوا نہیں طرز زندگی ہے

انسانی زندگی میں صحت ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر اکثر انسان اس وقت کرتا ہے جب وہ اس سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ترقی کے نام پر سہولتیں تو بے شمار ہو گئی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ بیماریاں بھی پہلے سے زیادہ عام ہو چکی ہیں۔ ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی مرض میں مبتلا نظر آتا ہے؛ کوئی شوگر کا مریض ہے تو کوئی بلڈ پریشر کا شکار ہے، کسی کو دل کے مسائل درپیش ہیں تو کوئی ذہنی دباؤ میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے؟ کیا واقعی ہماری صحت کا دارومدار صرف دواؤں پر ہے یا ہم نے اپنی زندگی کے اصل اصولوں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے؟

آج کا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ ہر بیماری کا حل صرف ایک گولی میں چھپا ہوا ہے۔ جیسے ہی جسم میں کوئی تکلیف محسوس ہوتی ہے ہم فوراً دوا کی طرف بھاگتے ہیں اور وقتی سکون کو مکمل شفا سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ جدید میڈیکل سائنس نے یقیناً بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بڑے بڑے آپریشن ممکن ہوئے ہیں، جان لیوا بیماریوں کا علاج دریافت ہوا ہے اور ایمرجنسی حالات میں لاکھوں جانیں بچائی جا رہی ہیں۔ یہ سب ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کا انکار ممکن نہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سی عام بیماریاں ایسی ہیں جو مکمل ختم نہیں ہوتیں بلکہ صرف کنٹرول کی جاتی ہیں۔

شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ایک مریض سالہا سال دوا استعمال کرتا ہے مگر بیماری اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی، وہ صرف ایک حد تک قابو میں رہتی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم علامات کو دبانے کو ہی علاج سمجھ لیتے ہیں۔ اگر سر میں درد ہو تو ہم درد کش دوا لے لیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ یہ درد کیوں ہو رہا ہے۔ نیند کی کمی، پانی کی کمی، ذہنی دباؤ یا غیر متوازن غذا یہ سب وہ عوامل ہیں جو اصل مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ جب تک ان بنیادی وجوہات کو درست نہیں کیا جائے گا، بیماری وقتی طور پر دب تو سکتی ہے مگر ختم نہیں ہو سکتی۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم کو ایک حیرت انگیز نظام کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ یہ جسم صرف ایک مشین نہیں بلکہ ایک مکمل خودکار نظام ہے جس میں خود کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر ہم اس جسم کو صحیح ماحول فراہم کریں، مناسب غذا دیں اور اسے آرام کا موقع دیں تو یہ خود کو بحال کرنے لگتا ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اس کی مثالیں دیکھتے ہیں؛ زخم خود بھر جاتے ہیں اور ہڈیاں وقت کے ساتھ جڑ جاتی ہیں۔ یہ سب اللہ کی عطا کردہ صلاحیتیں ہیں جو ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ شفا کا اصل نظام ہمارے اندر ہی موجود ہے۔

اسی طرح بہت سی اندرونی بیماریاں بھی ہمارے طرز زندگی سے جڑی ہوتی ہیں۔ جب ہم بے ترتیبی کو معمول بنا لیتے ہیں، رات دیر تک جاگتے ہیں، فاسٹ فوڈ اور غیر صحت مند غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، جسمانی محنت سے دور بھاگتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو اپنے اوپر سوار رکھتے ہیں تو ہمارا جسم آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس کمزوری کا اظہار مختلف بیماریوں کی صورت میں سامنے آتا ہے، اور ہم اسے اچانک آنے والی مصیبت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ ہماری اپنی عادات کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اسلام ہمیں ایک متوازن اور صحت مند زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے دین میں اعتدال کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کھانے پینے میں سادگی اور میانہ روی کی تاکید کی گئی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ "معدہ بیماریوں کا گھر ہے اور پرہیز سب سے بڑی دوا ہے”۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جسے آج کی جدید سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔ اگر انسان اپنی خوراک کو درست کر لے تو بہت سی بیماریاں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔

یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ دوا کی کوئی اہمیت نہیں۔ دوا یقیناً ایک نعمت ہے، خاص طور پر اس وقت جب بیماری شدت اختیار کر جائے یا ایمرجنسی صورتحال ہو۔ ایسے میں دوا انسان کی جان بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم ہر چھوٹی بڑی تکلیف پر دوا کو اپنا پہلا سہارا بنا لیتے ہیں۔ معمولی بخار ہو یا ہلکا سا درد، فوراً گولی کھا لینا ہماری عادت بن چکی ہے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا جسم اپنی قدرتی قوتِ مدافعت کھونے لگتا ہے اور ہم آہستہ آہستہ دواؤں کے محتاج بنتے چلے جاتے ہیں۔

کچھ ادویات وقتی طور پر فائدہ ضرور دیتی ہیں مگر ان کے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مسئلہ دبانے کے لیے استعمال ہونے والی دوا دوسرے مسائل کو جنم دے دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دوا کا استعمال سمجھداری اور ضرورت کے تحت کیا جائے، نہ کہ عادت کے طور پر۔

ایک اور بڑی غلط فہمی ہمارے معاشرے میں یہ ہے کہ بیماریاں صرف وراثت میں ملتی ہیں۔ اگر والدین کو کوئی بیماری ہو تو اولاد بھی لازمی اس کا شکار ہوگی۔ یہ سوچ انسان کو ابتدا ہی میں مایوس کر دیتی ہے، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ جینز کا اثر ضرور ہوتا ہے مگر یہ مکمل فیصلہ کن نہیں ہوتا۔ انسان کا طرز زندگی اس میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص صحت مند عادات اپنائے، متوازن غذا لے، باقاعدہ ورزش کرے اور اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھے تو وہ بہت سی موروثی بیماریوں سے خود کو بچا سکتا ہے۔

اصل میں ہم صرف بیماری نہیں بلکہ عادات وراثت میں لیتے ہیں۔ اگر گھر میں غیر متوازن غذا کا رواج ہو، زیادہ تیل مصالحہ اور میٹھا استعمال کیا جاتا ہو اور جسمانی سرگرمی کم ہو تو اگلی نسل بھی وہی عادات اپناتی ہے اور پھر وہی بیماریاں سامنے آتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر طرز زندگی اختیار کریں۔

اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہماری بہت سی مشکلات کی جڑ ہماری اپنی لاپرواہی ہے۔ ہم دیر سے سوتے ہیں، جلدی اٹھتے نہیں، جسمانی محنت سے کتراتے ہیں، ہر وقت موبائل اور سکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے بجائے بڑھاتے رہتے ہیں۔ پھر جب جسم تھک کر جواب دیتا ہے تو ہم فوراً دوا کی طرف رجوع کرتے ہیں، حالانکہ ہمیں اپنی عادات کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں نہ صرف روحانی سکون دیتی ہیں بلکہ جسمانی صحت کا بھی بہترین نظام فراہم کرتی ہیں۔ نماز ایک بہترین جسمانی ورزش بھی ہے، روزہ جسم کو صاف (detox) کرنے کا ذریعہ بنتا ہے، ذکر اور دعا ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں اور سادہ زندگی انسان کو بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی طور پر بھی مضبوط ہو سکتے ہیں۔

آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ شفا کا اصل تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ دوا اور ڈاکٹر صرف ذریعہ ہیں، اصل شفا دینے والا اللہ ہی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنا ہوگا، دوا کا انکار نہیں بلکہ اس کا درست استعمال سیکھنا ہوگا، اپنے جسم کی آواز کو سننا ہوگا، اپنی غذا کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنی عادات کو درست کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک صحت مند زندگی صرف دوا سے نہیں بلکہ شعور، ذمہ داری اور اعتدال سے حاصل ہوتی ہے۔

یاد رکھیں! آپ کا جسم اللہ کی ایک امانت ہے، اس کا خیال رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر آپ نے اسے صحیح غذا، مناسب آرام اور متوازن زندگی دی تو یہ آپ کو ایک لمبی اور صحت مند زندگی دے گا، ورنہ صرف دوائیں کبھی بھی اس کمی کو پورا نہیں کر سکتیں۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم بیماری کے آنے سے پہلے ہی اس کا راستہ روک لیں — اور یہی ایک باشعور انسان کی پہچان ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے