ایڈولف ھٹلر 1889 میں آسٹریا کے شہر براونا میں پیدا ہوا ایک کسٹم آفیسر کا بیٹا ، عملی زندگی کا آغاز ایک مصور کی حیثیت سے کیا لیکن ناکام رہا پہلی جنگ عظیم میں جرمن فوج میں بھرتی ھوگیا جرمنی کو شکست ہوئی تو ھٹلر بہت برھم ھوا , یہ پرجوش قوم پرست 1919 میں دائیں بازو کی ایک چھوٹی سی جماعت میں شامل ھوا جسکا نام نیشنل سوشلسٹ پارٹی جسے اختصار کے ساتھ نازی پارٹی کہتے تھے ۔
دو برسوں میں ھٹلر اسکا سربراہ بن گیا 1923 میں جمہوریہ جرمنی کے خلاف بغاوت کی ناکام ھوا اور گرفتار ھوگیا غداری کے جرم میں سزا ہوئی جیل میں اپنی آپ بیتی ,,میری جدوجہد ,, لکھی ، رہا ھونے کے بعد اپنی پارٹی کو پھر فعال بنایا 1933 میں جرمنی کے صدر نے ھٹلر کو وزیراعظم بنادیا , ھٹلر کا دعوہ تھا کہ جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے ذمہ دار یہودی اور کمیونسٹ ھیں نازیوں نے انہیں وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا ، پورے جرمنی میں نازیوں کی دھشت کا دور دورہ تھا ۔ پارلیمنٹ کو ختم کردیا گیا سارے اختیارات ھٹلر اور اسکی کابینہ کے پاس آگئے ۔
1933 میں صدر کے انتقال کے بعد ھٹلر چانسلر صدر بن گیا , اس نے جبری بھرتی کا حکم دے کر بہت بڑا فوجی پروگرام شروع کردیا , جرمن فوج نے 1936 میں رہائن لیںڈ پر قبضہ کرلیا ، 1938 میں آسٹریا اور پھر چیکوسلواکیہ کو ھڑپ کرلیا ، اگست 1939 میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کردیا اور اسکے ساتھ ھی دوسری جنگ عظیم شروع ھو گئی , 1940 میں جنگ کا دائرہ وسیع ھو گیا اپریل میں ھٹلر نے ڈنمارک اور ناروے کو روند ڈالا مئی میں ھالینڈ , بلجئیم اور لکسمبرگ کو جون میں فرانس نے شکست کھائی ,1941 میں ھٹلر کی فوجوں نے یونان اور یوگوسلاویہ پر بھی قبضہ کرلیا , 1942 کے وسط تک جرمنی یورپ اور شمالی افریقہ کے بیشتر حصہ کو فتح کر چکا تھا , لیکن اسی سال کے آخر میں جنگ کا رخ بدل گیا , جرمنی کو مصر اور روس میں شکست سے دوچار ھونا پڑا , ھٹلر نے مزید دو برس جنگ جاری رکھی لیکن اب ھر اقدام خلاف رھا ۔
دوسری جنگ عظیم کے فیصلہ کن مرحلہ میں اتحادی افواج نے جرمنی کو گھیرے میں لے لیا شکست یقینی جرمنی کا مقدر بننے والی تھی ، 23 اپریل 1945 کو روسیوں نے برلن کا محاصرہ کرلیا ، 24 اپریل کو روسی طیاروں کی بمباری چانسلر کے تہہ خانہ تک اثرانداز ھونے لگی جس میں ھٹلر موجود اور پرسکون تھا ۔
اس سے کہا گیا کہ برلن چھوڑ دو لیکن اس کا جواب تھا کہ سپاھی کی حیثیت سے مجھے اپنا حکم مانتے ہوئے جرمنی کے لئے مرجانا چاھئیے اور یہی بات جرمنی کے لئے باعث افتخار ھوگی ۔
28 اپریل کو ھٹلر نے اپنا وصیت نامہ لکھوایا , یہودی تمام دنیا میں مصائب وآلام کے ذمہ دار ھیں میں نے یا کسی جرمن نے جنگ چھیڑنے کی کوشش نہیں کی جنگ یہودیوں النسل بین الاقوامی سیاستدانوں نے بھڑکائی ھے ۔
29 اپریل کو کی دوپہر ھٹلر نے معمول کے مطابق نہایت اطمینان سے فوجی کانفرنس کی , اسی روز اسے مسولینی کے قتل کی اطلاع ملی , 30 اپریل کو دوپہر بارہ بجے ھٹلر اپنے کمرے سے باھر آیا کھانے کے کمرے میں داخل ھوا ، موجود سب افراد سے مصافحہ کیا ھر ایک سے کچھ نہ کچھ بات کی اور وہ نہایت اطمینان سے سبزیاں کھاتا رھا ، یہ ھٹلر کا آخری کھانا تھا ، کھانے کے بعد قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی اور اپنی بیوی کے ساتھ کمرے میں چلا گیا ۔
گوئبلز اور دوسرے لوگ کمرے کے باھر کھڑے رھے چند لمحوں کے بعد ریوالور کے چلنے کی آواز آئی ، لوگ دوسری گولی کا انتظار کرتے رھے لیکن سکوت چھایا رھا جب وہ لوگ کمرے میں داخل ھوئے تو ھٹلر کا جسم صوفے پر خون میں لت پت پڑا تھا اور اسکے پاس ایوا کی لاش پڑی تھی , ایوا نے زھر کھالیا تھا ۔