کہاں وہ اور کہاں آپ ؟

آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ نے دو تہائی کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اس کامیابی پر اتنے شاد ہوئے کہ انتخابات کے دوسرے دن اپنی بیماری اور دل کے آپریشن کو بھلا کر مظفرآباد جا پہنچے۔ وہاں انہوں نے خطاب بھی کیا ۔ خطاب میں انہوں نے تحریک انصاف پر طنز کی۔ اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں کھڑی کر کے کہا کہ 2سیٹیں لینے والے احتجاج بھی ایسا ہی کریں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بے مثال کامیابی ملنے کے بعد میاں صاحب کے اندر عاجزی آ تی لیکن ان کے خطاب سے رعونت اور تکبر ظاہر ہو رہا تھا، ان کے رفقاء انہیں عہد جدید کا صلاح الدین ایوبی قرار دینے پر مصر ہیں۔کہاں صلاح الدین ایوبی اور کہاں میاں نواز شرزیف صاحب؟

مصنف لارن پین اپنی کتاب ”فرد جاوداں” میں صلاح الدین ایوبی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ صلاح الدین کامیابی ملنے کے بعد اپنی زبان پر قابو رکھتا یہاں تک کہ طیش دلانے پر بھی زبان سے برے الفاظ نہیں نکالتا، وہ اہل دانش کی مجلس جماتا اور ان کی مفید عالمانہ گفتگو سے فیض یاب ہوتا۔ بحث و مباحثہ کو پسند کرتا دوران گفتگو ان کی ذات نمایاں رہتی، اس کی علمی دلچسپی کا دائرہ اسلامیات اور طب سے لے کر تاریخ، جغرافیہ ،تجارت ، سیاست اور فلکیات تک وسیع تھا، اس کے ایک مبصر کا کہنا ہے کہ اس سے بات کر کے بڑی مسرت حاصل ہوتی جبکہ دوسرے کا مشاہدہ تھا تصنع اور بناوٹ اس سے چھو کر نہیں گزری وہ کبھی جذباتی نہیں ہوتا، وہ کبھی ایسی بات نہیں کرتا جس سے بعد میں اسے سبکی ہو، اس کے دروازے ہمیشہ فریادی کیلئے کھلے رہتے۔ اس تک رسائی آسان تھی وہ گہری نظر رکھنے والا ایک رحم دل اور انسان خدمت حکمران تھا۔اس کے ذاتی طبیب عبداللطیف نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے کہ وہ ہر دور کا انسان تھا، مرد جاوداں تھا۔

میاں نواز شریف اہل دانش تو دور کی بات خوشامدیوں کو پسند کرتے ہیں، جو آپ کی تعریف میں زمین و آسماں کے قلابے ملاتے ہوں، آپ کی علمی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کبھی آپ اخبارات نہیں پڑھتے تاریخ ، جغرافیہ ، سیاست کا علم تو دورر کی بات ہے۔ ہاں تاجر آپ ضرور ہیں اور اپنی دولت بڑھانے کیلئے تجارت کے گر ضرور جانے ہوں گے، آپ کے اس علم سے عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوا ، آپ کے دروازے فریادیوں کیلئے نہیںبلکہ درباریوں کیلئے کھلے رہتے ہیں۔حضور والا آپ تک رسائی تو دور کی بات آپ کے خانساماں تک رسائی ناممکن ہے۔

آپ نے یہ کہا کہ انتخابات کارکردگی سے جیتے جاتے ہیں نعروں سے نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان، فاٹا ، بلوچستان اور آزاد کشمیر کی عوام کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتی بلکہ اسلام آباد میں جس کی حکومت ہو اس کے نمائندوں کو ووٹ دیتی ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت کی کارکردگی اتنی بری بھی نہیں تھی کہ خطے میں وہ محض 2نشستیں حاصل کر سکے۔ آزاد کشمیر میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیزکا قیام پی پی حکومت کا ہی کارنامہ تھا۔ دودھ اور شہد کی نہریں کہیں نہیں بہہ رہیں۔ ملک کی 31فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ پینے کا صاف پانی صرف 25 فیصد آبادی کو میسر ہے جبکہ گندے پانی سے بیماریوں اور ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہیپاٹائٹس ایک وبا کی طرح پھیل رہا ہے ، صحت کی سہولتیں ناپید ہیں، اسلام آباد کا سب سے بڑا ہسپتال پمز کا ایک وزٹ کریں تو آپ کو راہداریوں اور باہر لان میں مریض تڑپتے بلکتے ملیں گے ایک ایک بیڈ پر 2، دو مریض لیٹے ہوئے ہیں ۔ بدبو اور تعفن سے صحت مند آدمی بھی مریض بن کر وہاں سے نکلتا ہے۔ لاہور شہر میں بچوں کا اغواء کہاں کی عمدہ کارکردگی ہے۔ ریلوے کا نظام دیکھیں تو پورے ملک میں یہ اب سب سے محفوظ ذریعہ سفر ہونے کی بجائے انتہائی خطرناک ذریعہ بن چکا ہے پورے ملک کی پٹڑی کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ جب آپ کا سارا زور لاہرو شہر میں اورنج ٹرین پر ہے، دوسرے تمام ملکوں کی طرح جہاں ریل کا حسین سفر ایک اذیت ناک تجربہ بن چکا ہے وہ دن بدن اتنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے کہ غریبوں کیلئے لمبے فاصلے طے کرنا ناممکن بنایا جا رہا ہے۔

ہمیں آزادی حاصل کیے تقریباً7دہائیاں ہو چکی ہیں لیکن آج بھی عوام اپنے بنیادی حقوق اور ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ مسلسل لوڈشیڈنگ، دہشتگردی ، لاقانونیت ، بے روزگاری اور کرپشن جیسی بلائوں کا تخت مشق بنے چلے آ رہے ہیں ۔آبادی کے غالب حصے کو دو وقت کی روٹی ، تن ڈھانپنے کو کپڑا اور اپنے بچوں کیلئے تعلیم بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ ایسے تمام اوامر ریاست کی بنیاد پر ضرب لگاتے ہیں کیونکہ ضرورت مندوں کو پیٹ بھرنے کیلئے کھانا، سر چھپانے کیلئے مکان اور تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے۔

جس ملک کے لیڈر لوٹ مار میں مصروف ہوں ان کی ساری توجہ آف شور کمپنیاں بنانے پر مرکوز ہوں انہیں عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ آپ دعویٰ کرتے ہیں عوام کی بہبود اور کارکردگی بہتر بنانے کی لیکن حقیقت میں معصوم لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں اس کے باوجود آپ کے رفقاء آپ کو صلاح الدین ایوبی بنانے پر بضد ہیں تو ان کی مرضی، تاریخ نے مشکل ہی سے صلاح الدین ایوبی جیسا کوئی انسان پیدا کیا ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے