گزشتہ دنوں سینئر کالم نگار اور صحافی جناب مجیب الرحمان شامی کا شہباز شریف کی طرزِ حکمرانی پر کالم پڑھا۔ جس میں انہوں نے ان کی برق رفتاری کے لقب شہباز شریف سپیڈ کے متعلق تفصیل بیان کی۔ چند روز ابد ہی پنجاب حکومت کی جانب سے اخبارات میں بڑی شدومد سے اشتہار دیا گیا جس میں امریکی تھنک ٹینک کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو پاکستان کا نمبر ون وزیر اعلی قرار دیا گیا لیکن انہی اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر شہباز شریف کی طرزِ حکمرانی کا پول کھول رہی تھی۔
ڈان اخبار کے رپورٹر نبیل انور ڈھکو ہمیشہ سے منفرد سماجی اور ثقافتی خبریں اخبار کی زینت بناتے ہیں ان کی خبر پڑھتے ہوئے میں ورطہء حیرت میں ڈوب گیا۔گورنمنٹ کالج چکوال کے پرنسپل نے محکمہ تعلیم کے حکم نامے جس کے مطابق پنجاب کے تمام تعلیمی اداروں کو ایک ماہ کے اندر کالج کا میگزین شائع کرنے کا حکم دیاگیا۔ اس حکم نامے کا گورنمنٹ کالج چکوال کے پرنسپل نے دلچسپ حل نکالا کہ سال 2014میں جو کالج میگزین شائع ہوا تھا اسے نئے شمارے کے طور پر 2016میں دوبارہ شائع کر دیا۔
پرانے اور نئے شمارے میں صرف ایک ہی تبدیلی کی گئی وہ یہ کہ پرانے پرنسپل صاحب کی تصویر تبدیل کر کے نئے پرنسپل صاحب کی تصویر لگا دی گئی۔ نئے شمارے کے لئے نہ ہی طالب علموں اور تدریسی عملے سے مضامین طلب کئے گئے اور نہ کسی ایڈیٹر کو ادارتی مراحل سے گزرنا پڑا۔ اور یوں کالج کے پرنسپل صاحب نے ادبی سرقہ کا سہارا لے کر سرکاری حکم نامے کی تعمیل کی۔ اب بین الاقوامی ادارے شماریات کی سائنس کا سہارا لے کر یہ رپورٹ دیں گے کہ پنجاب تعلیم اور دیگر شعبوں میں اپنے اہداف باقی صوبوں کی نسبت بہتر طور سے مکمل کر رہا ہے۔
اور پھر وزیر اعلی پنجاب سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اپنی کار کردگی سے متعلق رپورٹ کو اشتہار کی شکل میں اخبارات کی زینت بنائیں گے۔ خیر بیوروکریسی کی ذہنی پسماندگی کی سطح تو انگریز کے نو آبادیاتی دور سے ہی ہے لیکن مجھے حیرت کالج کے پرنسپل حاحب کے رویے سے ہوئی جس معاشرے کے پرنسپل ادبی سرقے کو کامیاب نوکری کا گُر گردانے اور اسے فروغ دے وہاں تعلیمی معیار کیا ہو گا۔ مجھے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر نذیر یاد آئے جنہوں نے گورنر پنجاب نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کے کالج کی دیوار گرانے کے غیر دانشمندانہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور طالب علموں کے ساتھ لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے سامنے ڈٹ گئے اور یوں گورنر پنجاب کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔
تعلیمی اداروں کے یہ رسالے نوجوانوں میں زمانہ طالب علمی سے ہی تحقیق و تخلیق کی لگن پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ علی گڑھ یونیورسٹی ہو یا گورنمنٹ کالج لاہور یا ان جیسے سینکڑوں دوسرے اداروے اگر ان اداروں کے ادبی رسائل نہ ہوتے تو شائد اردو ادب کا دامن بڑے بڑے دانشوروں سے محروم رہتا۔ اور نا ہی علامہ اقبال ، فیض احمد فیض جیسے شعراء جنم لے سکتے ۔لیکن شاید یہ لوگ اب ہمیں تاریخ کی کتابوں میں ہی ملیں کیونکہ جب خواب دکھانے اور معاشرے کی تعمیر کرنے والے استاد ہی نوکری پیشہ ذاتی ملازم بن جائیں تو پھر تعلیمی اداروں میں کلرک اور بابو ہی جنم لیتے ہیں۔