آزادکشمیرعدلیہ کےاعلیٰ عہدے پر تعیناتی کے عمل میں غیر شفافیت کی اطلاعات

آزادکشمیر کی ماتحت عدلیہ میں 27مارچ2017ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج گریڈ20 کے عہدے کے لیے کیے گئے انٹرویوز کے عمل پرتکنیکی نوعیت کے سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔

آئی بی سی اردو نیوز کے ذرائع کو معلوم ہوا ہے کہ گریڈ 20 کے اس عہدے کے ایک امیدوار خالد منظور گیلانی ایڈووکیٹ کو سنٹرل بار کے صدر راجہ آفتاب کی جانب سے 18فروری 2017ء کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا جس میں تصدیق کرتے ہوئے لکھا گیا ’’ آزادکشمیر ہائی کورٹ کے وکیل خالد منظور گیلانی 9 اکتوبر 2004ء سے اب تک سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے رکن اور ریگولر پریکٹسنگ وکیل ہیں ۔‘‘

خیال رہے کہ اس عہدے کے لیے اشتہار میں‌دی گئی شرائط کے تحت انٹرویو کی اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ عہدے کا امیدواردس سالہ لائسنس ہولڈر ہو اور اس بات کی تصدیق سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے صدر جانب سے ایک سرٹیفیکیٹ کی صورت میں ہونی چاہیے۔

سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کے صدر کی جانب سے جاری کیے گئے تصدیقی سرٹیفیکیٹ میں مذکورہ امیدوار خالد منظور گیلانی کے چال چلن کی تصدیق بھی کی گئی ہے البتہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ خالد منظور گیلانی ایڈووکیٹ ان دس سالوں میں کتنے مقدمات لڑ چکے ہیں اور اس سلسلے میں کسی رپورٹ کا حوالہ بھی سرٹیفیکٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

آئی بی سی اردو نیوز کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج کے عہدے کے امیدوار خالد منظور گیلانی گزشتہ کئی برسوں سے بیرون ملک روزگار اور حصولِ شہریت کی غرض سے مقیم رہے ہیں۔ اس لیے یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ گزشتہ دس برس سے مظفرآباد میں وکالت کرتے رہے ہیں۔

صدر سنٹرل بار کی جانب سے جاری کیے گئے کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ خالد منظور گیلانی 2004 ء سے بار ایسوسی ایشن کے ممبر ہیں اور باقاعدگی سے وکالت کر رہے ہیں لیکن اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا خالد گیلانی ایڈووکیٹ نے کون سے ، کس نوعیت کے کل کتنے مقدمات لڑے ہیں ۔ سرٹیفکیٹ میں اس بات کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ خالد منظور گیلانی نے یہ دس سالہ پریکٹس کس ملک یا شہر میں کی ہے۔ تاہم بظاہر سرٹیفیکیٹ کی عبارت سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ ان کے مظفرآباد میں پریکٹس کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس تصدیقی سرٹیفکیٹ کے حصول کے بعد مذکورہ امیدوار کو رواں برس 27 مارچ کو ہونے والے انٹرویو میں شامل کر لیا گیا اور اس بات کی جانچ نہیں کی گئی کہ خالد منظور گیلانی گزشتہ دس سال سے کہاں پریکٹس کرتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے مذکورہ امیدوار کی مقدمات کی تفصیل سے متعلق سابق رپورٹ دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ مذکورہ امیدوار خالد منظور گیلانی آزادکشمیر سپریم کورٹ کے سابق قائم مقام چیف جسٹس منظور حسین گیلانی کے بیٹے ہیں ، منظور حسین گیلانی 2010 ء میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے.

جسٹس ریٹائر منظور حسین گیلانی آزادکشمیر میں برسراقتدار سیاسی جماعت مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور 2016ء میں‌ آزادکشمیر میں‌ ہونے والے عام انتخابات کے دوران انہیں‌مسلم لیگ نواز (آزادکشمیر ) کی الیکشن منشور کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا.

علاوہ ازیں منظور حسین گیلانی ایک این جی او ایسوسی ایشن فار دی رائٹس آف پیپل آف جموں اینڈ کشمیر(ARJK) کے سربراہ بھی ہیں.

آئی بی سی اردو نے جب سرٹیفیکٹ کے اجراء پر اٹھنے والے سوالات کے بارے میں سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآبادکے صدر راجہ آفتاب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا :’’میں نے خالد منظور گیلانی ایڈووکیٹ کے سنٹرل بار ایسوسی ایشن کا رکن ہونے کی تصدیق کی ہے ،جس پر میں قائم ہوں ‘‘

سنٹرل بار کی جانب سے جاری کیا گیا سرٹیفیکیٹ

 

 

 

انہوں نے کہا :’’ اس سرٹیفیکٹ سے پہلے متعلقہ وکیل کے لیے لازم ہے کہ وہ آزاد جموں وکشمیر بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ تصدیقی دستاویز پیش کرے اور میں‌نے اس دستاویز کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا‘‘

 

 

 

جب راجہ آفتاب سے پوچھا گیا کہ آپ کی جانب سے جاری کیے گئے سرٹیفیکٹ میں یہ تو کہا گیا ہے کہ وہ ’’پریکٹسنگ لائیر‘‘ ہیں لیکن انہوں نے کہاں وکالت کی یہ واضح نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا:’’ وہ فیاض احمد جنجوعہ ایڈوکیٹ کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں ، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات آزادجموں وکشمیر بارکونسل ہی دے سکتی سکتی ہیں‘‘

 

 

 

اس سلسلے میں جب آزادکشمیر کے سینئر وکیل امجد علی خان ایڈووکیٹ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا :’’ یہاں اس حوالے سے کوئی ضابطہ نہیں ہے ۔ ان عہدوں کے لیے جاری کیے گیے سرٹیفیکیٹ میں صرف بار ایسوسی ایشن کی رکنیت کی تاریخ ہی کافی سمجھی جاتی ہے۔ امیدوار سے اس بات کا کوئی تحریری ثبوت طلب نہیں‌ کیا جاتا جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ دس برس سے مسلسل وکالت کر رہا ہے اور نہ ہی اس کے مقدمات کی تفصیل طلب کی جاتی ہے‘‘

 

 

امجد علی خان ایڈوکیٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا :’’ یہاں وکیلوں کے مقدمات کا ریکارڈ رکھنے کا کوئی نظام نہیں ہے ۔ اگر کوئی وکیل خود رکھنا چاہے توالگ بات ہے ۔یہ بظاہر بہت مشکل کام ہے‘‘

اسامی کے لیے جاری کیا گیا اشتہار

 

 

امجد علی خان نے کہا : ’’ آزادکشمیر میں جوڈیشل سروسز کی پڑتال ہونی چاہیے ۔ ان کے بقول ’’ عدلیہ میں معاون اسٹاف میں سے اکثرکی عدلیہ کے کسی نہ کسی بڑے حاضر سروس یا سابق عہدے دار سے رشتہ داری یا قرابت ہے‘‘

 

 

جب امجد علی خان ایڈووکیٹ سے پوچھا گیا کہ آزادکشمیر عدلیہ میں بڑے عہدوں کے لیے طے شدہ لائحہ عمل میں موجود ابہامات کے ناجائز استعمال کو کیسے روکا جاسکتا ہے تو انہوں نے کہا:’’اس مسئلے کا حل صرف مضبوط بار ایسوسی ایشن ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بار کونسلوں کے الیکشنز پر اب ججز اثر انداز ہونے لگے ہیں ‘‘

 

 

 

انہوں نے کہا:’’ میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اس کا کردار بالکل بھی امید افزاء نہیں ہے‘‘

 

 

 

 

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا: ’’ اگر ان اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ ہی پر کرنی ہیں تو کیوں کسی تیسرے غیر جانب دار ٹیسٹنگ ادارے سے یہ کام نہیں لیا جاتا‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے