بحران نہیں ترقی

پاکستانی عوام ایک بار پهر اسی ذہنی تناو کا شکار ہیں ، جس میں در اصل مبتلا تو وہ گزشتہ ستر سالوں سے ہی ہیں ، لیکن عارضی طور پر اس کو بهلائے رکهتے ہیں – یہ معاملہ ہے ووٹ کے تقدس کا – عوام کی بہت بهاری اکثریت واضح طور پر یہ سمجهتی ہے وہ خواہ کسی بهی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں ، اختیار اور اقتدار ہمیشہ ایک نامعلوم طاقت کے ہی ہاتهوں میں رہتا ہے – اس سوچ کے پیچهے ایک پوری تاریخ ہے اور لاتعداد واقعات کا ایک پورا سلسلہ ہے – بانی پاکستان قائداعظم نے تو یہ معاملہ اسی وقت بهانپ لیا تها ، جب پاکستان ابهی وجود میں ہی آیا تها – جب انہوں نے کشمیر میں بهارتی فوج کا داخلہ روکنے کے لئے اس وقت کے انگریز آرمی چیف کو حکم دیا ، لیکن اس نے قائد کے حکم پر عمل کرنے سے عملا” انکار کر دیا اور اس نافرمانی کی سزا کشمیری عوام سمیت پورا برصغیر گزشتہ 70 سالوں سے بهگت رہا ہے اور جانے کب تک یہ سزا جاری رہے گی –

قائد اعظم نے افواج پاکستان سے ایک خطاب میں واشگاف الفاظ یہ اعلان کر دیا تها کہ ملکی مسائل کے حل کی ذمہ داری سویلینز کی ہے ، جب کہ افواج سمیت تمام اداروں کو سیاسی معاملات سے علیحدہ رہ کر ، سویلین حکومت کے حکم کے مطابق صرف اپنی ملازمت پر توجہ مرکوز رکهنا ہے – بدقسمتی سے قائد اعظم کی نصیحت ، جسے پاکستانی قوم قانون کا درجہ دیتی ہے ، پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا – قائد کی وفات کے تهوڑے ہی عرصے بعد جنرل ایوب خان نے اپنے ہی ملک کو فتح کر کے خود کو صدر پاکستان مقرر کر دیا – کیا کوئی ذی شعور قانون پسند اور اصول پرست انسان اس "کارنامے” کی تعریف کر سکتا ہے ؟

میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس وقت کے باشعور پاکستانیوں کو جنرل ایوب کی اس حرکت سے کتنا شدید صدمہ پہنچا ہو گا ، اور اس کی وجہ سے فوج جیسے اہم ادارے کی مقبولیت بهی یقینا” متاثر ہوئی ہو گی – پهر اس مارشل لائی دور میں قائد اعظم کی ہمشیرہ ، مادر ملت کے ساتهہ جو شرمناک سیاسی سلوک کیا گیا ، اس نے بهی قوم کے شعور پر بہت منفی اثر چهوڑا – پهر جنرل یحیی’ خان آ گیا تو پاکستان دولخت ہو گیا – حمودالرحمان کمیشن بنا ، جس کی رپورٹ آج تک خفیہ ہے –

جنرل ایوب اور جنرل یحیی’ ، دونو کے ادوار میں مقبول عام سیاست دانوں کو عوام کی نظروں میں بدنام کرنے کے بے شمار ہتهکنڈے استعمال کئے گئے – طویل مارشل لائی دور کے بعد عوام کو ذوالفقار علی بهٹو کی شکل میں ایک انقلابی مزاج سیاست دان ملا ، جسے عوام نے بہت پیار دیا – بهٹو دور میں آئین بنا – عوام کو اپنے حقوق کا ادراک ملا- لیکن عوام کا یہ پیار نامعلوم قوتوں کے لئے ناقابل برداشت ہو گیا – جنرل ضیاء نے ملک پر قبضہ کر لیا ،بهٹو کو گرفتار کیا اور خود کو پاکستان کا صدر بنا دیا – بهٹو کو غدار ، قاتل اور بدکار کہا گیا اور پهر عدالت سے پهانسی دلوا دی گئی – کیا بهٹو کے چاہنے والوں نے اس صدمے کو بهلا دیا ؟ نہیں — بل کہ وہ آج بهی اس سے عشق کرتے ہیں – پهر عوام نے اسی بهٹو کی بیٹی کو چن لیا – دو بار اسے وزیراعظم منتخب کیا – بے نظیر کے ادوار میں پاکستان کا میزائل پروگرام شروع ہوا ، جس نے ملکی دفاع کو مضبوط کیا – لیکن اسے کرپٹ اور”سکیورٹی رسک” قرار دیا گیا اور دونو بار بے عزت کر کے نکال دیا گیا –

عوام نے میاں محمد نواز شریف سے محبت کی – اسے ووٹ کی صورت میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ حمایت دی ، اسے تین بار وزیراعطم منتخب کر کے عالمی ریکارڈ بنا ڈالا – محمد نواز شریف کے تینو ادوار میں ملک نے ہر شعبے میں زبردست ترقی کی -عالمی طاقتوں کے خوف ناک دباو کے باوجود ایٹمی دهماکوں کےذریعے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا گیا – برصغیر کی پہلی موٹر ویز بنیں – یونیورسٹیز ، سکولز ، کالجز ، ہسپتالوں ، بجلی گهروں ، ایئرپورٹس اور صنعتوں کا جال بچها دیا گیا – یوں روزگار کے مواقع بهی پیدا ہوئے – لیکن اس کے ساتهہ کیا کیا گیا؟ اسے کبهی "حکومت” کرنے ہی نہیں دی گئ – اسے بهارت کا یار ، کرپٹ اور نجانے کیا کیا کہا گیا –

پهر پانامہ لیکس سامنے آئیں ، جن میں 436 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیز کا ذکر تها – ان سب میں سے صرف 2 افراد کے والد ، منتخب وزیراعظم کے خلاف مقدمہ بنا دیا گیا – باقی سب کو پاک صاف سمجها گیا – منتخب وزیراعظم کے خلاف کرپشن کا الزام ثابت نہ کیا جا سکا تو پهر ایک ایسا جواز تلاش کر کے اسے نااہل کہا گیا کہ جس کی وضاحت بڑے بڑے قانون دان بهی نہیں کر پا رہے – اب یہ ، غلط یا درست ، تاثر عام ہے کہ یہ سب معاملات کسی نامعلوم سمت سے آنے والے اشاروں کے ماتحت ہوتے ہیں – بعض لوگ اداروں کی طرف انگلیاں اٹهاتے ہیں تو میرے جیسے طلبائے علم کو افسوس ہوتا ہے – شاید کوئی ایسا خاص جرم ہے جو بس ہمارے ہی ملک میں ہوتا ہے ، اور صرف منتخب اور مقبول وزرائے اعظم سے ہی سرزد ہوتا ہے ، کسی اور سے نہیں – اداروں کی خدمات سے انکار ممکن نہیں – اور یقینا” سیاست و حکمرانی میں ان کا کوئی کردار بهی نہیں ہونا چاہیے –

ہم جیسے کم فہم تو یہ سوچتے ہیں کہ اداروں کے ٹکراو ، سیاسی جماعتوں کی پیدائش یا توڑ پهوڑ ، مارشل لاء اور ٹیکنو کریٹ حکومت جیسی اصطلاحات ہمارے ملک سے ختم کیوں نہیں ہو جاتیں؟ پاکستانی کی حیثیت سے تمام اداروں کا احترام ہم پہ لازم ہے – لیکن اداروں اور سیاست دانوں سے بهی درخواست ہے کہ عوام کے ووٹ کے احترام کا سوچیں – ملک کو سیاسی بحرانوں کی نہیں ، بل کہ استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے