سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف اقدامات اور ولی عہد محمد بن سلمان کی دو ٹوک گفتگو

مملکت العربیہ السعودیہ میں کرپشن کے خلاف کیے گئے اقدامات پر اور کرپشن کی روک تھام کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت بنائی گئی کمیٹی کے متعلق ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خالد ایم بتارفی نے ولی عہد محمد بن سلمان سے جو سوالات کیے . سعودی ولی عہد نے ان سوالات کے جوابات کافی وضاحت کے ساتھ دیے ہیں . الیاس بابر محمد نے اس پریس کانفرنس میں کی گئی گفتگو کا ترجمہ کیا ہے جو آئی بی سی اردو کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے
(مدیر)

سوال:اب ہی کیوں؟

جواب : اب کیوں نہیں؟ کیا ہمیں عمر بھر کے لئے بدعنوانی اور کرپشن کے مسائل کے ساتھ رہنا پڑے گا ؟ بے شمار مقدمات کھولے گئے اور انہیں سالوں کی تحقیق کے بعد صرف چند الزامات کے ساتھ بند کر دیا گیا – حکومتی ایجنسیوں کو جو کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹاسک دیے گئے تھے وہ ان کو پورا کرنے اور ٹھوس نتائج دینے میں ناکام ہو چکی ہیں – 2010 اور 2013 میں جدہ کے سیلاب کے دوران مالی بے ضابطگیوں کے ذمہ دار لوگ اب تک آزادی سے لوٹی گئی کروڑوں اور اربوں کی رقم اور پراپرٹی کو انجوائے کر رہے ہیں – میں ان تمام میگا پروجیکٹوں کا ذکر نہیں کرنا چاہوں گا جو ایک بڑی قیمت کے عوض گھٹیا معیار کے بنائے گئے اور جن میں مشکوک سودے ہوئے ، طاقت کا غلط استعمال ہوا ، منی لانڈرنگ اور رشوت خوری کی گئی ، عوامی فنڈز اور پراپرٹیز کا غلط استعمال ہوا –

یہ ہی بہترین وقت تھا اس کے بارے میں کچھ کیا جائے – بادشاہ اور ولی عہد نے وہی کیا جس کا انہیں انتظار تھا – ہماری توقعات سے زیادہ ،تیز اور ہمارے خوابوں کی تکمیل – لہذا، اب یہ پوچھنے کے بجائے کیوں ہمیں پوچھنا چاہیئے کہ پہلے کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا نظام اور اس نظام کو چلانے والے لوگ نااہل تھے –

نظام جو پچھلے ہفتے تک موجود تھا وہ غیر مؤثر اور نااہل تھا اس میں ہم ایسی فائلوں کے ساتھ نہیں نمٹ سکتے تھے – اس سب کے لیے ایک با اختیار اتھارٹی کا قیام ضروری تھا جو مطلوبہ طاقت اور مینڈیٹ ، جو جلد ، موثر اور جامع طور پر ان سب سے نمٹ سکے –

سوال: یہ عمل سب سے اوپر سے کیوں شروع کیا گیا ؟

جواب :- کیونکہ یہ ہی جگہ تھی جہاں سے ہمیں شروع کرنا چاہیے تھا -لیڈر رہنمائی اور قیادت کرنے کے لیے ہوتے ہیں ، وہ لوگوں کے لیے متاثر کن ہوتے ہیں اور انہیں رول ماڈل تصور کیا جاتا ہے. اگر وہ ایسی مثال قائم کرتے ہیں تو بہت گھٹیا ہو گئی اور ایسے میں ہم ان کے چاہنے والوں اور پیروکاروں سے کیا توقع اور امید کر سکتے ہیں ؟ برا بہت برا – ایسے رول ماڈل پورے معاشرے کو یہ سکھا رہے ہیں کہ بدعنوانی کرنا اور عوامی دولت لوٹنا درست ہے – اگر سر بیمار ہو تو آپ جسم کو شفا نہیں دے سکتے –

سوال:اصل پیغام کیا ہے ؟

جواب : اصل میں یہاں دو پیغامات ہیں – ایک سعودی عوام کے لئے جو کہتے ہیں کہ ہم مزیدبدعنوانی برداشت نہیں کریں گے جو آج شروع ہو رہا ہے ، صفائی کا عمل مکمل رفتار سے – اگر آپ کرپٹ نہیں ہیں تو آپ نئے ماحول سے فائدہ اٹھائیں گے اور اگر آپ بدعنوانی کا حصہ ہیں اس سے الگ ہو جائیں یا پھر – – – –

دوسرا پیغام دنیا کے لئے ہے جس نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب عالمی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ساز گار ماحول بنا رہا ہے جہاں انصاف ، ایمانداری اور قانون کی حکمرانی سب سے اوپر ہے – کرپشن اور بدعنوانی اپنی تمام صورتوں میں سب سے نیچے ہے – سرمایہ کار، موجد، مزدور اور کاروباری افراد یہاں تک کہ کھیل کے میدان کا لطف بھی اٹھائیں گے ، جہاں بہترین لوگ کامیابی حاصل سکیں گے ، کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہو گا اور کوئی وی آئی پی کسی بھی مقابلے میں آسانی سے جتنے یا شارٹ کٹ کے لیئے امتیازی سلوک کا اہل نہیں ہو گا –

سوال: اس سارے عمل کا سعودی ویژن 2030 کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟

جواب : سب کچھ! نئی دنیا میں جس کا ہم نے خواب دیکھا ، منصوبہ بنایا اور محنت کی – ہم گندی چالوں اور ان سے حاصل شدہ پیسے ، کم معیار کے منصوبوں، ذاتی منافع خوری کے لیے زیادہ قیمت کی خدمات کا حصول یا ٹیبل کے نیچے سے ہونے والی ڈیلز کو برداشت نہیں کریں گئے – ہماری نئی دنیا کو روشن سورج کے نیچے چمکنا ہے ، اور جو لوگ صرف تاریکی میں رہتے اور کام کرتے ہیں ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہو گی –

سوال: کیا آپ کے اس سارے عمل کے غیر ارادی نتائج اور سخت رد عمل آ سکتا ہے ؟

جواب : ہو سکتا ہے – کیونکہ ہر عمل کے لیئے ایک رد عمل ہوتا ہے . تاہم ہر چال مکمل پلان کر کے چلی گئی ہے ،تمام حفاظتی اقدامات و انتظامات کیے جائیں گئے ، ہر طرح کے رد عمل کے لیئے جوابی اقدامات بھی کر لیے گئے ہیں –

میرا یقین ہے کہ یہ صفائی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی ، نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کار اور کاروباری افراد نئے آرڈر کو پسند کریں گے، مہذب مقامی لوگ بھی اس کو اپنی بہترین توقعات اور معیار پر پورا اترتا پائیں گئے – نوجوان اور عورتیں عرصہ دراز سے کھیل کے میدانوں کے لیے شکایت کر رہے تھے ایک صحت مند ماحول اور ثقافت یقینی طور سے انہیں پہلے سے زیادہ جگہ اور آفاق تک پہنچا دے گا – اب مزید شیشے کے سائبان نہیں ہوں گئے اور آسمان حد ہو گی –

سوال: کیا کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف اس لڑائی کا مقامی سیاست اور علاقائی تنازعات سے کوئی تعلق ہے؟

جواب : ہم ایک الگ تھلگ جزیرے پر نہیں ہیں ، ہم خطرناک پڑوسیوں اور مسابقتی سیاسی اور کاروباری دنیا میں رہتے ہیں ، اگر ہم جلدی اور تیز نہیں جاگے تو ہم پھسلنے والی جس سڑک پر عرصہ دراز سے چل رہے ہیں ہمیں نیچے لے گی – مگر کیسے ! ایسے کہ ہمارا تیل سستا اور غیر اہم ہونے کے ساتھ جلد ہی کافی سستا ہوسکتا ہے جس سے ہم اپنی ترقی اور معیار زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے کافی آمدنی حاصل نہیں کرسکیں –

وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے ، علاقائی تنازعات ہمارے خزانے نگل رہے ہیں ، ایران کی طرف سے تباہ کن مداخلت اور دہشت گردی کی سپانسر شپ کا سامنا ہمیں پریشان کر رہا ہے ، دہشت گردی کے خلاف جنگیں ہمارے وسائل کو ختم کر رہی ہیں ، ہم ان حالات میں ان لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے جو ہماری دولت چوری کر رہے ہیں جس سے ہماری ترقی کی رفتار سست اور ہماری معیشت کو ختم ہو رہی ہے –

سوال:- آخر میں بتائیں ان سب واقعات کے تناظر میں ہمارا مستقبل کیسا نظر آتا ہے ؟

جواب : میں اسے ایک تاریخی بہلاؤ کہوں گا ، جیسا کہ ہماری دنیا میں ہمارے لیے ایک نئی زندگی ہو – نئی دنیا زیادہ نوجوان ، زیادہ آگے ، ہوشیار، مہذب اور روشن ہے – مجھے اس سے پہلے ہی محبت ہے! کیا تمہیں نہیں ؟؟؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے