ضیا الحق کا دور تھا جب اہل قلم کو کوڑے مارے گئے ، ان کے خلاف مقدمے قائم کئے گئے ، اخبارات بند کر کے لاکھوں صحافیوں کی روزی چھین لی گئی اور حتی کہ ایک تقریب میں صدر موصوف نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں شاعروں اور ادیبوں سے بہت تنگ ہوں ، کیونکہ یہ ایک ایسا طبقہ ہے جو صرف سوچتا ہی نہیں کہہ بھی دیتا ہے ۔
پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی تاریخ بہت تلخ ہے اور شاید سب حقیقتیں تلخ ہی ہوتی ہیں لیکن افسوس ہے کہ انھیں قبول کر کے سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے ۔ ضیا الحق کے دور میں ہی سب سے زیادہ مقدمات صحافیوں کے خلاف قائم ہوئے ، مظہر علی خان ، عزیز ضیا اور حسین نقی ان صحافیوں میں سر فہرست تھے ۔ اور تو اور اس پر بھی بس نہیں کیا گیا کیونکہ تین صحافیوں کو اپنے حقوق کے لئے ہڑتال اور مظاہرے کرنے کے سلسلے میں کوڑے مارنے کی سزا دی گئی ۔
کتنے ہی ادیب ایسے بھی تھے جنہوں نے حالات سے تنگ آکر جلا وطنی اختیار لر لی ، جن میں فہمیدہ ریاض ، شاہد محمود ندیم اور احمد فراز شامل تھے ( بحوالہ وائس آف امریکا )
سچ تو یہ ہے کہ یوں تو پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کبھی رہی نہیں اگر ایسا ہوتا تو انیس سو اکاون سے انیس سو باون تک کے عرصے میں چالیس اخبارات پر پابندی لگ چکی تھی اور اس وقت سب جانتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم کی حکومت تھی ، معروف صحافی ایس ایم شرما کی کتاب
‘Peeps in to Pakistan’’
کی اشاعت بھی پاکستان میں روک دی گئی تھی اور نہ صرف انھیں پہلے پاکستان میں روکا گیا بلکہ بعد میں بھارت بھجوایا گیا تاہم کچھ اچھا سلوک یہاں پر بھی نہیں ہوا ۔
مانا کہ ہر دور میں صحافیوں اور ادیبوں پر پابندی لگتی رہی ہے لیکن ضیا الحق تو سب سے زیادہ ہی مہربان رہے ۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ صرف آمروں نے ہی میڈیا کو کنٹرول کیا ۔کیونکہ جنرل مشرف کے آتے ہی میڈیا کو بہت آزادی ملی بہت سے نوآموز صحافیوں کو روزگار بھی ملا لیکن یہ ایک الگ فسانہ ہے کہ بعد میں انھیں اس غلطی کا شدت سے ادراک ہوا اور میڈیا کنٹرولنگ پالیسی اپنائی گئی ۔
کئی جمہوری ادوار میں بھی اخبارات کو پریس ایڈوائس جاری کی جاتی رہی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ ساری باتوں میں یہ تو بھول ہی گیا کہ ضیا الحق کا شکریہ اتنے مظالم کے باوجود کیوں ادا کرنا ہے ؟ اسکی بہت سی وجوہات ہیں ، ضیا الحق نےایک ایسا الائو روشن کیا کہ جس میں ملک کا دانشور طبقہ ہی جل کر راکھ ہو گیا ، ادیبوں اور صحافیوں سے روزگار چھینا گیا ،ان کو معاشی مشکلات کا شکار کیا گیا ، خبروں کو ایک مضحکہ خیز سی چیز بنا دیا گیا ، اصل باتوں او رمسائل سے توجہ ہٹا کر بے معانی اور غیر ضروری چیزوں کا سہارا لے لیا گیا ۔
ٹی وی پروگراموں میں اینکرز کی جگہ مداری بٹھا دیے گئے ، میڈیا میں مالکان ہی ایڈیٹر بن گئے ، قلیل تنخواہوں پر کام کرنے والے نمائندے ہمیشہ کی طرح لقمہ اجل بنتے گئے۔
ضیا نے تو ڈیوائیڈ اینڈ رول پر کام کیا ، کون کہتا ہے کہ ضیا نے طاقت سے اقتدار پر قبضہ کیا ، اس نے تو دانشور طبقہ ہی ختم کر دیا کیونکہ نہ رہی اچھی سوچ ، نہ رہا تدبر ، نہ رہی خدمت خلق اور نہ دیانت داری ۔اس نے تو سوچ ہی ختم کر دی ، لکھنا اور کہنا تو دور رہا اس نے تو دانشور طبقے کے ذہن کو ہی قید کر دیا اس کی سوچ پر ہی پہرے بٹھا دئیے اور یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ جسمانی قید سے تو نجات ممکن ہے لیکن ذہنی غلامی سے فرار ممکن نہیں ۔
یاد رہے کہ یہاں میں نے کسی اچھے کام کرنے والے ادارے اور اس کے ملازمین کو نشانہ نہیں بنایا میں نے صرف ایک آمر کا شکریہ ادا کرنے کو کہا ہے کہ مرنے کے بعد بھی خصوصا صحافیوں ، شاعروں اور ادیبوں کے لئے اسکی پالیسیاں زندہ ہیں اتنی مستقل اور قابل عمل پالیسی تو شاید کوئی جمہوری حکمران بھی نہ بناتا ۔
مان گئے آپ کو ضیا الحق ، آپ کا بہت بہت شکریہ