ممتاز کشمیری صحافی شجاعت بخاری سری نگر میں قتل

مقبوضہ کشمیر میں ممتاز صحافی اور معروف انگریزی اخبار رائزنگ کشمیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر شجاعت بخاری کو سری نگر پریس کالونی میں جمعرات کے روز 14 جون 2018 کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دو محافظوں سمیت قتل کردیا۔ فائرنگ اس وقت کی گئی جب شجاعت بخاری ایک افطار پارٹی کے لیے جارہے تھے ۔

تفصیلات کے مطابق شجاعت بخاری ایک افطار پارٹی کے لیے لال چوک سری نگر میں واقع پریس انکلیو سے نکل رہے تھے کہ ان کی گاڑی پر تین مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرکھول دیا ۔ فائرنگ کے بعد شجاعت بخاری اور ان کے ایک گارڈ موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک گارڈ شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

فائرنگ کے بعد شجاعت بخاری اور ان کے ایک گارڈ موقع پر جاں بحق ہو گئے

سی سی ٹی وی فوٹیج کے ریکارڈ کے مطابق مسلح دہشت گردوں میں ایک نے ہیلمٹ جبکہ دیگر دو نے چہرے پر ماسک پہن رکھے تھے اور فوٹیج میں‌ان کے ہاتھوں میں اسلحہ واضح طور دیکھا جا سکتا ہے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے واقع کے بعد مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ” دہشت گردوں نے عید کے قریب یہ بزدلانہ حملہ کر کے اپنا مکروہ چہرہ دکھایا ہے” . محبوبہ مفتی واقعے کی اطلاع ملتے ہیں مقتول شجاعت بخاری کے گھر پہنچ گئیں اور ان کے خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں تین مسلح دہشت گرددیکھے جا سکتے ہیں

کشمیری رہنما عمر عبد اللہ نے کہا کہ ”اس واقعے کے بعد میں شدید صدمے میں اور یہ بدترین واقعہ ہے ۔ بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ کشمیر کے باشعور لوگوں کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے”

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ ”میں یہ خبر سن کر شدید غصے میں ہوں ، انہوں نے کہا کہ شجاعت بخاری جموں وکشمیر میں امن اور انصاف کے لیے دلیرانہ جدوجہد کرنے والا ایک عظیم انسان تھا۔”

معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے اپنی ٹویٹ میں لکھا "شجاعت بخاری کو اعتدال کی آواز بلند کرنے کی وجہ سے قتل گیا، جموں کشمیر جیسے خطے میں اعتدال پسند ہونے کے لیے بہت زیادہ حوصلے کی ضرورت ہے”

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بڑا نقصان قرار دیا ہے اور سنٹرل پریس کلب مظفرآبادکے سامنے جمعہ کے دن گیارہ بجے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے.

48 سالہ شجاعت بخاری کا شمار بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نمایاں ترین صحافیوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں کافی متحرک رہے ۔ شجاعت نے ایشن سینٹر فار جرنلزم کے فیلو کی حیثیت اینٹینیو دی منیلا یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کیا تھا اور بعد ازاں انہوں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ شجاعت بخاری کے بھائی سید بشارت بخاری بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہارٹیکلچر کے وزیر ہیں ۔

شجاعت بخاری نے ایشن سینٹر فار جرنلزم کے فیلو کی حیثیت اینٹینیو دی منیلا یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کیا تھا اور بعد ازاں انہوں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ شجاعت بخاری کے ساتھ قتل ہونے والے عبدالحمید اور ممتاز احمد ہے . شجاعت بخاری کے لواحقین میں بیوی ، بیٹا اور بیٹی ہیں .

شجاعت بخاری نے قتل ہونے سے چند گھنٹے قبل اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ "ہم نے ہمیشہ فخر اور ہمت کے ساتھ صحافت کی اور ہم زمینی حقائق کو بیان کرنا جاری رکھیں گے ”

اطلاعات کے مطابق شجاعت بخاری کے خلاف آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے چند لوگ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پروپیگنڈہ کر رہے تھے اور ان پر کشمیر کے نام پر بیرون ملک کانفرنسوں کے انعقاد کے ذریعے دولت بنانے کا الزام لگا رہے تھے جس کی شجاعت بخاری کئی بار تردید بھی کر چکے تھے .

شجاعت بخاری نے اپنی موت سے 20 منٹ پہلے کشمیر کے ایک معروف صحافی کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں‌اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ کچھ لوگ ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا رہے ہیں ، شجاعت بخاری نے مذکورہ صحافی سے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ہائی کمیشن سے بات کی جائے کہ کچھ لوگ نفرت انگیز مہم چلا کر ان کے جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں . شجاعت بخاری نے اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں‌تین افراد کے نام بھی لیے جو نفرت انگیز مہم کے ذریعے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے تھے.

مذکورہ صحافی نے بتایا کہ شجاعت نے یہ کہہ کر فون بند کیا کہ ا”س بارے میں‌وہ تفصیلی بات رات نماز تروایح کے بعد کریں‌گے لیکن صرف 20 منٹ بعد اطلاع ملی کہ وہ خون میں نہلا دیا گیا ہے ”

فائرنگ اس وقت کی گئی جب شجاعت بخاری ایک افطار پارٹی کے لیے جارہے تھے ۔

شجاعت بخاری کو گزشتہ کئی برس سے دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا تھا اور سن دو ہزار سے وہ سرکاری سیکورٹی کے ساتھ نقل و حرکت کرتے تھے ۔

شجاعت بخاری کو ان کی صحافی خدمات کی بنیاد پر کئی ایوارڈز سے نوازا جا چکا تھا ۔ علاوہ ازیں تنازع کشمیر سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں وہ سرگرمی سے شرکت کرتے رہے ہیں ۔

شجاعت بخاری گزشتہ ماہ کشمیر سے متعلق اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے اور انہوں نے خطاب بھی کیا تھا ۔ شجاعت بخاری کے بہیمانہ قتل کے بعد پوری ریاست جموں کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں صحافیوں نے اس واقعے کے خلاف جمعہ کے روز بھرپور احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے