نوازشریف فیصلہ:سوشل میڈیا پر کس نے کیا لکھا ؟

احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ کیس میں سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس ہولڈر نے اہم اور دلچسب تبصرے کیے جن میں سے کچھ کا ہم نے اپنے قارئین کے لیے انتخاب کیا ہے .

آصف محمود لکھتے ہیں کہ

کیا نواز شریف کے ساتھ ظلم ہوا؟ ہر گز نہیں ۔تو کیا یہ عین انصاف ہے؟ اس کا جواب وقت دے گا۔ اگر نواز شریف احتساب کا نکتہ آغاز ہیں تو یہ انصاف کہلائے گا لیکن اگر وہ نکتہ آغاز بھی ہیں اور نکتہ انجام بھی وہی ہوتے ہیں اور ان کے بعد احتساب کسی اور در پر دستک نہیں دیتا تو اسے انصاف کہنا مشکل ہو جائے گا۔

جیو نیوز کی جانب سے احتساب عدالت کی روز اول سے کارروائی کور کرنے والے صحافی اعظم خان کہتے ہیں کہ

اعظم خان

سمجھ نہیں آتا کہ فیصلہ اتنی جلد بازی میں کیوں کیا گیا ۔ فیصلے میں سپیلنگ کی غلطیاں ، ٹائپنگ اور گرامر کی غلطیاں نمایاں ہیں ۔ سات بار فیصلہ سنانے کا اعلان کیا گیا ۔ کئی مفروضے بھی فیصلہ کا حصہ ہیں ۔ اگر فیصلہ ٹھیک طریقے سے لکھنے کے بعد سنایا جاتا تو اس میں کیا حرج تھا ۔

احتساب عدالت کور کرنے والے صحافی اسد ملک نے خبر دی ہے کہ

لندن پراپرٹیز کے فیصلے سے قبل عدالتی اہلکار عامر نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو چیمبر میں ایک شاپنگ بیگ میں کچھ فائلیں پہنچائیں۔ ساتھ میں عدالتی مہر بھی چیمبر میں بھجوادی گئی

 

حامد میر نے لکھا کہ

حامد میر

 

نواز شریف کو قید جرمانے اور بیرون ممالک اثاثے ضبط کرنے کی سزا مل گئی لیکن آمر جنرل پرویز مشرف کے کیسز بھی کئی سالوں سے زیر التواء ہیں اور انکی بھی جائیدادیں و اربوں کے بنک اکاؤنٹس ہیں انکے کیسز کا فیصلہ کب کیا جائے گا ؟

 

 

 

 

معروف صحافی اعزاز سید نے ایک شعر لکھ کر تبصرہ کیا کہ

اعزاز سید

 

کوئی پہرہ نہیں فصیلوں پر
شہر اندر سے ہے حراست میں
“یوسف حسن”

 

 

 

 

پروفیسر طاہر ملک نے لکھا ہے کہ

پروفیسر طاہر ملک

 

‏کمزور جمہوری ادارے طاقتور کیسے ھوں گے افسوس نواز شریف کا کوئی ویژن نہ تھا . فیصلے کے بعد شہباز شریف کی بے ربط گفتگو اور قانونی دلائل کے بجائے سیاسی تقریر ثابت کررھی ھے کہ نواز شریف کے بعد شہباز شریف پارٹی کو بھنور سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے .

 

 

 

 

معروف صحافی فوزیہ شاہد لکھتی ہیں

فوزیہ شاہد

 

 

عاصمہ جہانگیر آپ کے بعد عدلیہ کی توقیر خاک میں ملائی جا رہی ہے… بڑے نامور وکلاء ہیں لیکن آپ والی جرات نظر نہیں آتی.. کوئی نہیں بول رہا….. الیکشن تک تو جی لیتی…..

 

 

 

 

 

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی فیض اللہ خان نے لکھا کہ

فیض اللہ خان

 

نواز شریف چور ہے بدعنوان ہے اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں لیکن بدقسمتی سے اسے سزا طاقتور فوج کو پارلیمان کے نیچے لانے ،منشور کے مطابق خارجہ پالیسی اور ہند سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوششوں { جرائم } پہ مل رہی ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ کرپشن تو زرداری اور ڈاکٹر عاصم نے بھی کی ہے اور بہت خوب کی ہے لیکن ” ڈیل ” کے نتیجے میں سب پاپ معاف ہیں ، مستقبل میں عمران خان سمیت کسی بھی سیاسی رہنماء نے ان سے جواب مانگنے کی کوشش کی تو اسکا یہی حال ہوگا جو نواز شریف کا ہو رہا ہے ۔۔۔۔

 

 

 

 

مبشر علی زیدی نے لکھتے ہیں کہ

مبشر علی زیدی

 

تمام شواہد دیکھنے اور گواہوں کے بیانات سننے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نیب الزامات ثابت نہیں کرسکا۔
چنانچہ ملزم کو اس کے اہلخانہ سمیت عمر قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے

 

 

 

 

 

سبوخ سید نے لکھا

سبوخ سید

 

‏نظام کی اس سے بڑی کمزوری اور کیا ہو سکتی ہے کہ کبھی منتخب وزرائے اعظم قتل کر دیے جاتے ہیں ، کبھی اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں ۔ سیاست میں فیصلے عوام کی عدالت کرتی ہے اور تاریخ ان کی زندگی یا موت کا اعلان کرتی ہے ۔‏نواز شریف واپس آئیں اور “بے نظیر “ بن جائیں ۔

 

 

 

 

راشدہ شعیب نے لکھا کہ

راشدہ شعیب

 

 

نواز شریف کے ہوئے 10 سال ، مریم نواز کے 7 سال اور کیپٹن صفدر کو 1 سال قید ۔ الحمدللّٰہ۔ الحمدللّٰہ

 

 

 

 

 

ڈاکٹر جمیل اصغر جامی لکھتے ہیں

ڈاکٹر جمیل اصغر جامی

ہمارے اداروں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھر یہ ا دارۓ انتہائی خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ شائد یہ ملک ان کی کھلواڑ کی آماجگاہ بن کے رہ گیا ہے۔ انصاف کی پہلی شرط ہے کہ وہ ہمہ گیر (across the board) ہو اور بے لاگ ہو۔ جانبدار اور یکطرفہ (selective) انصاف، انصاف نہیں بلکہ تعصب اور اور سکور سیٹلنگ کہلاتی ہے۔ اس نوع کا انصاف تو رنجیت سنگھ کے ہاں بھی کثرت سے پایا جاتا تھا۔ یہ بات ہر ذی شعور شخص پر عیاں ہے کہ ایسا انصاف کبھی بھی قانون کی بالادستی پر منتج نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا الٹا اثر ہوتا ہے اور کچھ لوگ اور طبقے ادارہ جاتی آشیر باد سے قانون سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔ باقی پوری تاریخ گواہ ہے کہ جب جب آمرانہ استبداد نے (درپردہ یا کھلم کھلا) راۓ عامہ پر شب خون مارا، توجس شے کو جواز بنایا گیا وہ یا تو کرپشن تھی یا غداری۔ قطعِ نظر اس بات کے کہ میری ایماندارانہ دانست میں آج ہماری عدلیہ کی تاریخ میں ایک اور سیاہ دن کا اضافہ ہوگیا ہے، پی ٹی آئی کے ان تمام قابل عزت دوستوں کو جو صدق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ آج نئے پاکستان کی بنیاد ڈالی جا چکی ہے، میری طرف سے بلامبالغہ دلی مبارکباد۔ اللہ کرے ان کے خواب کرچیوں میں نہ بدلیں۔ آمین۔ طرفین سے گذارش ہے کہ تہذیب اور شائستگی کا دامن نہ چھوڑیں۔ اللہ اس ملک پر رحم کرے۔ آمین۔

 

 

 

حمزہ صیاد لکھتے ہیں کہ

حمزہ صیاد

اس فیصلے پر سچی بات ہے کوئی خوشی نہیں ہے اس لیے کہ فیصلہ کرنے والے خود بھی مجرم ہیں ۔ ہمیں نوازشریف سے اختلاف صرف یہ ہے کہ اس نے جمہوریت کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لیتا رہا ۔ پہلی بار اس نے سٹینڈ لیا ہے جو ایک اچھی بات ہے لیکن اس میں کامیابی مشکل ہے ۔ کامیابی کا صرف ایک راستہ ہے وہ یہ کہ یہ کارگردگی دکھائیں ، ادارے مضبوط کریں ۔۔۔ ہمارا سسٹم بوسیدہ ہو چکا ہے ۔ نوازشریف صاحب کے زیر اثر جمہوریت کے بجائے ایک مافیا اور خوش آمدیوں کا ٹولہ پروان چڑھا ۔ ہر ادارہ اوپر سے نیچے تک کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے۔ ملک میں غربت ، بیروزگاری ، ظلم عروج پر ہے ۔ سیاست دانوں کا رویہ خود جمہوری نہیں ہے ۔ بلدیات الیکشن تک عدلیہ کے کہنے پر ہوتے ۔ میرٹ نام کی چیز نظر نہیں آتی ۔ ۔۔ عمران خان کو ہم آئیڈیل نہیں سمجھتے بس موجودہ قیادت میں اسے بہتر سمجھتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں وہ نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کرے گا ۔

 

 

 

عزیر سالار لکھتے ہیں کہ

عزیر سالار

” بندوق اور ہتھوڑے کی مشترکہ کاوش سے یہ کوئی پہلا ایڈوینچر نہیں ہے، جمہوریت کے ساتھ اس سے پہلے بھی کافی بھیانک مذاق ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اڈا بن کر دنیا سے کٹ کر رہ گیا، قائد ملت اور مادر ملت سے لے کر قائد عوام اور دختر ملت تک طاقت کے غیر جمہوری مراکز کی طرف سے جمہور کی ہر توانا آواز کو گولی، پھانسی یا جیل میں دبانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے- ظلم کا یہ چیپٹر اب کلوز ہونا چاہیے، ہم احتساب کے نام پر دیے گئے اس مکروہ دھوکے میں بار بار نہیں آئیں گے-”

 

 

 

مونا رضا لکھتی ہیں

مونا رضا

سارے نیک اور ایماندار لوگوں کو مبارک، میرے انصافی دوستوں کو مبارک ہم نے حق کی جنگ لڑی اور کامیاب ہوے. چور کو اسکے انجام تک پوھنچایا. PPP کے ان اصلی نظریاتی کارکنوں کو بیحد مبارک جو ابتدا سے اس جنگ میں ہمارے ساتھ تھے اور جانتے تھے کہ نواز کی شکل میں ضیاء زندہ ہے . نواز نے بینظیر کے خلاف جو سازشیں کی تھیں وہ کارکنوں کے دل پی لکھی تھیں آج آپ کو بھی انصاف ملا. میری طرف سے دلی مبارکباد. مجھے ڈبل مبارک، اس سے اچھا سالگرہ کا تحفہ بھلا مجھے کیا مل سکتا تھا

 

 

 

 

رعایت اللہ فاروقی نے لکھا کہ

رعایت اللہ فاروقی

کتنے معصوم ہیں جو کہتے ہیں
"پہلی بار کسی طاقتور کو سزا ہوئی ہے”

اس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا گیا مگر معصوم لوگوں کو شاید خبر ہی نہ ہو سکی۔ یا شاید کسی نے انہیں یہ بتا رکھا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو تو اتنا کمزور آدمی تھا کہ چالیس ضلعوں کے حکیم اسے کشتے کھلاتے تو تب جا کر کہیں وہ دو چار قدم چل پاتا۔ اس ملک میں بینظیر بھٹو کو بھی جیل ہوئی لیکن معصوم لوگوں کے نزدیک شاید وہ بھی بہت کمزور خواتین میں شمار ہوتی تھیں۔ آصف علی زرداری کو تو سزا سنائے بغیر دس سال تک قید رکھا گیا لیکن زرداری کو کون طاقتور مانتا ہے ؟ وہ تو اس ملک کا معمولی سا غریب ہاری ہے نا ؟ اسی لئے تو کہتا ہوں کہ سیاسی تجزیہ کاری معصوم لوگوں کے بس کی چیز نہیں۔ کیونکہ یہ مذکورہ تاریخ سے ہی لاعلم نہیں ہوتے بلکہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اسی نواز شریف کو اس سے قبل 14 سال قید اور 21 سال تک نااہلی کی سزا ہو چکی۔ کیا اس روز نواز شریف کمزور آدمی تھا ؟ آپ کس کو فریب دے رہے ہیں ؟ یہ صریح جھوٹ آخر کس مقصد کے لئے ؟

 

 

کاشف نصیر لکھتے ہیں کہ

کاشف نصیر

"فوج نے آج اپنی کرلی، کیا 25 جولائی کو عوام اپنی کرسکے گی؟”

 

 

 

 

 

 

 

حنیف سمانا لکھتے ہیں کہ

حنیف سمانا

اس وقت ہمارے نون لیگ اور جماعت اسلامی کے بھائی فیس بک پر جو تحریریں لکھ رہے ہیں. اُس میں یہ گلا نہیں کہ نواز شریف کو کیوں سزا دی.. وہ بے گناہ ہے یا معصوم ہے. بلکہ شکایت سب کو صرف یہی ہے کہ صرف نواز شریف کو سزا دی گئی. کیا وہ اکیلا کرپٹ ہے. زرداری کو کیوں نہیں پکڑا جارہا. اس قسم کی تحریریں لکھنے والے غور کریں کہ ایک طرح سے انہوں نے بھی یہ مان لیا کہ نواز شریف کرپٹ ہے. عمران خان اب چاہے وزیراعظم بنے یا نہ بنے مگر یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس نے کرپٹ حکمران کو بے نقاب کیا. اب پٹواری چاہیں تو ساری عمر سینہ کوٹتے رہیں اور جھولی پھیلا پھیلا کے عمران کو گالیاں دیتے رہیں. مگر عمران اپنے حصے کا کام کرگیا .

 

 

 

خرم مشتاق نےایک شعر لکھا

خرم مشتاق

‏جتھے ہون جہالتاں، باندر لانڑ عدالتاں
کاں کاں کرن وکالتاں، سب نو مِلن زلالتاں

 

 

 

 

 

 

فرحان احمد خان نے لکھا کہ

فرحان احمد خان

شہباز شریف کو اس موقع پر عدالت میں ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ہمت نہیں باندھی۔ فیصلے کے بعد ایک ٹھنڈی سی پریس کانفرنس کر کے فرض ادا کر دیا۔ اس صورت حال میں نہیں لگتا کہ نواز شریف کی ممکنہ آمد کے وقت وہ ان کا تاریخ ساز استقبال کر سکتے ہیں۔شہباز شریف دائمی قوتوں کے حامل اداروں کی زیادہ ناراضی مول نہیں لیں گے ۔ اس فیصلے سے بلاشُبہ تحریک انصاف اور عمران خان کی انتخابی مہم کو تقویت ملے گی۔ اس سے قبل نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ ، وزارت عظمیٰ سے معزولی اور پھر اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی محرومی کو تحریک انصاف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے جَم کر استعمال کیا۔ اب جبکہ نواز شریف کو سزا سنا دی گئی ، وہ ملزم سے مجرم قرار دیے جا چکے تو تحریک انصاف کو مناسب وقت پر ایک مؤثر کارڈ ہاتھ آ گیا ہے۔ وہ لوگ جوابھی تک شش وپنج میں مبتلا تھے ، اب ووٹ ڈالنے کے تعلق سے اپنے رجحان کا اظہار کریں گے ۔

 

 

فرنود عالم نے لکھا کہ

فرنود عالم

ایک فیصلہ عدالت نے سنانا تھا، سوسنادیا۔ ایک فیصلہ میاں نواز شریف نے کرنا ہے، کب کرنا ہے؟ یہ فیصلہ وطن واپس لوٹنے کا فیصلہ ہے! عدالت کے فیصلے میں آدھے آدھے گھنٹے کی مسلسل تاخیر نے جستجو کی سطح کو بلند کیے رکھا۔
واپسی کے فیصلے میں تاخیر خود نواز شریف کی سیاسی حیثیت کو ہی نہیں، ملک میں طاقت کے غیرجمہوری مراکز کے خلاف کسی بھی محاذ پر جاری جدوجہد کی سطح کو کم کردے گا۔ عاصمہ جہانگیر وقت کی آواز تھیں۔ عاصمہ جہانگیر نے جی ٹی روڈ سے واپسی کا کہا تھا، عاصمہ جہانگیر لندن سے واپسی کا کہہ رہی ہیں۔

 

 

 

محمود الحسن لکھتے ہیں کہ

محمود الحسن

ان پاکستانی تاریخ دانوں کے لیے جو لکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں پہلی دفعہ کسی طاقتور کو سزا ہوئی ہے.اس طاقت ور کو دوسری بار سزا سنائی گئی ہے.
اس سے پہلے ایک طاقتور ذوالفقار علی بھٹو کو ہلکی سی سزا پھانسی کی صورت میں ہوئی تھی.اس سے پہلے ایک طاقتور حسین شہید سہروردی کو ایوب خان نے جیل میں ڈالا تھا.اس کے ایک ساتھی جس نے مشرقی پاکستان سے کسی اور کے نہیں جنرل یحییٰ خان کے کرائے گئے الیکشن میں 162 میں سے 160 نشستیں لی تھیں.اس طاقتور مجیب الرحمان کو بھی گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا.لیاقت علی خان اور بینظیر بھٹو جیسے طاقتوروں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا.محمد خان جونیجو جیسے طاقتور کا سیاسی قتل ہوا.اس وقت کے آرمی چیف نے بعد ازاں تسلیم کیا کہ سپریم کورٹ جونیجو کی اسمبلی بحال کرنا چاہتی تھی لیکن میں نے پیغام بھیجا کہ اس طاقتور کی اسمبلی بحال نہ کی جائے. ایک طاقتور یوسف رضا گیلانی تھا جس کے خلاف اس کے دو کمزور ماتحت سپریم کورٹ گئے, ان میں سے ایک آرمی چیف تھا اور دوسرا آئی ایس آئی کا سربراہ.
ایک کمزور سا آدمی المعروف فاتح کارگل جس نے دو دفعہ آئین توڑا وہ قانون کے احترام میں عدالت جاتے ہوئے فوجی ہسپتال گھس گیا اور وہاں سے پھر ہو گیا.اب واپس آنے کا نام نہیں لیتا, دوسری طرف یہ نام نہاد طاقتور ہے جو دس سال قید کی سزا اپنے لیے اور سات سال قید کی سزا بیٹی کے لیے سنتا ہے اور وطن واپس آنے کا اعلان کرتا ہے.
نحیف ونزار پرویز مشرف زندہ باد, طاقتور نواز شریف مردہ باد.

 

 

شاہد اعوان نے لکھا کہ

شاہد اعوان

قوم کو مبارک۔۔۔
اگر، مگر بعد میں ہوتی رہے گی

 

 

 

 

 

 

افشاں بنگش نے لکھا کہ

I am not an NS supporter yet the real motivation behind this selective spell of ‘accountability’ disgusts me. Goodbye stability!?

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے