جشنِ آزادی اور برسات؛ حقیقت یا حسنِ اتفاق؟
پاکستان کی آزادی کا دن، 14 اگست، ہر پاکستانی کے دل میں ایک الگ ہی جذبہ اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔ قومی پرچم، قومی ترانے،
پاکستان کی آزادی کا دن، 14 اگست، ہر پاکستانی کے دل میں ایک الگ ہی جذبہ اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔ قومی پرچم، قومی ترانے،
ہر عظیم تحریک کی بنیاد درحقیقت تین ستونوں پر استوار ہوتی ہے: ایک پاکیزہ خیال جو خوابوں کو سمت دیتا ہے، ایک دلکش کشش جو
14 اگست کوئی عام دن نہیں، یہ وہ دن ہے جب غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں اور ایک آزاد قوم نے دنیا کے نقشے پر اپنا
قومی آزادی ایک ایسا تصور ہے جو کہ جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی نظریات کی آمیزش سے وجود پاتا ہے۔ یہ قوم کی خودمختاری، خود مختارانہ
14 اگست ؛ پاکستان کا یومِ آزادی، وہ دن جب ایک خواب حقیقت میں بدلا۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک جدوجہد، قربانی
پاکستان کا قیام صرف ایک جغرافیائی تقسیم نہیں تھا، بلکہ یہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک نظریاتی اور تہذیبی نجات کا اعلان تھا۔ 14
خطے کی صورتحال انتہائی سرعت سے تبدیلی کی طرف جا رہی ہے۔ کل کے دوستوں سے فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور نئے اتحاد وجود
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی بات مشکل ہے، مگر اتنی بھی
مخلصانہ تعلق انسانی زندگی کا ایک نہایت لازمی حصہ ہے۔ یہ ذاتی ترقی و بہتری، اجتماعی فلاح و بہبود، قلبی تسکین و اطمینان اور بامعنی
ہم میں سے اکثر لوگ چھوٹی چھوٹی تکالیف، ان گنت مسائل، اور زخم نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن کسی روز جب آپ شیشے کے
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے