سفید پوشی کابھرم اور ہم صحافی!
آج پھر کہانی سناؤں گا ایک صحافی کی اور یقین مانیں یہ کہانی صرف ایک صحافی کی نہیں بلکہ اس ملک کے تقریباً پچانوے فیصد
آج پھر کہانی سناؤں گا ایک صحافی کی اور یقین مانیں یہ کہانی صرف ایک صحافی کی نہیں بلکہ اس ملک کے تقریباً پچانوے فیصد
گزشتہ دنوں سینئر کالم نگار اور صحافی جناب مجیب الرحمان شامی کا شہباز شریف کی طرزِ حکمرانی پر کالم پڑھا۔ جس میں انہوں نے ان
اُردُو زبان کی بابت داغؔ دہلوی نے قریب سو بَرَس قبل کہا تھا: نہیں کھیل اے داغ ؔ یاروں سے کہہ دو کہ آتی
شروع سے سنتا آ رہا تھا کہ ہماری پولیس رشوت خور اور کرپٹ ہے ، بے ایمان ہے ، وقت پر کام نہیں کرتے ،
چند روز قبل ہونے والے بم دھماکوں اور ان کی وجہ سے پھیلنے والے خوف وہراس نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق کئی سوالات جنم
سوشل میڈیا پر کبھی کبھار ایسے افکار بھی نظر آ جاتے ہیں کہ ان کی داد دیے اور حسبِ مقدور اضافہ کیے بغیر رہا نہیں
معاشرہ بدعملی اور بےعملی کے درمیان کہیں پھنسا ہوا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ حکومت سمیت تمام ادارے بھی بے حسی کی دلدل میں دھنستے
چھوٹی سی خبر ایک بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہی ہے ۔روزنامہ جنگ راولپنڈی کے صفحہ تین پر ایک سنگل کالم خبر کے
دلیل پر جامعہ اشرفیہ میں علمائے دیوبند کی ایک کانفرنس کے اعلامیے پر جناب حسن الیاس کا تنقیدی مضمون دیکھا. آنجناب کی اصل خوبی یہی
موہن داس کرم چند گاندھی جسے ہندوستان کی تاریخ مہاتما گاندھی کے نام سے جانتی ہے۔ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے ایک انمٹ اور ناقابلِ
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے