خود کش حملوں کی شرعی حیثیت
اگر حالت ِجنگ میں خود کش حملوں میں تین شرائط پوری کی جائیں تو ان کو بین الاقوامی قانون کی رو سے ناجائز نہیں کہا
اگر حالت ِجنگ میں خود کش حملوں میں تین شرائط پوری کی جائیں تو ان کو بین الاقوامی قانون کی رو سے ناجائز نہیں کہا
ایسا ہی ہے لعل و لال قلندر لال جہاں قبر پر پڑی لال چادر خون کے لال اڑتے چھینٹے یوں جذب کر لے جیسے جزو
ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دہشت گردوں نے حکومت اور سکیورٹی فورسز سے درخواست کی ہے کہ انہیں ملک بھر میں دہشت گردی کی
وطن عزیز میں دہشتگردی کی نئی لہر سات فروری کو چمن میں بم دھماکہ سے شروع ہوئی۔۔ 16فروری دو ہزار سترہ تک دس دنوں میں
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مُلک بھر میں دہشت گردی کی کئی وارداتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور کے خود کش حملے سے جس لہر
کچھ ہفتے پہلے نیشنل سکیورٹی ایڈوائز جنرل ناصر جنجوعہ کی ایک بریفنگ میں ان کے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے سیکرٹ ایجنسیوں کے
سانحہ لاہور کے بعد پنجاب میں ایک مرتبہ پھر پکڑ دھکڑ اور ماردھاڑ کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے خصوصی ادارے سی
ملک میں اچانک دہشت گردی کا جن اس انداز میں بے قابو ہوا ہے کہ اچھی بھلی سوچ کے انسان کی بھی سوچنے سمجھنے کی
پانی سر سے گزر چکا۔ حقائق تلخ ہیں لیکن اب سامنا کیے بغیر چارہ نہیں۔ دہشت گردی کے تین اسباب ظاہر و باہر ہیں۔ ایک
کیا ہم دہشت گردی کی لہر کو بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اور دہشت گرد تنظیمیں، جن پر ضربِ عضب نے کاری ضرب لگائی تھی،
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے