سانحہ کوئٹہ جیسے سانحات کیوں!
آج پھر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔کوئٹہ خون میں لت پت اورپاکستان کی فضاء سوگوار ہے ۔ہر دل رنجیدہ ہے کہ آخر
آج پھر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔کوئٹہ خون میں لت پت اورپاکستان کی فضاء سوگوار ہے ۔ہر دل رنجیدہ ہے کہ آخر
محترم ہارون الرشید صاحب نے یکم اگست کو اپنے کالم ’’آدمی اپنا جج خود نہیں ہوتا ‘‘میں لکھا: ’’1977ء کی انتخابی دھاندلی کے بعد بھٹو
کچھ روز ہوئے پرانے کاغذ دیکھتے ہوئے پابلونرودہ کی ایک نظم کا انگریزی ترجمہ ملا۔ اس تڑے مڑے کاغذ کے ٹکڑے کا تعلق اُن دنوں
ایک تو کشمیر بذاتِ خود تاریخی المیہ ہے اس پر مزید المیہ یہ کہ کشمیر کا مسئلہ یا تو آپ بھارت کی عینک سے دیکھ
جنریشن گیپ کا سادہ اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں موجود عمر رسیدہ افراد اور ان کے بچوں یا چھوٹوں کے رویوں اوراقدار
عام آدمی کو سستے اور فوری انصاف کی عدم فراہمی کی سب سے بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی ہے ۔قانون نافذ
سوشل میڈیادورحاضر میں ایک ایساذریعہ ابلاغ ہے جس پر ہر شخص کواختیار حاصل ہے۔اس کا استعمال بلاامتیاز ہر پاکستانی کرسکتاہے،جس کا عملی اظہارسوشل میڈیا میں
یہ 2018ء کے بعد کا زمانہ ہے،عام انتخابات میں منتخب ہونے والے وزیراعظم کو اپنے دور اقتدار میں پہلی دفعہ سنگین سیاسی بحران کا سامنا
وی سی آر۔۔۔ اسمارٹ فون کے بخار میں تپنے والی نئی نسل کے لیے اس تین حرفی چیز کی واقعی کوئی قدر و قیمت نہ
الیکٹرانک جرائم پر پابندی والے تکراری بل کی سینٹ سے منظوری کے بعد باشعور حلقوں میں پریشانی اور بے چینی پھیل گئی ہے۔ سول سوسائٹی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے