زندہ ہیں صحافی؟
پھر ایک بار کئی گھروں میں سوگ منایا گیا، اس مرتبہ یہ بزدلانہ کارروائی اس مہینے میں کی گئی جس میں ہم بڑے جوش و
پھر ایک بار کئی گھروں میں سوگ منایا گیا، اس مرتبہ یہ بزدلانہ کارروائی اس مہینے میں کی گئی جس میں ہم بڑے جوش و
کبھی من پسند ڈرامہ یا فلم دیکھ رہے ہوٕں اور اختتام سے پہلے لائٹ چلی جائے، کوئی دلچسپ کتاب یا افسانہ پڑھ رہے ہوں اور
دن بھر فیلڈ میں سینہ تان کر صحافت کرنے والے ہم رپورٹر و کیمرہ مین کی اصل اوقات کیا ہے یہ کسی کو نہیں معلوم
کبھی کبھی موت اتنی ارزاں ہو جاتی ہے کہ کسی کے مرنے پر صرف اعدا و شمار گن کر پھر سے نئی اموات کا انتظار
ہمیں حکومت اور اس کے اداروں سے نہ پہلے کوئی شکوہ تھا نہ آج ہے… شکوہ ان سے ہوتا ہے جن سے توقع ہو _
لوگ اپنی محدود حیات میں گوناگون قضایا اور مسائل کا سامنا کرتے ہیں – واضح ہے کہ سارے مسائل اہمیت , درجات اور نوعیت کے
آج پھر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔کوئٹہ خون میں لت پت اورپاکستان کی فضاء سوگوار ہے ۔ہر دل رنجیدہ ہے کہ آخر
محترم ہارون الرشید صاحب نے یکم اگست کو اپنے کالم ’’آدمی اپنا جج خود نہیں ہوتا ‘‘میں لکھا: ’’1977ء کی انتخابی دھاندلی کے بعد بھٹو
کچھ روز ہوئے پرانے کاغذ دیکھتے ہوئے پابلونرودہ کی ایک نظم کا انگریزی ترجمہ ملا۔ اس تڑے مڑے کاغذ کے ٹکڑے کا تعلق اُن دنوں
ایک تو کشمیر بذاتِ خود تاریخی المیہ ہے اس پر مزید المیہ یہ کہ کشمیر کا مسئلہ یا تو آپ بھارت کی عینک سے دیکھ
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے