زندہ ہیں صحافی؟

پھر ایک بار کئی گھروں میں سوگ منایا گیا، اس مرتبہ یہ بزدلانہ کارروائی اس مہینے میں کی گئی جس میں ہم بڑے جوش و خروش سے اپنی آزادی کا جشن مناتے ہیں۔ ہمارے وکیل بھائیوں کے ساتھ ہمارے دو صحافی بھی شہداء کی فہرست میں شامل ہوئے، دہشت گرد ایک بار پھر منظم انداز میں آئے پہلے بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر کو گولیاں ماریں ، جب انہیں ہسپتال لایا گیا تو بڑی تعداد میں وکیل وہاں جمع ہوئے اور ان کی کوریج کے لیے صحافیوں کی ٹیمیں بھی وہاں موجود تھیں، اسی وقت سفاک دشمنوں نے دھماکہ کردیا جس کی زد میں آکر کئی لوگ شہید ہو گئے۔

اپنے شہید ہونے والے ساتھیوں کے لیے صحافیوں نے قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کیا، صحافتی تنظیموں کا احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا، پھر وہی نعرے سنے ۔۔ زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔۔تو لگا جیسے کسی نے کانوں میں لوہے کی گرما گرم سلاخ گھسیڑ دی ہو۔۔ کیا مذاق ہے یہ؟ زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔ ہر ظلم کے آگے ، زندہ ہیں۔۔ ظالم کے آگے زندہ ہیں، یہ بھوکے رہ کے، ہر ظلم سہہ کے زندہ ہیں۔۔ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ کئی برس قبل ہمارا ایک ساتھی حیات اللہ خان قبائلی علاقہ میں مارا گیا، نامعلوم افراد نے اسے مارا۔۔۔ ہم نے احتجاج کیا، پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف نعرے مارے، اپنے عزم کے اظہار کے طور پر نعرہ بنا۔۔ زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔ کوڑے بھی کھا کے زندہ ہیں، حیات بھی دے کر زندہ ہیں۔

پھر ایک ایک کرکے ظالم نامعلوم افراد نے حیات اللہ کا سارا خاندان قتل کر دیا۔۔ ہم پھر بھی کہتے رہے زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں، پھر موسیٰ خان خیل، ابراہیم خان، محمد عمران۔۔ کتنے نام لوں ۔۔۔ اسماعیل خان کا نام لوں۔۔ زندہ ہیں؟ ڈاکٹر عامر وکیل۔۔۔ مارا گیا۔۔۔ پھر بھی زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔۔راجہ اسد حمید کو دن دہاڑے مارا گیا ۔۔۔ مگر زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔ ولی خان بابر مارا گیا۔۔۔ مگر صحافی پھر بھی زندہ ہیں۔۔

خضدار پریس کلب کے عہدیدار ہیں یا سکھر کے مقامی صحافی۔۔ کسی بڑے شہر سے تعلق ہو یا چھوٹے سے قصبے سے۔۔ بس صحافی ہے۔۔ اسے مار دو۔۔ کیا فرق پڑتا ہے بس ایک دو روز مظاہرے ہوں گے، صحافی گلا پھاڑ پھاڑ کے چلائیں گے۔۔۔ زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔۔ پھر بے حسی کی چادر تان کر سو جائیں گے۔۔ مرنے والے تو مر گئے اب مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جا سکتا ۔۔ اس لیے بس ایک نعرہ لگائے جاؤ۔۔۔ زندہ ہیں صحافی ۔۔ زندہ ہیں ۔۔

چلیں اگر اسے زندہ ہونا کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔ ظاہر ہے شہید تو زندہ ہی ہوتے ہیں۔۔ مگر بھوک سے تڑپتے اس شہید کے بچوں کو کیسے بتائیں کہ صحافی زندہ ہیں کہ اس نے تو یہ دیکھا ہے کہ اس کی باپردہ ماں نے اس کے باپ کے رخصت ہونے کے بعد لوگوں کے گھروں میں کام شروع کر دیا ۔۔ پھر بھی اسے پیٹ بھر کھانا میسر نہیں۔۔ وہ کیسے آپ کے نعرے کو مانے گا، زندہ ہیں صحافی ۔۔ زندہ ہیں۔زندہ ہیں تو میرے بابا گھر کیوں نہیں آتے؟ میرے گھر میں اب پھل کیوں نہیں آتا، میں اب کیوں گوشت نہیں کھا سکتا؟کیوں میرے نصیب میں اب لوگوں کا بچا کچھا کھانا رہ گیا ہے؟ میرے بابا زندہ تھے تو ہمارا گھر ایسا تو نہیں تھا، بابا کی تنخواہ میں دیر بھی ہو جاتی تھی تو پی ٹی وی کے پروگرام کے چیک آ جاتے تھے جن سے گزارا ہو جاتا تھا۔۔ وہ کوئی مشاعرہ پڑھ لیتے تھے وہاں سے کچھ اضافی رقم آ جاتی تھی۔میں نئے کپڑے بھی بنواتا تھا، بابا میری تمام فرمائشیں بھی پوری کرتے تھے، اب کسی چیز کی فرمائش کروں تو کئی گھنٹے ماں روتی رہتی ہے، میں ماں کے رونے کے خوف سے اب فرمائش کرنا بھی بھول گیا ہوں۔کیا صحافی زندہ ہیں؟ واقعی یہ زندہ ہیں ؟ اگر واقعی زندہ ہیں تو ان کے دوست بھی ہم سے نہیں ملتے۔۔

میرے بابا کے دفتر نے بھی تو تنخواہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، حکومت کی جانب سے بھی اعلان ہوا تھا کہ شہید ہونے والے صحافیوں کے بچوں کی کفالت کی جائے گی، کیا انہیں اب تک میرے بابا کے شہید ہونے کا یقین نہیں آیا یا پھر آئی ایم ایف نے یہ مدد کرنے سے حکومت کو روک دیا ہے؟

کیسے کیسے خواب دیکھے تھے میرے بابا نے۔۔وہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ باجی کی شادی دھوم دھام سے کریں۔۔ لیکن کیسے ہوگا یہ سب کچھ۔۔ ماں جی گھروں میں کام کر کے جتنا کماتی ہیں اس سے تو ہم صرف گھر کا کرایہ دے سکتے ہیں، روکھی سوکھی روٹی کھا سکتے ہیں۔۔فیس نہ دینے پر ہم دونوں کا نام سکول سے کاٹ دیا گیا ہے۔۔ کیا کوئی ایسا سکول یا کالج ہے جہاں میں مفت میں تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بن کے بابا کے خواب کو تعبیر دے سکوں۔۔۔ یا پھر صرف یتیم بچوں کے سکول میں مجھے جانا ہو گا۔۔ لیکن میں کسی یتیم بچوں کے سکول میں کیوں جاؤں، میرے بابا تو زندہ ہیں۔۔۔ میں نے کل بھی ایک مظاہرے میں سنا تھا، زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔یہ نعرے میرے بابا کے دوست لگا رہے تھے۔۔

کیسے کہوں ان بچوں سے ۔۔ بیٹا یہ صرف نعرے ہیں۔۔ ہم زندہ لوگ بھی روز مر مر کے جیتے ہیں، ہمیں اپنے روزگار کا بھی نہیں معلوم ۔۔ کل نوکری پر ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔۔ کیسے کہوں بیٹا جن مالکان نے زندہ لوگوں سے جینے کا حق چھین رکھا ہے وہ تمہارے دنیا سے رخصت ہونے والے بابا کی تنخواہ جاری رکھنے کا وعدہ کیسے پورا کریں گے۔۔ کل ہی تو سنا ہے ایک کیمرہ مین ڈیوٹی کے دوران زخمی ہوا تو اس کے ادارے نے اس کے علاج کے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا، آج وہ کیمرہ مین چلنے سے معذور ہے تو اس کے ادارے نے اس کی تنخواہ روک دی ہے، علاج معالجے پر مزید رقم خرچ کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اس کا علاج صرف بیرون ملک ہی ممکن ہے، اب کسی غریب ملازم کی یہ قسمت تو نہیں ہو سکتی کہ وہ بیرون ملک جائے جہاں یہ مالکان ہر سال کئی بار چکر لگاتے ہیں۔۔ لیکن یہ لوگ اتنے با اثر ہیں کہ ان کے خلاف کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ، کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔۔

ہاں ہم صرف مظاہروں کے لیے رہ گئے ہیں۔۔ چینل مالکان کا ایشو ہوگا تو ہمارا مظاہرہ لائیو ٹیلی کاسٹ بھی ہو گا۔۔ ہم پھر کہیں گے زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔ اور شہید ہونے والے صحافیوں کے بچے اپنے گھر کے دروازے کی جانب دیکھیں گے ۔۔ اگر زندہ ہیں تو ان کا بابا ان کے لیے پھل ، گوشت اور تازہ کھانا لائے گا۔۔ مگر ہم پھر بھی کہتے رہیں گے زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں۔۔۔یہ بھوکے رہ کے زندہ ہیں، ہر ظلم سہہ کر زندہ ہیں۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے