سبیل سے بندوق تک
۱۹۸۶-۸۷ میں میری عمر سات برس تھی – ہمارا محلے میں سنی اکثریت میں تھے اور شاید دو چار شیعہ خاندان بھی آباد تھے یہ
۱۹۸۶-۸۷ میں میری عمر سات برس تھی – ہمارا محلے میں سنی اکثریت میں تھے اور شاید دو چار شیعہ خاندان بھی آباد تھے یہ
مجھے مستقل چھ سال دینی مدارس میں پڑہنے کا شرف حاصل رہا . مدارس کا ایک رخ تو فکری ہے. اس نظام فکر پر ہم
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جزوی طور پر اسلا مک سٹیٹ
کینڈا میں منتخب ہونے والے نئے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی انخابات میں کامیابی اور ان کی پر کشش شخصیت کے ساتھ ساتھ تمام کیمیونٹی میں
نانا جی مرحوم پکے سُنی تھے۔ جب میرے والد صاحب گاؤں پھمہ سرا چھوڑ کے نوشہرہ ورکاں آئے تو نانا جی بھی ٹھٹھہ مانک چھوڑ
شیعہ اور سنی میں جھگڑا کس بات کا ہے؟لہو رنگ زمینی حقیقتوں کے باوجود میرے پیش نظر چند دنوں سے یہی ایک سوال ہے۔ میں
ساتویں جماعت میں تھا _ شام کو پڑھنے ٹیوشن جاتا تھا _ایک دن ٹیوشن والے انکل نے مذہب سے متعلق ایک سوال کیا _ وہ
کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسروں کے بارے میں ہمارے خیالات، تصورات اور رویے، غلط فہمیوں، تعصبات، افواہوں، زبان زد عام عامیانہ تصورات ، خود
گلگت بلتستان میں حالیہ چند روز سے ایک مرتبہ پھر آئینی حقوق کے حوالے سے ایک نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس کا آغاز
مذہبی و سماجی ہم آہنگی میں ایک بنیادی مشکل قریب کا رقیب ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی نسبتاً آسان کام ہے۔ اسی طرح بین الثقافتی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے