ماہ دسمبرکا دکھ؟
ہیگل اس نظریہ کا قائل ہے کہ معاشرے میں (Challenges) سے نمٹنے کیلئے مسلسل ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو قومیں عرصہ دراز سے کسی
ہیگل اس نظریہ کا قائل ہے کہ معاشرے میں (Challenges) سے نمٹنے کیلئے مسلسل ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو قومیں عرصہ دراز سے کسی
مولانا فضل الرحمٰن نے ایک جلسے میں کہیں یہ کہہ دیا کہ وہ پاکستان میں لبرل ازم کو پنپنے نہیں دینگے تو اس پر وہ
سادہ میاں صاحب نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو انہیں سادہ سمجھتے ہیں۔ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ
پاکستان میں لاکھ خامیاں سہی، یہ ریاست جیسی کیسی سہی۔ مگر اس کے لوگ ایک انمول خوبی سے مالا مال ہیں۔ یعنی سب کھونے کے
بڑا اور مقبول لکھاری بننے کے لیے بہت وسیع ذخیرۂ الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایک بڑا لکھاری وہ ہے جس کی شخصیت میں
آقائے مدنی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا گیا ہے. چونکہ کائنات
18 دسمبر 1973 کو اقوام متحدہ نے عربی زبان کو اپنی رسمی زبانوں میں شامل کیا۔اس سے پہلے انگریزی ،ہسپانوی،روسی،چینی ،فرانسیسی اور جرمن زبانوں کو
پچھلے ہفتے ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال نے یہ ٹویٹ کی کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے لیے باعث ذلت ہیں اس لیے انہیں
کیا یہ معرکہء حق و باطل ہونے والا ہے جس کی جانب پوری مسلم امت دو واضح گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک جانب
سوات۔۔۔ جو قدرت کے حسن کا مظہر اور دلکش نظاروں کی وادی ہے۔سرسبزوشاداب وادیاں، بہتے جھرنے، شورمچاتی آبشاریں ، خراماں خراماں چلتی ندیاں اس خطے