ساشے سائز دانشور کے ساتھ مکالمہ
گاڑی میں بیٹھا آفس جا رہا تھا، پاس بیٹھے شخص نے پوچھا "کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا صحافت کا طالب علم ہوں. بندہ بولا،
گاڑی میں بیٹھا آفس جا رہا تھا، پاس بیٹھے شخص نے پوچھا "کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا صحافت کا طالب علم ہوں. بندہ بولا،
اشفاق احمد، پاکستان کے قابل احترام مصنفین میں سے ایک ہیں، انھوں نے اپنی فلسفیانہ گہرائی کو استعمال کرتے ہوئے ادب کے لازوال شاہکار تخلیق
ایک افسانہ تراشنا اور پھر اسے واقعہ بنا کر پیش کرنا۔ اسی کو ‘پوسٹ ٹروتھ‘ کہتے ہیں۔ اگر اسے سوشل میڈیا کے پاؤں لگ جائیں
انگریزی کا محاورہ ہے کہ قبرستان ناگزیر افراد سے بھرا پڑا ہے۔ شیکسپئیر دنیا کو ایک اسٹیج اور انسانوں کو محض کردار کہتا ہے جہاں
ہیلو چنے والے بھائی صاحب، کارخانو کو کون سا راستہ جا رہا ہے۔ جی، جرگے میں جا رہے ہو کیا؟ پولیس والے سے پوچھا، کوکی
ایوان صدر اسلام آباد میں چین کے وزیراعظم لی چیانگ کے اعزاز میں استقبالیہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے جشن میں تبدیل ہو چکا تھا،
میں نے تہیہ کیا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر کالم نہیں لکھوں گا کیونکہ ڈاکٹر صاحب پر اب تک ڈیڑھ پونے دو سو کالم
منظور پشتین نے بلاشبہ ایک اچھا اجتماع کیا ، پشتونوں نے اسکی آواز پر لبیک کہا ، لاکھوں لوگ جمع ہوئے اور ریاست کے سامنے
پشتون جرگے کی مختصر کہانی مکمل ہے، مگر سندھ سے پہنچنے والی تین تصویروں نے توجہ کھینچ لی ہے۔ یہ تصاویر تین دن بعد پشاور
چھبیسویں آئینی ترمیم کی ’اُونٹنی‘، آئندہ چار چھ دِنوں میں کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائیگی۔ دو ہی ممکنات ہیں۔ ایک یہ کہ ترمیم کسی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے