خوشامد اور علاقائی وقار کا زوال
گلگت بلتستان کے لوگوں میں خوشامد پسندی، چاپلوسی اور چمچہ گیری ایک ایسی خطرناک بیماری بن چکی ہے، جس نے ہمارے معاشرتی، سماجی اور علاقائی
گلگت بلتستان کے لوگوں میں خوشامد پسندی، چاپلوسی اور چمچہ گیری ایک ایسی خطرناک بیماری بن چکی ہے، جس نے ہمارے معاشرتی، سماجی اور علاقائی
ایک وہ سنہری عہد تھا جب گلگت بلتستان کی وادیوں سے لوگ دیامر کی سرزمین پر تجارت اور مزدوری کی غرض سے آیا کرتے تھے۔
لاہور میں ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہوتے تھے جن کی بڑی شہرت تھی، موصوف نے اپنے کلینک میں فیس مشورہ پانچ ہزار روپے لکھ کر
پروفیسر عبدالعزیز نے ایک روز کہا، "حقانی صاحب، بابوسر نہ چلیں۔” ہم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "چلاس آئے ہیں تو بابوسر تو جانا ہوگا۔”
میری آج کی تحریر”گروپ بندی” کے حوالے سے ہے، آج میں بات کروں گی گروپ بندی کے حوالے سے گروپ بنانے کا مقصد کیا ہوتا
گلگت بلتستان میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی حالیہ اندرون جماعت انتخابی سرگرمیوں نے ایک بار پھر اس جماعت کو مقامی سیاسی منظرنامے
کسی بھی انقلاب کا جائزہ لیتے ہوئے دو اہم پہلوؤں کو دیکھا جاتا ہے. پہلا یہ کہ اُس انقلاب سے قبل کیا صورتحال تھی اور
بہاولپور آبادی کے لحاظ سے پنجاب کا چھٹا بڑا شہر ہے، جہاں پر مختلف کمیونیٹیز کے لوگ آباد ہیں ،جن میں خواجہ سرا کی بھی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکر یا آپ کے اوصاف و محاسن اورعبادات و معاملات کا ذکر، حتی کہ جس
تضادستان کے سبزی خوروں میں آلو اور بینگن کا سالن بہت مقبول رہا ہے۔ 1954ء سے ہی عسکری آلو اور عدالتی بینگن مل کر بھنڈی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے